امریکہ ،نیٹو اور یورپی یونین کی اردوان کو جیت پر مبارکباد،مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار
طیب اردوان کی قیادت میں ترکی کی امریکا، یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ ڈرامائی طور پر کشیدگی پیدا ہوئی

امریکی صدر جو بائیڈن، نیٹو کے سیکرٹری جنرل، اور یورپی یونین کمیشن کے صدر نے رجب طیب اردوان کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور مل کر کام کرنے کی امید کا اظہار کیا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹویٹر پر کہا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد۔ میں دوطرفہ مسائل اور مشترکہ عالمی چیلنجوں پر بطور نیٹو اتحادی ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا منتظر ہوں۔
Congratulations to President Recep Tayyip Erdogan of Türkiye on his re-election.
— President Biden (@POTUS) May 28, 2023
I look forward to continuing to work together as NATO Allies on bilateral issues and shared global challenges.
نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ اپنے ٹویٹ میں کہا کہ صدر اردوان آپ کے دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد۔ میں مل کر کام جاری رکھنے اور جولائی میں نیٹو سربراہی اجلاس کی تیاری کا منتظر ہوں۔
Congratulations President @RTErdogan on your re-election. I look forward to continuing our work together & preparing for the #NATOSummit in July.
— Jens Stoltenberg (@jensstoltenberg) May 28, 2023
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کا کہنا تھا کہ ہم اردوان کو انتخابات جیتنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور یورپی یونین اور ترکی کے تعلقات کی تعمیر جاری رکھنے کی منتظر ہیں۔ یہ یورپی یونین اور ترکی دونوں کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے کہ وہ اپنے عوام کے فائدے کے لیے اس تعلق کو آگے بڑھانے پر کام کریں۔
رجب طیب اردوان نے اتوار کے روز تیسری مرتبہ صدارتی انتخاب جیت کر ایک بے مثال کارنامہ انجام دیا جس کے بعد ترکی کے صدر کے طور پر ان کا دور حکومت تیسری دہائی تک بڑھ گیا ہے۔ ان کی قیادت میں ملک کی امریکا، یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ ڈرامائی طور پر کشیدگی پیدا ہوئی۔
انہوں نے گذشتہ برسوں میں تیزی سے ایک زیادہ جارحانہ خارجہ پالیسیوں کا استعمال کیا جس کا مقصد اپنے خطے اور اس سے باہر ترکیہ کا اثر و رسوخ بڑھانا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ پابندیوں کا نشانہ بھی بنتے رہے۔
پچھلے ادوار میں یورپی یونین اور نیٹو کی جانب سے ان کی ملکی پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا اور انہیں جمہوری روایات نظر انداز کرنے، میڈیا سنسرشپ، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے الزامات کا سامنا بھی رہا۔
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 3 دن قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 3 دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 3 دن قبل
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار
- 9 گھنٹے قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 2 دن قبل
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟
- 9 گھنٹے قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 3 دن قبل
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز
- 9 گھنٹے قبل

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل
- 3 گھنٹے قبل
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟
- 8 گھنٹے قبل
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟
- 9 گھنٹے قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 3 دن قبل


