لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے
پرویز الہی کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے پھر کیوں گرفتار کیا گیا،عدالت

سابق وزیر اعلی پرویز الہی کو عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کا قابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے باوجود آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصرخان کی عدم پیشی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔
لاہور ہائی کورٹ میں طلبی کے باوجود آئی جی اسلام آباد کے پیش نہ ہونے پر جسٹس مرزا وقاص رؤف نے استفسار کیا کہ آئی جی اسلام آباد کہاں ہیں جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے جواب موصول ہوا ہے وہ اسلام آباد میں مصروف ہیں۔
اس موقع پر جسٹس مرزا وقاص رؤف نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آئی جی کو طلب کیا تھا وہ کہاں ہیں، کیا آپ عدالتی احکامات کو ہلکا لے رہے ہیں، ہم نے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے آپ ان سے پوچھ کر بتائیں کیسے آنا چاہیں گے۔ ان ریمارکس کے ساتھ عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی۔
وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کے آغاز پر عدالت نے دریافت کیا کہ آئی جی اسلام آباد پولیس عدالت پیشی سے متعلق کیا کہتے ہیں، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
عدالت نے قابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے باوجود آئی جی اسلام آباد کی عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد نہ کرانے پر متعلقہ ایس پی کو بھی توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
سابق وزیر اعلی پرویز الہی کو رہائی کے بعد بحفاظت گھر نہ پہچانے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن، ڈی آئی جی آپریشن اور ایس پی سکیورٹی کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تمام افسروں کو فرد جرم کے لیے طلب کرلیا ہے۔
پرویز الہی کی اہلیہ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مرزا وقاص روف کا کہنا تھا کہ عدالت کا واضح حکم تھا کہ پرویز الہی کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے پھر کیوں گرفتار کیا گیا، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا۔
جسٹس مرزا وقاص رؤف بولے ایک ایس پی آیا اور اس نے کہا کہ عدالت کے احکامات کو ایک طرف رکھو۔ ایس پی اسلام آباد کے آگے یہ پولیس افسر بے بس ہو گئے۔ پنجاب پولیس اسلام آباد پولیس کے آگے بے یارو مددگار تھی۔ اسلام آباد پولیس کوئی سپیریئر پولیس تھی؟
جسٹس مرزا وقاص روف نے ریمارکس دیے کہ کیا کوئی رول آف لاء ہے؟ اگر پولیس افسران پریشر برداشت نہیں کرسکتے تو وردی اتار کر کوئی اور کام کر لیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے کارروائی دو اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے

ملک میں آج بھی سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
- ایک دن قبل

لالی وڈ کی نئی آنیوالی فلم ’ریڈ لائن‘ کے گانے کی مقامی اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ
- ایک دن قبل

پاک فوج کے خلاف مبینہ بیان بازی، عدالت نے مولانا فضل الرحمٰن کو 28 جولائی کو طلب کر لیا
- 9 گھنٹے قبل

بھارت میں پابندی کے باوجود دلجیت دوسانجھ کی فلم 'ستلج' کی نمائش جاری، عالمی سطح پر بھی تنازع شدت اختیار کر گیا
- ایک دن قبل
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے
- 2 دن قبل
فیلڈ مارشل عاصم منیراور ترک صدرکی ملاقات میں پاک ترک دفاعی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو
- ایک دن قبل
ہندو انتہا پسند رہنما کا مشہور اداکارکو قتل کرنے پر 5 کروڑ روپے انعام کا اعلان
- 9 گھنٹے قبل

400کلو چاندی چوری کیس میں سابق کلکٹرکسٹم سمیت 5 مزید ملزمان گرفتار
- ایک دن قبل
11واں کلر اینڈ کیم ایکسپو18 جولائ سے لاہور میں منعقد ہوگی
- 8 گھنٹے قبل
.jpeg&w=3840&q=75)
بہترین کارکردگی پر شیخوپورہ پولیس کے سات افسران کو اعزازات سے نوازا گیا
- 5 گھنٹے قبل

کوہاٹ میں بارش کے باعث کچے مکان کی چھت گر گئی، 11 افراد جاں بحق، 12 زخمی
- ایک دن قبل

پنجاب میں 12 جعلی و غیر معیاری ادویات پکڑی گئیں
- 2 دن قبل


.jpeg&w=3840&q=75)

