Advertisement
پاکستان

حکومت کیسے سپریم کورٹ کے ججز کو اپنے مقاصد کیلئے منتخب کر سکتی ہے،چیف جسٹس آف پاکستان

سپریم کورٹ نے مبینہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 سال قبل پر مئی 26 2023، 8:33 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
حکومت کیسے سپریم کورٹ کے ججز کو اپنے مقاصد کیلئے منتخب کر سکتی ہے،چیف جسٹس آف پاکستان

مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف درخواستوں پرچیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی.چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ حکومت کیسے سپریم کورٹ کے ججز کو اپنے مقاصد کیلئے منتخب کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری، ریاض حنیف راہی اور مقتدر شبیر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کا آغاز ہوتے ہی اٹارنی جنرل عثمان منصور روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے لارجر بنچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے انتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں، ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں، عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے، حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی، حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو کوئی بہتر راستہ دکھاتے، آپ نے ضمانت اور فیملی کیسز کو بھی اس قانون سازی کا حصہ بنا دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن کیلئے جج کی نامزدگی کا فورم چیف جسٹس پاکستان کا ہے، یہ ضروری نہیں کہ چیف جسٹس خود کو کمیشن میں نامزد کریں، نہ ہی چیف جسٹس وفاقی حکومت کی چوائس کے پابند ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اٹارنی جنرل صاحب عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے، بہت ہوگیا ہے اٹارنی جنرل صاحب آپ بیٹھ جائیں، وفاقی حکومت سے گزارش کریں آئینی روایات کا احترام کریں، سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کا فورم صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے کی وضاحت دی جا سکتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت عدلیہ کے معاملات میں کوارٹرز کا خیال کرے، انکوائری کمیشن میں حکومت نے خود ججز تجویز کئے، اس سے پہلے 3 نوٹیفکیشن میں حکومت نے ججز تجویز کئے جنہیں بعد میں واپس لیا گیا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایکٹ 2017ء کو چیلنج نہیں کیا گیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 1956ء ایکٹ آئین کے احترام کی بات کرتا ہے، اس نکتے پر بعد میں آئیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس نکتے پر ابھی تیار ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معذرت سے کہتا ہوں حکومت نے ججز کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان تمام امور کا حل ہو سکتا ہے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت مسائل حل کرے تو ہم بھی ریلیف دیں گے، سپریم کورٹ کے انتظامی امور میں پوچھے بغیر مداخلت ہوگی تو یہ ہوگا، ہمیں احساس ہے کہ آپ حکومت پاکستان کے وکیل ہیں، تمام اداروں کو مکمل احترام ملنا چاہیے، آئین اختیارات تقسیم کی بات کرتا ہے، عدلیہ وفاقی حکومت کا حصہ نہیں، ہم انا کی نہیں آئین کی بات کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر بات کھل کر قانون میں نہیں دی گئی ہوتی، آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے، آرٹیکل 175 کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے عدلیہ میں تقسیم کی کوشش نہیں کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے اگر نہیں کی تو بھی ایسا ہوا ضرور، فل کورٹ کی استدعا خود عدلیہ اصلاحات بل کے خلاف ہے، اٹارنی جنرل نفیس آدمی ہیں، آپ کا اور حکومت کا احترام کرتے ہیں، اب شدت سے سب کو احساس ہو رہا ہے کہ اداروں کا احترام ضروری ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدلیہ اصلاحات بل کس کے مشورے سے لایا گیا؟، حکومت نے فیملی سمیت ہر مقدمہ ہی کمیٹی کو بھجوا دیا تھا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی تھی۔

اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے پر صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیا، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی حاضر سروس جج کو کمیشن میں تعینات کرنے سے پہلے چیف جسٹس کی مشاورت ضروری ہے، کسی پرائیویٹ شخص کو بھی کمیشن میں لگانے سے پہلے مشاورت ضروری ہے کیونکہ اس نے جوڈیشل کارروائی کرنی ہوتی ہے۔

وکیل شعیب شاہین نے مزید کہا کہ فون ٹیپنگ بذات خود غیر آئینی عمل ہے، انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کئے، حکومت تاثر دے رہی ہے کہ فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے، حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی اصول طے کئے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، اس کا تعین کون کرے گا؟۔

شعیب شاہین نے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے، جوڈیشل کونسل کا اختیار انکوائری کمیشن کو دے دیا گیا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ غیر قانونی عمل ہے، آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے، اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے، حکومت آڈیو لیکس کو قانونی قرار دے رہی ہے، عدالتی فیصلوں کی موجودگی میں حکومتی موقف کی کیا اہمیت ہے؟، حکومت کے مطابق آڈیوز درست ہیں تو کمیشن بنانے کا کیا مقصد ہے؟۔

وکیل شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ قرار دے چکی ہے کہ تصدیق کے بغیر آڈیوز، ویڈیوز نشر نہیں کی جا سکتیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، ہائی کورٹ نے جاسوسی پر مبنی مواد بھی نشر کرنے سے روک رکھا ہے، آڈیوز کی تصدیق کا کسی کو خیال ہی نہیں، آڈیو لیک ہوتی ہے، میڈیا نشر اور وزراء پریس کانفرنس کرتے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کہ پاس جو مواد ہے وہ جمع کروا سکتا ہے، کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے کہا کمیشن کا قیام آرٹیکل 209 کی بھی خلاف ورزی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ افتخار چودھری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بظاہر اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے، جب یہ آڈیو چلائی جا رہی تھی، کیا حکومت یا پیمرا نے اس کو روکنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔

وکیل شعیب شاہین نے بتایا کہ پیمرا نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی، حکومت نے بھی پیمرا سے کوئی باز پرس نہیں کی، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پیمرا کی حد تک عدالت سے متفق ہوں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مختصر عبوری حکم جاری کیا جائے گا

Advertisement
آپریشن سیندور میں بھارت کا منہ کالا کیا تو وہ خطے میں دہشت گردی کو ہوا دینے لگ گیا، آئی ایس پی آر

آپریشن سیندور میں بھارت کا منہ کالا کیا تو وہ خطے میں دہشت گردی کو ہوا دینے لگ گیا، آئی ایس پی آر

  • 16 hours ago
پاکستان نے وینزویلا میں امریکی کارروائیوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیا

پاکستان نے وینزویلا میں امریکی کارروائیوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیا

  • 17 hours ago
خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر اعظم

خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر اعظم

  • 11 hours ago
سابق ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد گھر میں گرنے کے باعث فریکچر کا شکار، اسپتال منتقل

سابق ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد گھر میں گرنے کے باعث فریکچر کا شکار، اسپتال منتقل

  • 15 hours ago
 زرعی شعبے کی اصلاحات ، کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانا   اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم

 زرعی شعبے کی اصلاحات ، کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانا اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم

  • 17 hours ago
 کسی کی سیاست پاکستان سےبڑھ کرنہیں،ماضی میں ایک لیڈراپنی جماعت کو آمرکی طرح چلاتا رہا،ترجمان پاک فوج

 کسی کی سیاست پاکستان سےبڑھ کرنہیں،ماضی میں ایک لیڈراپنی جماعت کو آمرکی طرح چلاتا رہا،ترجمان پاک فوج

  • 16 hours ago
مہنگا سونا آج پھر ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

مہنگا سونا آج پھر ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • 14 hours ago
 ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے مختلف ادویات کی فروخت روک دی

 ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے مختلف ادویات کی فروخت روک دی

  • 14 hours ago
گلگت بلتستان کی نگران کابینہ نے حلف اٹھالیا

گلگت بلتستان کی نگران کابینہ نے حلف اٹھالیا

  • 13 hours ago
ماڈل و اداکارہ ثنا خان کی لاہور میں سالگرہ پارٹی،شوبز شخصیات کی بھرپور شرکت

ماڈل و اداکارہ ثنا خان کی لاہور میں سالگرہ پارٹی،شوبز شخصیات کی بھرپور شرکت

  • 17 hours ago
شہریوں کیلئے خوشخبری: حکومت کا گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان

شہریوں کیلئے خوشخبری: حکومت کا گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان

  • 14 hours ago
لیجنڈری آف سپنر سعید اجمل کی والدہ انتقال کر گئیں

لیجنڈری آف سپنر سعید اجمل کی والدہ انتقال کر گئیں

  • 17 hours ago
Advertisement