Advertisement
پاکستان

پاکستان نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کامسئلہ اٹھا دیا

اقوام متحدہ کے الائنس آف سویلائزیشنز (یو این اے او سی) کے اعلیٰ عہدیدار بھارت میں اسلامی تنصیبات اور مقامات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں، منیر اکرم

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 25th 2024, 7:33 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاکستان نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کامسئلہ اٹھا دیا

پاکستان نے شہید بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کےافتتاح کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے الائنس آف سویلائزیشنز (یو این اے او سی) کے اعلیٰ عہدیدار پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں اسلامی تنصیبات اور مقامات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے  یو این اے او سی کے اعلیٰ نمائندے میگوئل اینجل موراٹینوس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایودھیا میں ہونے والے واقعے نے بھارت میں ہندومذہبی اکثریت کے دوسروں سے امتیازی سلوک میں پریشان کن اضافے ہو رہا ہے۔

انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ گزشتہ 31 سالوں میں ہونے والی پیش رفت، جو حالیہ تقریب میں اختتام پذیر ہوئی،،بھارت میں ہندو اکثریت پسندی میں پریشان کن عروج کی طرف اشارہ ہے۔ یہ رجحان بھارتی مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی بہبود کے ساتھ ساتھ خطے میں ہم آہنگی اور امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

میر اکرم کاکہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، کیونکہ وارانسی کی گیانواپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد سمیت دیگر مساجد کو بھی اسی طرح کی بے حرمتی اور مسماری کے خطرات کا سامنا ہے۔ بھارتی ریاستوں کے کچھ وزرائے اعلیٰ کے بیانات نے ایسے اقدامات کو پاکستان کے خلاف علاقائی دعوؤں سے جوڑ دیا ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ وہ بھارت میں مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے آپ کی فوری مداخلت کے لیے لکھ رہے ہیں ۔

ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے کوششیں تیز کریں اور بھارت میں مذہبی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ او آئی سی کے سفیروں نے اس مسئلے کی اہمیت کو تسلیم کیا، بعض سفیروں نے بعض یورپی ممالک میں مساجد پر حملوں کا ذکر کیا۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل نمائندہ ریاض منصور نے اسرائیل کی طرف سے مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی اور مقبوضہ علاقوں میں مساجد اور گرجا گھروں کی مسماری کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ اجلاس میں اس معاملے کو او آئی سی کے آئندہ سفیروں کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

Advertisement
Advertisement