Advertisement
پاکستان

پاکستان بہادر کشمیری عوام کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، نگران وزیراعظم

انوا ر الحق کاکڑ کا یوم حق خود ارادیت کے موقع پرپیغام

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 5th 2024, 4:22 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاکستان بہادر کشمیری عوام کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، نگران وزیراعظم

اسلام آباد: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہاہے کہ 5جنوری کا دن کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا اعادہ ہے ،ساڑھے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت کے غیر قانونی طور پرزیر تسلط جموں و کشمیر کے مظلوم عوام اس بنیادی حق کا استعمال نہیں کر سکے،جس کے تحت تنازعہ کشمیر استصواب رائے سے حل کیا جانا تھا۔

پاکستان بہادر کشمیری عوام کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق سمیت ان کے حقوق کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی مکمل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیا ن کے مطابق یوم حق خود ارادیت کے موقع پر اپنے پیغام میں نگران وزیراعظم انوا ر الحق کاکڑ نے کہا کہ آج دنیا بھر کے کشمیری اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان (یو این سی آئی پی) کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جس کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کا فیصلہ جمہوری طریقے سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن کشمیریوں کے اس ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا اعادہ ہے جو بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق نے بھی اس کی تائید کی ہے۔

یہ افسوسناک امر ہے کہ ساڑھے سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت کے غیر قانونی طور پر بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے مظلوم عوام اس بنیادی حق کا استعمال نہیں کر سکے۔ بھارت جموں و کشمیر کے عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

5 اگست 2019 سے، بھارت ایک نئے سازشی عمل میں مصروف ہے جس کا مقصد بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب اور سیاسی منظر نامے کو تبدیل کر کے کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین میں ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل کرنا ہے۔

جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے انکار کی جانب ایک اور قدم ہے۔ اس طرح کی قانون سازی اور انجینئرڈ عدالتی فیصلوں کے ذریعے کشمیریوں کی حقیقی امنگوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

 

Advertisement