جی این این سوشل

پاکستان

نگران وزیراعظم کا ابوظہبی میں قومی اور ثقافتی تاریخی مقام وحت الکرامہ کا دورہ

وحت الکرامہ یو اے ای کے ان ہیروز کی قربانیوں کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے ملک کی خدمات میں اپنی جانیں نچھاور کیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

نگران وزیراعظم کا ابوظہبی میں قومی اور ثقافتی تاریخی مقام وحت الکرامہ کا دورہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ابوظہبی میں قومی اور ثقافتی تاریخی مقام وحت الکرامہ کا دورہ کیا۔ وحت الکرامہ متحدہ عرب امارات کے ان ہیروز کی قربانیوں کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے ملک کی خدمات میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔

متحدہ عرب امارات پریزیڈنٹ کورٹ میں شہداء کے خاندانوں کے امور کے دفتر کے چیئرمین شیخ طیب بن محمد بن زید النہیان نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔وزیراعظم نے گارڈ آف آنر کی پروقار تقریب میں شرکت کی۔

بعدازاں وزیراعظم نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔یہ یادگار متحدہ عرب امارات کی قیادت، عوام اور بہادر فوجیوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی علامت ہے اور 31 پینلز پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے وحت الکرامہ کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہیں یادگار کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

دورے کے اختتام پر وزیراعظم نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات نوٹ کیے، جس میں متحدہ عرب امارات کے بہادر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ 

پاکستان

طلبہ ملک کا مستقبل اور قوم کا سرمایہ ہیں، نواز شریف

آج مجھے اس پر وقار تقریب میں شریک ہو کر دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے، سابق وزیراعظم

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

طلبہ ملک کا مستقبل اور قوم کا سرمایہ ہیں، نواز شریف

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ طلبہ ملک کا مستقبل اور قوم کا سرمایہ ہیں، ناکامی کا خوف رکھنے والا شخص کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، نوجوانوں نے اتحاد ، اصلاح ،فلاح اور معاشرے میں بہتری کیلئے دل لگا کر محنت کرنی ہے اور خود کو انتشار ،تقسیم ،گالی گلوچ اور بد تہذ یبی سے دور رکھنا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز شریف میڈیکل ٹرسٹ کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نامزد وزیر اعظم محمد شہباز شریف، نامزد وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف، گورنر پنجاب ووائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز بلیغ الرحمن ، اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب اور ادارے کے منتظمین سمیت اساتذہ ، گریجوایشن کرنے والے طلبا و طالبا ت اور ان کے والدین بھی موجود تھے۔

محمد نواز شریف نے کہا کہ آج مجھے اس پر وقار تقریب میں شریک ہو کر دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے ،آپ کی برسوں کی والہانہ محنت نے آج آپ کو کامیابی کا دن دکھایا ہے جس پر میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، میں ان اساتذہ کرام کو بھی مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے ہمدردانہ شفقت اور محنت سے آپ کو اس مقام پر پہنچایا ، طلبہ کے والدین ان کی اس کامیابی میں برابر کے شریک ہیں،والدین نے اپنی ضروریات اور خواہشات کو پس پشت ڈال کر آپ کی تعلیم مکمل کرائی،یہ ان کی آپ کیلئے بہت بڑی خدمت ہے ۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ،بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو زرداری  نے کہا کہ ہم ان کارکنوں کے اہل خانہ کو انصاف دلانے میں مدد کریں گے جو اس الیکشن کے دوران تشدد کا نشانہ بنے تھے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو تشدد  کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ،بلاول بھٹو زرداری

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  نے کہا  کہ ان کی پارٹی کے کارکنوں پر تشدد میں ملوث تمام افراد پر ظلم کیا جا رہا ہے ۔ 

انہوں نے عام انتخابات کے دوران ان کی پارٹی کے کارکنوں کی جان لینے والے فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے انتخابات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔


بلاول بھٹو زرداری  نے کہا کہ ہم ان کارکنوں کے اہل خانہ کو انصاف دلانے میں مدد کریں گے جو اس الیکشن کے دوران تشدد کا نشانہ بنے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس صوبے پر حکومت کرے گی اور وہ کراچی میں امن و امان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔

بلاول بھٹو  نے کہا کہ وہ تمام جماعتیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ تشدد کی بنیاد پر سیاست کر سکتی ہیں غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی پارٹی کا جھنڈا ہٹانا پیپلز پارٹی کا طریقہ نہیں ہے۔


مبینہ دھاندلی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات اور اس سال کے انتخابات میں زیادہ فرق نہیں ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اگر کوئی دھاندلی ہوئی ہے تو ثبوت لے کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعتیں دھاندلی کے بغیر الیکشن نہیں جیت سکتیں وہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ عمران خان نے خود فیصلہ کیا ہے کہ وہ شہباز شریف سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے۔ اکثریت کے باوجود عمران خان نے کسی دوسری پارٹی سے بات کرنے کا انتخاب نہیں کیا۔

انہوں نے آئی ایم ایف کے خط کے بیان پر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیاست اپنے مفاد کے لیے چاہتے ہیں ملک کی خاطر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ [پی ٹی آئی] ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس خط کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور اس سے پی ٹی آئی نے عوام کے سامنے خود کو مزید بے نقاب کردیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اسد منظور بٹ لاہور ہائیکورٹ کے صدر بن گئے

لاہور ہائی کورٹ بار کے انتخابات میں کل 41ہزار 673 وکلاءہیں ان میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 29ہزار 216 تھی ان میں خواتین ووٹر کی تعداد 2ہزار 101ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اسد منظور بٹ لاہور ہائیکورٹ کے صدر  بن گئے

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں پروفیشنل حامد خان گروپ نے عاصمہ جہانگیر گروپ کو شکست سے دو چار کردیا ۔پروفیشنل حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار  اسد منظور بٹ 6ہزار 195ووٹوں سے صدر منتخب ہوگئے ان کے مدمقابل  امیدوار ثاقب اکرم گوندل 5ہزار 768ووٹ حاصل کرسکے سیکرٹری کے عہدے پر دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے والے ” قادر بخش چاہل نے کامیابی اپنے نام سمیٹی انہوں نے 7ہزار 119ووٹ لیے اسی طرح ان کے مد مقابل دونوں امیدواروں میں قاسم اعجاز سمراء3ہزار 553جبکہ تیسرے امیدوار آصف محمود چوہان 1ہزار 260ووٹ لے سکے اسی طرح لاہور ہائی کورٹ بار کے انتخابات میں نائب صدر کے لیے ” میاں سردار علی گہلن“ 3ہزار 344ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں ان کے مد مقابل عبدالرحمان رانجھا 2ہزار 998ووٹ لے سکے حسیب بن یوسف 1905، ملک فدا حسین 1677، مظہر عباس سیال 615، اور میاں وحید نذیر 1369ووٹ لے سکے اسی طرح لاہور ہائی کورٹ بار کے انتخابات میں فنانس کے عہدے کے لیے تین امیدوار آمنے سامنے تھے ان میں خاتون وکیل فلک ناز گِل کامیاب قرار پائی ہیں انہوں نے 5ہزار 503ووٹ لیے ان کے مد مقابل حام بن شعیب کمبوہ 5ہزار 33اور فرخ شاہ 1389ووٹ لے سکے ۔

لاہورہائی کورٹ بار کے انتخابات میں دو بڑے گروپوں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کا ملا عاصمہ جہانگیر احسن بھون گروپ اور پروفیشنل حامد خان گروپ کے درمیان مقابلہ ہوا پولنگ کے دن سارا دن خوب گہما گہمی رہی وکلاءنے بڑھ چڑھ کر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے حمایت یافتہ امیدوار کو سپورٹ کیا جبکہ لیڈی لائرز کی جانب سے اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے بازی بھی کرتی دکھائی دیں ۔

لاہور ہائی کورٹ بار کے انتخابات میں کل 41ہزار 673 وکلاءہیں ان میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 29ہزار 216 تھی ان میں خواتین ووٹر کی تعداد 2ہزار 101ہے جبکہ مرد ووٹر 27ہزار 115 تھی لاہور ہائی کورٹ بار کے انتخابات میں الیکشن بورڈ کے چیئر مین کے فرائض میاں عرفان اکرم انجام دیئے جبکہ ان کا ساتھ دینے کے لیے حسیب اللہ خان اور خداداد چٹھہ ڈپٹی چیئر مین کے فرائض سر انجام دیئے انتخابات کے دوران سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہائی کورٹ کے تمام داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ نصب کئے گئے تھے جبکہ وکلاءکو کارڈ دکھائے بغیر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll