چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اپنے آنے والے ہم منصب جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا


چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ آئینی مسائل میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا جس سے عدالتی کارکردگی متاثرہوئی۔
نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بطورچیف جسٹس آخری مرتبہ نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کررہاہوں۔ آئینی مسائل میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا ہے۔ عدالت خود کئی مرتبہ سخت امتحان اورماحول کا شکار بنی،جوواقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن عدالتی کارکردگی متاثرہوئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آڈیو لیکس کیس کے فیصلے میں تمام واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال عدالت کی ایک سالہ کارکردگی پرروشنی ڈالی تھی ، تعیناتی کے ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزارمقدمات نمٹائے۔ اس سے قبل ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی تعداد 18 ہزارتھی۔
انہوں نے کہا کہ کوشش تھی کہ زیرالتواء مقدمات 50 ہزارسے کم ہوسکیں، لیکن زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں 2 ہزارکی کمی ہی کرسکے۔فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیمز فنڈ قائم کیا گیا جس میں اگست 2023 میں 4لاکھ روپے کا اضافہ ہوا۔ اگست میں بھی فنڈزمیں رقم آنے کا مطلب عوام کا سپریم کورٹ پراعتماد ہے۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اپنے آنے والے ہم منصب جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ تمام ساتھی ججوں کا میرے ساتھ برتاوبہت اچھارہا، جہاں آزاد دماغ موجود ہوں وہاں اختلاف ہوتا ہے۔ قاضی فائزعیسیٰ بہت اچھے انسان ہیں۔ میری اوران کی اپروچ الگ ہے۔
جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ سبکدوش ہونے والےچیف جسٹس کےطورپربہت سی امیدیں لے کرجارہا ہوں۔ پُرامید ہوں کیونکہ سپریم کورٹ نے بہت مشکل وقت کاٹ لیا ہے۔ ہم میں سے کسی نے بھی اسمبلی کی تحلیل کےبعد عام انتخابات90دن میں کرانےپراختلاف نہیں کیا، مشکل اس لیے پیش آئی کہ یہ ایک سیاسی لڑائی تھی۔ عدالت کی ذمہ داری یہ بتاناہے کہ آئین کیا کہتا ہے۔عدالت کی بھی کچھ آئینی حدود ہیں جن کے پابند ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شدید تنقید کےباوجود اس سال کے9ماہ میں صرف ایک ازخود نوٹس لیا امید ہے کہ میرے قابل جانشین ازخود نوٹس کے معاملے میں بہترمیکنزم بنائیں گے۔ عدالتی چھٹیوں کے دوران 5 اور7ججزہمہ وقت دستیاب اورانتھک کام کرتے رہے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ میرے معصومانہ ریمارکس کوطنزیہ بیانات کے طورپرپیش کیا گیا، جب میں نےکہا ”گڈ ٹو سی یو“ تواس کوغلط رپورٹ کیا گیا، میں ہرایک کو گڈ ٹو سی یو کہتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافی معاشرے کی کان اورآنکھ ہوتے ہیں جن سے توقع ہوتی ہے وہ درست رپورٹنگ کریں گے۔ جہاں پرکوئی غلطی ہوئی اسے ہم نے اگنورکیا۔ درست رپورٹنگ پرمیڈیا کا خیر مقدم اورغلط رپورٹنگ پردرگزرکرتے ہیں، جب آزاد دماغ ملتے ہیں تبھی اختلاف رائے سامنے ہوتا ہے،امید ہے کہ سپریم کورٹ مزید مضبوط، بااختیار اورآزاد ہوگی۔
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ خواتین ججزکے سپریم کورٹ آنے سے سپریم کورٹ مزید مضبوط ہوا،سپریم کورٹ کے انتظامی عہدوں پربھی خواتین کا اضافہ ہوا۔ میں نے ناصرف اتفاق رائے بلکہ اختلاف رائے سے بہت کچھ سیکھا، دعا ہے کہ ملک میں استحکام آئے۔ جب ملک میں سیاسی استحکام آئے گا تو عدلیہ سمیت ہر ادارہ مستحکم ہو گا۔
فل کورٹ ریفرنس میں بیرون ملک موجود جسٹس یحییٰ آفریدی کے علاوہ سپریم کورٹ کے تمام ججز نے شرکت کی۔ نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی موجود تھے۔
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟
- 2 دن قبل
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟
- 2 دن قبل
دوسرا ٹیسٹ: ویسٹ انڈیز 117 رنز پر ڈھیر، پاکستان کی جانب سے 75 رنز کے ہدف کا تعاقب جاری
- 11 گھنٹے قبل

سونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 16 گھنٹے قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 4 دن قبل
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار
- 2 دن قبل

جموں وکشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم
- 10 گھنٹے قبل
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز
- 2 دن قبل

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل
- ایک دن قبل
عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر اتفاق ہو گیا، اعلان جلد متوقع: ایران
- 10 گھنٹے قبل
تیسرے ہاکی ٹیسٹ میں پاکستان کی جنوبی کوریا کو 3-4 سے شکست
- 16 گھنٹے قبل
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟
- 2 دن قبل

