سابق چیف جسٹس جواد خواجہ نے جسٹس سردار طارق مسعود کی فوجی ٹرائل اپیل بینچ میں شمولیت کو چیلنج کر دیا
درخواستوں میں 23 اکتوبر کے مختصر حکم نامے کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے جبکہ انٹرا کورٹ اپیلیں زیر التوا ہیں


اسلام آباد: سابق چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) جسٹس ریٹائرڈ جواد خواجہ نے سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کی فوج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شمولیت کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواست جمع کرادی۔
سماعت 13 دسمبر سے شروع ہونے والی ہے۔جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ وفاقی حکومت، وزارت دفاع اور پنجاب، خیبرپختونخوا (کے پی) اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کرے گا۔
درخواستوں میں 23 اکتوبر کے مختصر حکم نامے کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے جبکہ انٹرا کورٹ اپیلیں زیر التوا ہیں۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے قانونی نمائندے کے توسط سے آئینی پٹیشن دائر کی، جس میں جسٹس مسعود کی عام شہریوں پر فوجی ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی نگرانی کرنے والے چھ رکنی بینچ میں شمولیت پر سوال اٹھایا گیا۔
جسٹس خواجہ نے اس سے قبل شہریوں کے فوجی ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور عدالت سے اسے غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی تھی۔
درخواست میں نو رکنی بینچ کی تشکیل نو اور جسٹس مسعود کے فیصلہ سازی کے عمل سے متعلق حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جسٹس مسعود نے اس سے قبل ایک دستاویز جاری کی تھی جس میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف نو رکنی بینچ کی تشکیل کے حوالے سے شکایات کا اظہار کیا گیا تھا۔
درخواست میں استدلال کیا گیا ہے کہ جسٹس مسعود کے نتائج جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موضوع کی درخواستیں غیر معمولی ہیں، جسٹس خواجہ نے استدعا کی کہ جسٹس مسعود کے اظہار خیال اور نتائج کو دیکھتے ہوئے انہیں انصاف کے مفاد میں اپیل کی سماعت سے خود کو الگ کر لینا چاہیے۔
سابق چیف جسٹس نے جسٹس سردار طارق مسعود کی زیرقیادت بنچ کو متعلقہ درخواستوں میں کوئی حکم جاری کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔

سیمی فائنل کی دوڑ: پاکستان اور سری لنکا کے مابین ٹاکرا آج ہو گا
- 4 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
ایران کا اسرائیل و امریکہ کے خلاف ’فتح خیبر‘ آپریشن شروع، قطر اور بحرین پرمیزائل حملے
- 4 گھنٹے قبل

ایران نے جوابی حملہ کر دیا، اسرائیل کے متعدد علاقوں میں سائرن کی آوازیں
- 4 گھنٹے قبل

امریکی واسرئیلی حملوں کے بعد ایران کی سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور بحرین پر میزائل حملے
- 31 منٹ قبل

ایران کی میزائل اور بحری طاقت کو نیست و نابود کر دیں گے، امریکی صدر کی دھمکی
- 4 گھنٹے قبل

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ،تہران پر حملے کی مذمت
- 26 منٹ قبل

ایران پرامریکی و اسرائیلی حملہ،پاکستانی شہریوں کیلئے ٹریول ایڈوائزری جاری
- 4 گھنٹے قبل

ایران ،اسرائیل کشیدگی کے پیش نظر پی آئی اے نے مشرقِ وسطیٰ کیلئے پروازیں معطل کر دیں
- ایک گھنٹہ قبل

سونے کی آج پھرلمبی چھلانگ،فی تولہ کئی ہزار روپے مہنگا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟
- 4 گھنٹے قبل

صوبائی حکومت نے بنوں میں ڈرون کے استعمال اور رکھنے پر پابندی عائدکر دی
- 5 گھنٹے قبل

ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت جاری،ایرانی و سیاسی وفوجی قیادت سمیت 30 مقامات پر میزائل داغ دیئے
- 5 گھنٹے قبل

ایران حملے کی تیاری کر رہا ہے، حملہ تباہ کن ہوگا، سپریم لیڈراور ایرانی صدر خیریت سے ہیں،حکام
- 5 گھنٹے قبل






