Advertisement
پاکستان

الیکشن کمیشن نے آر اوز کو باقاعدہ معاونت فراہم نہیں کی، الیکشن اپیلٹ ٹریبونل

الیکشن کمیشن نے آر اوز کو تربیت فراہم کی مگر پورا قانون نہیں پڑھایا گیا، جسٹس ارباب

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 5th 2024, 7:01 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
الیکشن کمیشن نے آر اوز کو باقاعدہ معاونت فراہم نہیں کی، الیکشن اپیلٹ ٹریبونل

الیکشن اپیلٹ ٹریبونل  کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے اپیل کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے آر اوز کو باقاعدہ معاونت فراہم نہیں کی، آر او کے ساتھ الیکشن کمیشن کا نمائندہ ہونا چاہیے تھا۔ الیکشن کمیشن نے آر اوز کو تربیت فراہم کی مگر پورا قانون نہیں پڑھایا گیا۔

الیکشن اپیلٹ ٹریبونل میں کاغذات نامزدگی سے متعلق درخواستوں اور اپیلوں پر سماعت کے دوران اسلام آباد اپیلٹ ٹریبونل کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے آر اوز سے متعلق اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ افسران جب اسکروٹنی کررہے ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ الیکشن کمیشن کا نمائندہ ہونا چاہیے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے سماعت کے دوران بتایا کہ آر اوز کو پہلے تربیت فراہم کی گئی تھی ، جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ تربیت تو فراہم کی گئی لیکن پورا قانون نہیں پڑھایا گیا، آر او صاحب نے اپنے آرڈرز میں عدالتی فیصلوں کے بھی حوالے دیئے ہیں کچھ آرڈرز میں تو متعدد عدالتی حوالے دیئے گئے ، کافی تفصیلی آرڈرز تھے۔ آپ نے جن فیصلوں کا حوالہ دیا ،کیا وہ مکمل پڑھے بھی تھے ؟

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ریٹرننگ افسران نے الیکشن ایکٹ کا 62(9) تو پڑھ لیا کہ کاغذات مسترد کرسکتے ہیں لیکن الیکشن ایکٹ کا 62(10) نہیں پڑھا۔ پڑھتے تو پتا چل جاتا کہ کیسے کنفرنٹ کرانا ہے ۔الیکشن کمیشن نے آر اوز کو باقاعدہ معاونت فراہم نہیں کی۔ آر او کے ساتھ کمیشن کا نمائندہ ہونا چاہیے تھا۔

ریٹرننگ آفیسر نے جواب دیا کہ عدالتی فیصلے کا متعلقہ حصہ پڑھا تھا، جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ آپ کی نظر سے سپریم کورٹ کے دیگر فیصلے بھی گزرے ؟صرف کاغذات مسترد کرنے والے فیصلے ہی کیوں نظر سے گزرے؟ ، جس پر ریٹرننگ افسر خاموش رہے۔

Advertisement