جی این این سوشل

دنیا

دنیا کے پہلے فورتھ جنریشن ٹیکنالوجی کے حامل جوہری پاور پلانٹ نے کام شروع کر دیا

یہ منصوبہ، جس کے لیے چین مکمل طور پر آزادانہ املاک دانشورانہ حقوق کا مالک ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

دنیا کے پہلے فورتھ جنریشن ٹیکنالوجی کے حامل جوہری پاور پلانٹ نے کام شروع کر دیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

بیجنگ: دنیا کا پہلے فورتھ جنریشن ٹیکنالوجی کے حامل جوہری پاور پلانٹ نےباضابطہ طور کام شروع کر دیا ہے۔خبررساں ادارے سنہوا نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن اور چائنا ہوانینگ گروپ کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ دنیا کا پہلا فورتھ جنریشن کا جوہری پاور پلانٹ، شیداوان ہائی ٹمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر (ایچ ٹی جی آر)نیوکلیئر پاور پلانٹ، بدھ کو مشرقی چین کے صوبہ شانڈونگ میں باضابطہ طور پر کمرشل آپریشن میں چلا گیا ہے۔

یہ منصوبہ، جس کے لیے چین مکمل طور پر آزادانہ املاک دانشورانہ حقوق کا مالک ہے، رونگچینگ کاؤنٹی، ویہائی سٹی میں واقع ہے اور اسے چائنا ہوانینگ گروپ، سنگھوا یونیورسٹی اور چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ہوانینگ شیڈاو بے نیوکلئیر پاور کمپنی کے جنرل منیجرژانگ ینزونے چائنا میڈیا گروپ (سی ایم جی ) کو بتایا کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کی نصب صلاحیت 200,000 کلوواٹ ہے اور اس کے آلات کی لوکلائزیشن کی شرح 93.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ژانگ نے کہا کہ 168 گھنٹے کا مستحکم آپریشن ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد، پاور گرڈ کو صاف اور مستحکم بجلی کی مسلسل فراہمی کے لیے اس منصوبے کو باضابطہ طور پر کمرشل آپریشن میں ڈال دیا گیا، جو ایچ ٹی جی آر نیوکلیئر پاور ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی عالمی قیادت کی علامت ہے۔شیداوان ایچ ٹی جی آر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر دسمبر 2012 میں شروع ہوئی۔ اس نے 9سال کی کوششوں کے بعد دسمبر 2021 میں پہلی بار بجلی پیدا کی۔

پاکستان

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے، حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی۔

حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ کے ہوشربا اعدادو شمار سامنے آ گئے، مہنگائی کے اس دور میں بجلی کی تقسیم کار آزاد کمپنیاں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ نے عوام کا خون نچوڑ لیا۔

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی، مجموعی طور پر آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں۔

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑتے ہیں اور حکومت ایسا ہی کرتی آرہی ہے۔ گزشتہ سال آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں، یعنی بجلی خریدے بغیر 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی گئی۔ آئی پی پیز کو کی گئی کل ادائیگیوں میں 38 فیصد پیداواری لاگت آئی اور 62 فیصد کپیسٹی پیمنٹ کا انکشاف ہوا۔

افسر شاہی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ 85 فیصد آئی پی پیز کی پیداوار 50 فیصد سے کم مگر ادائیگیاں 100 فیصد کی گئیں، صرف زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پاور پلانٹس کو ایک سال میں 46 ارب 40 کروڑ روپے کیپسٹی پیمنٹ ادا کی گئی۔حکومت کو جانب سے جنہیں بھر پور انداز میں نوازا گیا ان زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پلانٹس میں حبکو، کیپکو، ایچ سی پی سی شامل ہیں۔

4 فیصد پلانٹ فیکٹر رکھنے والے ایک پلانٹ کو 7 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی، 8 فیصد پیداوار والے نندی پور پلانٹ کو 15 ارب روپے جبکہ گنجائش سے 25 فیصد کم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 568 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔اسی طرح 25 سے 83 فیصد تک بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 1314 ارب روپے، چائنا پاور حب جنریشن کمپنی کو 9 ماہ میں 103 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی گئی۔

