سپریم کورٹ کے تین ججز نے رہا کرنے کا حکم دیا لیکن اس کے باوجود مجھے 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، شاہ محمود قریشی


سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نائب صدر شاہ محمود قریشی کو ایک مرتبہ پھر گرفتار کیے جانے کے بعد آج راولپنڈی میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، ڈیوٹی مجسٹریٹ نے شاہ محمود قریشی کے ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔ دوران سماعت شاہ محمود قریشی آبدیدہ ہو گئے۔
شاہ محمود قریشی کی پیشی پر ان کی بیٹی مہربانو اور بیرسٹر تیمور ملک بھی جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔شاہ محمود قریشی کو بکتربند گاڑی میں جوڈیشل کمپلیکس لایا گیا۔
اس موقع پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں شواہد کو عدالت میں پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کو دیکھنا ہوگا، حاصل شدہ شواہد پر شاہ محمود قریشی کو گرفتار کیا گیا، شاہ محمود قریشی کی تقریر معمولی چیز نہیں تھی۔شاہ محمود قریشی جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں میں موجود تھے یہ ہمارا کیس نہیں ہے، ہمارا کیس یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کے بعد جی ایچ کیو حملہ والا معاملہ ہوا۔
اس کے بعد پراسیکیوشن نے شاہ محمود قریشی کا تیس روزہ ریمانڈ مانگ لیا۔
شاہ محمود قریشی نے روسٹرم پر آکر کہا کہ مجھے جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا گیا،مجھے سپریم کورٹ کے تین ججز نے رہا کرنے کا حکم دیا لیکن اس کے باوجود مجھے 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، رات مجھے گرفتار کیا جاتا ہےصبح آکر کہاجاتا ہے آپ کو رہا کررہے ہیں، میں نے کہا کیا وجہ ہے جس پر کہا جاتا ہے کہ کیس میں سقم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ایک حکم نامے کے بعد گرفتار کیا جاتاہے اور پھر آرڈر واپس لیا جاتا ہے، مجھے 26 دسمبرکو گرفتار کرنے کا حکم دیا پھر ہاتھ سے تاریخ کاٹ کر 27 لکھا گیا، ابھی جیل کی حدود میں تھا کہ پنجاب پولیس گرفتار کرنے پہنچ گئی، میں 5 بار ممبر اسمبلی رہا۔
شاہ محمود نے عدالت کو بتایا کہ ایس ایچ او جمال نے مجھے دھکے لاتیں ماریں مجھے پنچ مارے گئے، میری حالت خراب تھی مجھے سینے میں تکلیف ہوئی تو گھنٹوں تک ایس پی سے درخواست کی کہ اسپتال لے جاؤ، میں نے منتیں کیں کہ مجھے سینے میں تکلیف ہے لیکن ڈاکٹر کے پاس نہ لےجایا گیا، ایک ڈاکٹر کو بلایا جس کے پاس محض بلڈ پریشر دیکھنے کی مشین تھی۔
شاہ محمود قریشی روداد بتاتے ہوئے کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے اور بتایا کہ رات بھر مجھے ٹھنڈے انتہائی فریزروم میں رکھا گیا، لائٹس بند کرکے موم بتی جلا دی گئی، پھر اچانک تیز ترین تیز روشنی کیساتھ فل لائٹس جلادی گئیں اور بیس پچیس افراد زور زور سے قہقہے لگاتے رہے، مجھے رات بھر سونے نہیں دیا گیا، کیا یہ انصاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان کی نمائندگی کی ہر جگہ پاکستان کی صفائیاں دیں اب میرے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے اور میں کئی ماہ سے جیل میں ہوں، کیا یہ انصاف ہے مجھ پر تشدد ہوا، اوپر اللہ نیچے آپ کا قلم ہے۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے دورانِ سماعت کہا کہ مجھے قوانین کا مکمل طور پر ادراک ہے، میرے مؤکل کو آپ کے ہوتے ہتھکڑی نہیں لگائی جاسکتی، میرے مؤکل کے خلاف پراسیکیوشن کے پاس صرف ایک ٹویٹ ہے۔
علی بخاری نے شاہ محمود کا ٹویٹ عدالت میں پڑھ کر سنایا اور کہا کہ شاہ محمود قریشی نے کہا چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ نکلیں یکجہتی کے لیے۔ شاہ محمود قریشی کو 24 گھنٹے تک غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا، انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے، جج کو ریمانڈ دینے کی وجوہات دینی ہوں گی۔
جس کے بعد ڈیوٹی مجسٹریٹ نے شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے رہائی ملتے ہی دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔
ملک بھرمیں اچانک تعطیل کا اعلان، کس دن چھٹی ہو گی؟
- 2 گھنٹے قبل
چارٹر طیارہ حادثے کا شکار، دو پائلٹ سمیت 8 افراد ہلاک
- ایک گھنٹہ قبل

لاہور میں مبینہ ویزہ فراڈ، چشم کشا تفصیلات سامنے آگئیں
- ایک دن قبل
عمران خان سخت سکیورٹی میں اڈیالا جیل سے شفا اسپتال روانہ
- 17 گھنٹے قبل

لاہور: پاسپورٹ آفس سے چار ملزمان گرفتار
- 2 گھنٹے قبل
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا بڑا اضافہ
- ایک دن قبل
ڈیزل سستا ہونے پرکرایوں میں کمی کا اعلان
- ایک دن قبل
’عمران خان کو صحت مند قرار'، عطا تارڑ نے پمز اسپتال میں معائنے اور واپسی اڈیالہ جیل منتقلی کی تصدیق کردی
- 3 گھنٹے قبل

کیا ٹک ٹاک پر اب رقم بھی بھیجی جا سکے گی؟
- ایک دن قبل
مصباح ارشد کو مس یونیورس پاکستان منتخب کر لیا گیا
- ایک دن قبل

بھارتی ایئرلائنز کے لیے ایک اور مشکل
- ایک دن قبل

سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 گھنٹے قبل


