جی این این سوشل

پاکستان

تحریک انصاف نے 26 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت مانگ لی

پاکستان تحریک انصاف نے 26 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت مانگ لی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

تحریک انصاف نے 26 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت مانگ لی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان تحریک انصاف نے 26 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت مانگ لی۔

پی ٹی آئی لاہور کے صدر شیخ امتیاز نے ضلعی انتظامیہ کو درخواست جمع کرائی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ صدرپی ٹی آئی اورضلعی انتظامیہ کے آج شام مذکرات ہوں گے۔

صدرپی ٹی آئی لاہور کا کہنا تھاکہ ضلعی انتظامیہ نےابھی تک جلسے کی تحریری اجازت نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ جلسے کیلئے ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا ہے اور کل سماعت ہوگی۔

علاقائی

عدالت کا عظمیٰ بخاری کو مبینہ نازیبا ویڈیو کے معاملے پر ایف آئی اے سے رجوع کا حکم

فلک جاوید نامی خاتون نے درخواست گزار کی ٹوئٹر پر جعلی نازیبا ویڈیوز اپ لوڈ کیں، درخواست میں موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عدالت کا عظمیٰ بخاری کو مبینہ نازیبا ویڈیو کے معاملے پر ایف آئی اے سے رجوع کا حکم

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ نازیبا ویڈیو کے معاملے پر لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کو ایف آئی اے سے رجوع کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے عظمیٰ بخاری کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں ایف آئی اے، وزارت داخلہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ فلک جاوید نامی خاتون نے درخواست گزار کی ٹوئٹر پر جعلی نازیبا ویڈیوز اپ لوڈ کیں، پہلے بھی فلک جاوید مختلف ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ فلک جاوید کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے، عدالت ایف آئی اے کو مبینہ ویڈیو کی فوری تحقیقات کا حکم دے کر رپورٹ طلب کرے۔

دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم نے عظمیٰ بخاری کو ایف آئی اے سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ تمام ثبوت ایف آئی اے کو دیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے پٹیشن کے ساتھ عظمیٰ بخاری کی تصاویر سوشل میڈیا سے فوری ہٹانے کا حکم دے دیا اور درخواست گزار کو درخواست میں ترمیم کی ہدایت بھی کر دی۔

عدالت عالیہ نے ریمارکس میں کہا کہ آپ قانون کے مطابق ایف آئی اے میں کمپلینٹ فائل کریں، جس پر عظمیٰ بخاری کے وکیل نے کہا کہ فلک جاوید ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہی ہے اس کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔

جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ آپ ای سی ایل سے متعلق بھی درخواست متعلقہ اتھارٹی کو دیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چیف جسٹس قاضی فائز ہمارے مقدمات نہ سنیں، عمران خان نے ججز کمیٹی میں درخواست دائر کر دی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بنچ میں موجودگی سے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملنے کی امید نہیں، درخواست

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چیف جسٹس قاضی فائز ہمارے مقدمات نہ سنیں، عمران خان نے  ججز کمیٹی میں درخواست دائر کر دی

بانی چیئرمین اور تحریک انصاف کے سپریم کورٹ میں مقدمات کے معاملے میں عمران خان نے چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ کمیٹی میں درخواست دائر کردی۔

عمران خان نے درخواست میں موقف اپنایا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرا، تحریک انصاف، سنی اتحاد کونسل یا پی ٹی آئی اراکین کا مقدمہ نہ سنیں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ 2019 میں قانونی ماہرین کے مشورے پر قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس بھیجنے کی سفارش کی، میری آئینی ذمہ داری کو معزز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ذاتی حملہ تصور کیا، غلط تاثر کی بنیاد پر سرینا عیسیٰ نے میرے خلاف عوام میں زہر اگلا۔

دائر درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ کے اقدامات سے اتفاق کیا، درخواست گزار سمجھتا تھا کہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ ماضی کو بھلا دیں گے تاہم چیف جسٹس کے کنڈکٹ سے بالکل واضح ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

درخواست میں مزید موقف اپنایا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بنچ میں موجودگی سے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملنے کی امید نہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹراکورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا جبکہ سابق وزیراعظم نے تحریری جواب میں اپیلیں خارج کرنے سمیت چیف جسٹس پاکستان پر اعتراض اٹھاتے ہوے کیس سے الگ ہونے کی بھی استدعا کی۔

علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان رؤف حسن نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کئی دفعہ چیف جسٹس کو بولا کہ وہ ہمارے کیسز سے خود کو الگ کر دیں، ہمیں یقین ہے نہ عامر فاروق سے اور نہ قاضی فائز عیسیٰ سے انصاف ملے گا، دونوں کا رویہ بھی ایک جیسا ہے۔

رؤف حسن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلی دفعہ تحریری طور پر لکھا ہے، بانی چیئرمین کے خط میں جسٹس گلزار کے فیصلے کا ریفرنس بھی دیا ہے، چیف جسٹس پرعدم اعتماد کی بہت ساری وجوہات ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پرعدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے انصاف نہ ملنے پر جیل میں بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں  جسمانی  ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائیکورٹ نے 9 مئی کے 12 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قراردے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس انوار الحق نے دریافت کیا کہ درخواست گزار کتنے مقدمات میں نامزد ہیں؟ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 3 مقدمات میں نامزد ملزم ہیں، کیسز کی 2 کیٹگری ہیں، ایک جس میں نامزد ہیں دوسری جس میں ضمنی کے ذریعے نامزد کیا گیا ہے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیسز سے پولیس کی نا اہلی، سستی ظاہر ہوتی ہے، 9 مئی کے 9 کیسز میں پولیس 425 دن تک سوئی رہی، پولیس نے اتنی دیر بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کیوں نہیں ڈالی۔ پراسیکیوشن بدنیتی سے جان نہیں چھڑوا سکتی، ایک وقت بانی پی ٹی آئی عبوری ضمانت پر بھی تھے، تو ان کو شامل تفتیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

جسٹس انوارا الحق پنوں نے ریمارکس دیے کہ جب درخواست گزار کو امید ہوئی کہ وہ جیل سے باہر آ جائے گا تب آپ نے ان مقدمات میں گرفتاری ڈال دی، قانون تو یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو ملزم کا پتا چلے آپ اسے گرفتار کریں، آپ نے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ ملزم تب عبوری ضمانت پر تھے، گرفتار نہیں کر سکتے تھے، جسٹس انوارالحق پنوں نے دریافت کیا کہ آپ نے اس سے پہلے تفتیش کرنے کی کوشش کی؟ پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ میں آپ کو ریکارڈ سے بتا سکتا ہوں عمران خان نے ہمیں لکھ کہ دے دیا ہے کہ وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوں گے۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا۔

یاد رہے کہ 24 جولائی لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے عمران خان پر درج مقدمات سے متعلق پراسیکیوٹر جنرل سے تفصیلی رپورٹ کرلی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll