جی این این سوشل

پاکستان

تحریک انصاف کو اب تک کتنے لوگ خیر آباد کہہ چکے ہیں ؟

9 مئی کے واقعات کے بعد 150 موجودہ اور سابق ممبران پارلیمنٹ تحریک انصاف کوچھوڑ چکے ہیں۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

تحریک انصاف کو اب تک کتنے لوگ خیر آباد کہہ چکے ہیں ؟
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

نجی ٹی وی  کے مطابق اب تک مجموعی طورپر220 اعلی عہدیداران نے پارٹی سے راہیں جدا کرلی ہیں۔

پارٹی چھوڑنے والوں میں 31 سابق وزرا، مشیران اور سابق معاونین خصوصی شامل ہیں،ان میں 48 موجودہ یا سابق ممبران قومی اسمبلی نے تحریک انصاف چھوڑ دی ہے۔

 پنجاب سے 77 سابق ایم پی اے نے پارٹی کو خیرباد کہا۔

کے پی سے 11 سابق ممبران صوبائی اسمبلی نے پارٹی چھوڑی۔

سندھ سے 8 ممبران صوبائی اسمبلی اور بلوچستان سے 3 ممبران صوبائی اسمبلی نے پارٹی چھوڑی۔

 52 پارٹی عہدے داران اب تک پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں،تین سینٹرز نے بھی پارٹی کو چھوڑ دیا۔

اہم رہنمائوں میں عثمان بزدار، عامرکیانی، فواد چوہدری، شیریں مزاری، علی زیدی، عمران اسماعیل، خسروبختیار وغیرہ شامل ہیں،پارٹی عہدے چھوڑنے والوں میں پرویزخٹک اور اسد عمر شامل ہیں۔

پاکستان

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں۔ 

پیکا ایکٹ کے ملزمان کا تحت ٹرائل کے معاملے پر بڑی پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دیدی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی روف حسن اور دیگر کا ٹرائل پیکا ایکٹ کے نئی قائم عدالتوں میں ہونے کا امکان ہے۔

عدالتوں کی تشکیل کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دے دیا گیا ہے، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔دوسری جانب وزارت قانون نے وضاحت کی ہے کہ جسٹس بابر ستار کے حکم کی روشنی میں پیکا ایکٹ ملزمان کے ٹرائل کیلئے عدالتیں تشکیل دی گئیں ہیں، جسٹس بابر ستار نے 6 جون 2024 کو وفاقی حکومت سے پیکا ایکٹ کے تحت عدالتوں کے عدم قیام پر جواب مانگا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ واپس لینے کا چیف کمشنر کا حکم کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 5 جولائی کا چیف کمشنر کا این او سی واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ واپس لینے کا چیف کمشنر کا حکم کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ واپس لینے کا چیف کمشنر کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

فیصلہ ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر سماعتوں کے بعد سنایا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے پانچ صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس میں عدالت نے 5 جولائی کا چیف کمشنر کا این او سی واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی جلسہ کے این او سی کی درخواست اسلام آباد انتظامیہ کے سامنے زیر التوا تصور ہوگی، اسلام آباد انتظامیہ قانون کے مطابق اور وجوہات کے ساتھ درخواست پر فیصلہ کرے.

5 جولائی کے آرڈر کے مطابق محرم میں لا اینڈ آرڈر صورت کی وجہ سے این او سی واپس لیا گیا، این او سی واپس لینے سے پہلے چیف کمشنر نے پی ٹی آئی کے کسی نمائندے کو آگاہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے چیف کمشنر کے آرڈر کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

لیاقت بلوچ نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد  میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ 26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہو گا۔
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکمران جماعتیں عوام سے جینے کا حق چھین رہی ہیں۔

سیاناسی جماعتیں پاور پالیٹکس میں لگی ہیں، جبکہ عوام کو مہنگائی کے سامنے مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام سیاست جمہوریت اور پارلیمان سے مایوس ہو گئے، بجلی،گیس اور پٹرول ٹیکسز کے انبار نے عوام کو برباد کر دیا ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کسی صورت بھی دیوالیہ نہیں ہونا چاہیے، موجودہ حکومت نے دیوالیہ سے بھی آگے ملک کو پہنچا دیا ہے، آئی پی پیز سے معاہدوں سے قومی معیشت کو پھندہ ڈال دیا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں فارم 47 طرز کی حکمرانی مسلط کی گئی، طلبا سڑکوں پر نکل کر اپنا حق حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان کےعوام بھی حکومتی خاندانوں کے خلاف نکلنے کو تیار ہیں، عوام ان حکمران خاندانوں سے نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا۔

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بات کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll