Advertisement
پاکستان

سپریم کورٹ نےعمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا

میڈیکل بورڈ کی تشکیل، ہفتے میں ایک روز اہلخانہ سے ملاقات اور مکمل طبی ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت

GNN Web Desk
شائع شدہ 44 minutes ago پر Aug 18th 2026, 1:43 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سپریم کورٹ نےعمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آئندہ سماعت تک شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ ان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اسپتال کے باہر امن و امان کی صورت حال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں اور علاج سے متعلق مقدمات کی سماعت دو رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل تھے۔

سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ عدالت کو فراہم کیا گیا مواد صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عمران خان کا تمام طبی ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل عدالت میں جمع کرایا جائے۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ جب ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے حکام کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے استفسار کیا کہ اس میں انجیوگرافی کی ضرورت کا ذکر ہے، کیا جیل میں انجیوگرافی ہوسکتی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ یہ طریقہ کار جیل سے باہر اسپتال میں ہوسکتا ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی نبض اور دل کی دھڑکن نارمل نہیں، جبکہ طبی رپورٹس کے مطابق ان کے اہم اعضا متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے ملاقات کے معاملے پر بھی سوالات کیے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ریاست بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گی؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں کیا جارہا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ گزشتہ تین برس کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی 48 ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات طلب کرنے کے ساتھ عمران خان کی اپنے بچوں سے بات چیت کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی ملاقاتیں باقاعدگی سے ہونی چاہئیں اور بہنوں و ڈاکٹروں کو ان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

عزیر بھنڈاری نے استدعا کی کہ عمران خان کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں مکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔ جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا ضمانت دی جاسکتی ہے کہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں ہوگی؟ وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ڈاکٹر عاصم یوسف ملاقات کے بعد میڈیا سے بات نہیں کریں گے۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اور عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے ڈاکٹر عظمیٰ کی طبی اہلیت کے بارے میں دریافت کیا تو وکیل نے بتایا کہ وہ میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے ڈاکٹر عاصم یوسف کے حوالے سے سوال کیا کہ وہ معدے کے ماہر ہیں جبکہ رپورٹ کے مطابق عمران خان کو معدے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ کسی درخواست گزار نے بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کی اہلیت پر اعتراض نہیں کیا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہ کرنے کی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی گئی، جبکہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر میڈیا سے گفتگو کے ذریعے یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ یقین دہانی ان کی جانب سے تھی، باقی افراد کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی گئی تو سلمان اکرم راجہ کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ایک بار پھر کہا کہ پی ٹی آئی کو یہ طے کرنا ہوگا کہ بانی کی طبی حالت اور علاج کو سیاسی معاملہ نہیں بنایا جائے گا۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پی ٹی آئی اور خاندان کو حلف نامہ دینا ہوگا کہ ملاقات کے بعد کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہوگی۔ دوران سماعت عدالت نے عظمیٰ خان کو براہ راست بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں، وہ عدالت میں آپ کی نمائندگی کریں گے۔

عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بلڈ کلاٹ کیوں ہوا، اس کی وجہ سامنے آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 1979 میں جو کچھ ہوا، وہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے عمران خان کے خلاف مقدمات کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے وہ کتنے مقدمات میں زیرِ سماعت قیدی ہیں، کتنے مقدمات میں سزا یافتہ ہیں اور کتنے مقدمات میں سزائیں معطل ہوچکی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل حکام سے بھی گزشتہ تین برس کے دوران عمران خان سے ہونے والی ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کیوں ہوئی۔

جسٹس شاہد وحید نے پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی سے کس بہن کی ملاقات ہونی چاہیے؟ عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ عظمیٰ خان چونکہ ڈاکٹر ہیں، اس لیے انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ عظمیٰ خان کی درخواست پر انہیں نوٹس جاری نہیں ہوا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اس نکتے کو بھی دیکھا جائے گا، کیونکہ اس معاملے میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد پیش ہوچکے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وہ عظمیٰ خان کے مقدمے میں پیش نہیں ہوئے، جس پر جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا کہ یہ بات صبح کیوں نہیں بتائی گئی؟ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ آپ اسلام آباد کے سینئر ترین قانونی افسر ہیں، ایسا نہ کریں۔

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو نجی اسپتال ہی منتقل کرنے پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟ عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ عمران خان کو اکثر پمز اسپتال لے جایا جاتا رہا ہے۔

عدالت نے نجی اسپتال کے اخراجات کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر عظمیٰ خان کے وکیل نے بتایا کہ یہ اخراجات وہ خود برداشت کریں گے۔

عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ عمران خان کے علاج سے متعلق طبی رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی ضمانت کون دے گا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاسی جماعت طبی رپورٹس کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرے گی اور یہ رپورٹس ڈاکٹرز اور بانی پی ٹی آئی کے خاندان کا معاملہ ہیں۔

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو عمران خان کے علاج کو سیاسی معاملہ بنانے سے روکتے ہوئے قرار دیا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی بانی پی ٹی آئی کے ہمراہ ہوں گے۔

عدالت نے عمران خان سے ہفتے میں ایک روز اہلخانہ کی ملاقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے، جبکہ نجی اسپتال کے تمام اخراجات پی ٹی آئی برداشت کرے گی۔

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں سے متعلق مقدمات کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل حکام کو بھی طلب کرلیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان کو سخت سکیورٹی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور اسپتال کے باہر امن و امان کی صورت حال ہر صورت برقرار رکھی جائے۔

Advertisement
Advertisement