Advertisement

بھارتی ایئرلائنز کے لیے ایک اور مشکل

پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی 24 ستمبر تک بڑھا دی

GNN Web Desk
شائع شدہ 43 minutes ago پر Aug 20th 2026, 5:51 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بھارتی ایئرلائنز کے لیے ایک اور مشکل

ویب ڈیسک: پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی میں مزید توسیع کردی۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری نئے فضائی نوٹس کے مطابق بھارتی رجسٹرڈ طیاروں، بھارتی ایئرلائنز کے زیرِ انتظام یا لیز پر لیے گئے طیاروں سمیت بھارتی آپریٹرز کے فوجی اور تجارتی طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

نئی پابندی 24 ستمبر 2026 کی صبح 4 بج کر 59 منٹ تک برقرار رہے گی۔ یہ پابندی کراچی اور لاہور فضائی معلوماتی خطوں پر بھی لاگو ہے۔

پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی پہلی مرتبہ اپریل 2025 میں عائد کی تھی، جس کے بعد اس میں متعدد مرتبہ توسیع کی جا چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے بھی پاکستانی طیاروں کے لیے فضائی حدود پر پابندی برقرار ہے۔

فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارت سے یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا جانے والی بعض پروازوں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گریز کرتے ہوئے متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ اور ایندھن سمیت آپریشنل اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

بھارت کی بڑی ایئرلائنز، جن میں ایئر انڈیا، انڈیگو، ایئر انڈیا ایکسپریس، اکاسا ایئر اور اسپائس جیٹ شامل ہیں، اس صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں پروازیں متبادل راستوں پر منتقل ہوئی ہیں، جبکہ دہلی کا اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی اس صورتحال سے نمایاں طور پر متاثر ہوا ہے۔


طویل متبادل فضائی راستوں کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو اضافی ایندھن، عملے اور دیگر آپریشنل اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بعض پروازوں کے لیے اضافی قیام یا ایندھن بھرنے کی ضرورت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی جانب سے پابندی میں تازہ توسیع کے بعد بھارتی ایئرلائنز کے لیے یہ صورتحال مزید کچھ عرصہ برقرار رہے گی، جس سے مسافروں کے سفر کے دورانیے اور فضائی آپریشنز کے اخراجات پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کی پابندیاں خطے کی فضائی صنعت کے لیے ایک غیر معمولی صورتحال بن چکی ہیں، جبکہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے آئندہ ہونے والی پیش رفت پر بھارتی اور پاکستانی ایئرلائنز سمیت مسافروں کی نظریں بھی مرکوز ہیں۔

Advertisement