چینی کمپنی نے 5 ماہ سے کوئی بجلی پیدا نہیں کی جبکہ 4 ماہ پیداوار 18 فیصد تک رہی، ہوانینگ شانڈنگ روئی انرجی کو 9 ماہ میں 95 ارب روپے ،پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کو83 ارب روپے، پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ کمپنی کو26 ارب اور واپڈا ہائیڈل کو 76 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کی گئی، بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو 10 ارب روپے سے نوازا گیا۔

وزارت توانائی نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدوں پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حبکو کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹ کی مدت مارچ 2027 کو ختم ہو جائے گی، حبکو کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔حکام کے مطابق حبکو پلانٹ فرنس آئل پر چلتا ہے، پلانٹ کو کوئلے پر چلانے کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کیپکو نے 2022 میں اپنی 25 سال کی مدت مکمل کی، کیپکو کے ساتھ بجلی کی خرید و فروخت کے معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عمران خان کی وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف کیس ، تحریری حکم نامہ جاری

انی پی ٹی آئی کی وکلاء سے مشاورت کے حق میں رکاوٹوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، حکم نامہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عمران خان کی  وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف کیس ، تحریری حکم نامہ جاری

عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف کیس میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو وارننگ جاری کردی گئی۔

عدالت نے حکم نامہ میں قرار دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے مشاورت کے حق میں رکاوٹوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، دوبارہ ایسا واقعہ رپورٹ ہوا تو عدالت فوری توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرے گی۔

حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ دوبارہ ایسے واقعے کی صورت میں آج کے آرڈر کو ہی توہینِ عدالت کا باقاعدہ نوٹس قرار دیا جائے گا، سپرنٹنڈنٹ جیل نے بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتوں کی فہرست جمع کرائی، عدالت کو بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں، عدالت کو بتایا گیا کہ وکلاء کو جیل پہنچنے کیلئے میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔۔

تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے درمیان شیشے کی رکاوٹ اور گفتگو سُننے کیلئے پولیس اہلکار کھڑے کرنے سے متعلق بتایا گیا، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے ملاقات میں رکاوٹوں پر حیرت کا اظہار کیا، عدالت جیل حکام کے ایس او پیز پر عم لدرآمد کے موقف سے اتفاق کرتی ہے، وکلاء اور دیگر ملاقات کرنے والوں کی ملاقاتوں کو تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے ملاقاتوں کی فہرست دیکھنے کیلئے وقت مانگا، کیس کی سماعت 13 ستمبر تک ملتوی کی جاتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سلمان اکرم راجہ کا پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز فعال بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع

الیکشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تعینات ججز کو نا ماننے کے پیچھے قانونی جواز نہیں، موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سلمان اکرم راجہ کا پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز  فعال بنانے کے لیے  سپریم کورٹ سے رجوع

پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز کو فعال بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے  4 جولائی کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 4 جولائی کو جاری فیصلے میں الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی گئی، سپریم کورٹ نے مشاورت کے حوالے سے کوئی گائیڈ لائنز مہیا نہیں کیں، چیف جسٹس کی جانب سے کسی بھی جج کی تعیناتی کو سب سے معتبر تصور کیا جاتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے تعینات ججز کا فیصلہ درست تھا، الیکشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تعینات ججز کو نا ماننے کے پیچھے قانونی جواز نہیں، سپریم کورٹ کے دو ججز نے الیکشن کمیشن کا موقف غلط قرار دیا کہ ان کے پاس ٹریبونلز کیلئے ججز منتخب کرنے کا اختیار ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنا درست نہیں، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے تعینات ججز کی نامزدگی معطل نہیں کی، لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے نامزد ججز ہی موجود ہیں، الیکشن کمیشن لاہور ہائیکورٹ سے نامزد ججز پر مشاورت کرے اور وجوہات پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کام جاری رکھنے والے الیکشن ٹریبونلز کو بحال کیا جائے، مشاورت کا مطلب الیکشن کمیشن نامزد ججز پر ٹھوس وجوہات پیش کرے، الیکشن کمیشن کے پاس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نامزد ججز کی تعیناتی کو نہ ماننے کا اختیار نہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز میں کام کرنے والے ججز کے دائرہ کار کا تعین کرنے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ کے پاس ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll