جی این این سوشل

پاکستان

عمران خان پیش نہ ہو تو گرفتار کرنا چاہئے، مریم اورنگزیب

”گھڑی چور، توشہ خانہ چور پیش ہو“ کی آوازیں لگائی جا رہی ہیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عمران خان پیش نہ ہو تو گرفتار کرنا چاہئے، مریم اورنگزیب
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ”گھڑی چور، توشہ خانہ چور پیش ہو“ کی آوازیں لگائی جا رہی ہیں لیکن عمران خان غائب ہے، عمران خان پیش نہ ہو تو گرفتار کرنا چاہئے، جیل بھرنے کا شوق بھی پورا ہو جائے گا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ عدالت پوچھ رہی ہے کہ ملزم کہاں ہے؟ جواب ملا ”وقت کا نہیں بتا سکتے“عدالت پوچھ رہی ہے کہ ملزم کس وقت پیش ہوگا، جواب ملا ”عمران خان سے رابطہ نہیں ہو رہا“عدالت گھڑی چور کی حاضری کا پوچھ رہی ہے جو اب تک پیش نہیں ہوا، فارن ایجنٹ ضمانت کرانے بینکنگ کورٹ پر مہربانی کر رہا ہے،

توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد ہونی ہے وہاں سے بھی یہ مفرور ہے، واہ بھئی واہ۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف بیٹی کے ہمراہ روز عدالت پیش ہوسکتا تھا تو عمران خان، بشریٰ بی بی اور فرح گوگی کے ساتھ کیوں نہیں پیش ہو سکتا؟

عمران خان دیکھا ! وقت آنے پر جواب خود ہی دینا پڑتا ہے، بشریٰ اور گوگی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھڑی چور اور فارن ایجنٹ براہ راست جیل عدالت جائیں گے یا سیدھا عدالت۔

گھڑی چور فارن ایجنٹ جواب دینا کہ توشہ خانہ کیوں لوٹا؟ خانہ کعبہ کی گھڑی کیوں بیچی؟ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کے ہیروں کے ہار کیوں بیچے؟ عدالت میں پیش ہوکر جواب دیں۔

انہوں نے کہا کہ فارن ایجنٹ جواب دیں کہ خیرات کے پیسے سیاست پر کیوں لگائے؟ اپنے ملازمین کے نجی اکائونٹس کو منی لانڈرنگ کے لئے کیوں استعمال کیا؟ شوکت خانم ہسپتال کی خیرات کا پیسہ پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹی میں کیوں لگایا؟

ووٹن کرکٹ کلب سے لاکھوں ڈالر کیوں لئے؟ خیرات کا پیسہ سیاست میں کیوں لگایا؟ فارن فنڈنگ ملک کے خلاف کیوں استعمال کی؟۔\

 

تجارت

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی ذمہ داری سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے،وزیراعظم شہبازشریف نےقیمتیں مقرر کرنے کا حکومتی اختیارختم کرنے کی ہدایت کردی۔

ذرائع کے مطابق قیمتیں بڑھانے کےنتیجے میں حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے،قیمتیں کم ہونے کی صورت میں حکومت کو مطلوبہ عوامی ستائش نہیں ملتی۔جس پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مرحلہ وار قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دینے کی تیاری کرلی گئی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر پیٹرولیم نے اہم اجلاس کل طلب کرلیا۔چئیرمین اوگرا کو قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کے اثرات اور لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا حتمی فریم ورک وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔

پیٹرولیم ڈیلرز نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو قمتیں مقرر کرنے کااختیار دینے کی مخالفت کی تھی۔ ان کاکہناہے کہ کھلا اختیار ملنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب ناجائز منافع خوری کا خدشہ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، سپریم کورٹ جج

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا

نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا نام لینا نہیں چاہ رہاجس نے عدم اعتماد کے وقت ایسا ماحول بنایا جیسے مارشل لاء لگنے والا ہے، میں چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر1999  کوکھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیراعظم کوباہرپھینکا،اسلام آباد ہائی کورٹ بھی رات کو کھولی گئی کیونکہ ٹی وی چینل نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ مارشل لاء لگنے والا ہے۔ کسی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانےکی کوشش کی ہوتی تویہ امتحان اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوتا کہ وہ آئین کی بالادستی کےلیےکھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔ 

جسٹس اطہر نے مزید کہا کہ جو لوگ 2022 تک میرے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے وہ اچانک تبدیل ہوگئے، آج پروپیگنڈا وہ کررہے ہیں جنہوں نے اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ سے فائدہ اٹھایا تھا، اس وقت انہیں ملک کی کوئی ہائیکورٹ ریلیف نہیں دے رہی تھی، یہ جج کا اصل امتحان ہوتا ہے جس سے جج اور عدالت پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، تنقید سے جج کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

کوئٹہ : تربت میں زلزلے کے جھٹکے

تفصیلات کے مطابق زلزلے کا مزکز تربت سے 24 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کوئٹہ : تربت میں زلزلے کے جھٹکے

کوئٹہ : کوئٹہ تربت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔ 

تفصیلات کے مطابق زلزلے کا مزکز تربت سے 24 کلومیٹر مغرب کی جانب تھا ۔ 

زلزلہ پیما کے مطابق زلزلہ کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی ہے ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll