Advertisement
پاکستان

توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سناتے وقت میرٹ کو نہیں دیکھا گیا، بیرسٹر اعتزاز احسن

فیئر ٹرائل سمیت ملزموں کے تمام بنیادی حقوق مجروح کئے گئے، سینئر قانون دان

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 31st 2024, 7:41 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
توشہ خانہ کیس کا  فیصلہ سناتے وقت میرٹ کو نہیں دیکھا گیا، بیرسٹر اعتزاز احسن

سینئیر قانون دان بیرسٹر اعتراز احسن نے توشہ خانہ کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ سناتے وقت میرٹ کو نہیں دیکھا گیا، فیئر ٹرائل سمیت ملزموں کے تمام بنیادی حقوق مجروح کئے گئے۔ اپیل میں یہ فیصلہ 15 منٹ بھی نہیں ٹک سکے گا۔ بانی پی ٹی آئی کی سزائیں فوری ہائیکورٹ سے معطل ہونی ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ سزائیں دیتے وقت ملزم کو دفاع کا حق نہیں دیا گیا۔ پراسکیوشن کے وکلاء کو ملزم کا وکیل مقرر کروایا گیا، ملزم کا 342 کا بیان بغیر لیے سزا ہوئی، سائفر کیس میں ملزم کے گواہوں کو نہیں بلوایا گیا، سائفر میں بانی پی ٹی آئی کے 342 کے بیان پر ان کے دستخط ہی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی سزا پر جگ ہنسائی ہوگی، ملزمان کو بغیر موقع دیئے سزا دی جاتی ہے، اس سزا کے ملکی معشیت پر برے اثرات پڑیں گے۔ 8 فروری سے پہلے اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے بھی توشہ خانہ سے گاڑیاں لی ہیں اور فروحت بھی کیں، ان پر ایسا کوئی کیس نہیں بنایا گیا، ہم پچھلے سترہ سال سے یہی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں اس کو اب بند ہونا چاہیے ۔آج ایک پارٹی کے ساتھ یہ ہورہا ہے کل کسی اور سیاسی جماعت سے ہوگا۔

ماہر قانون حسن رضا کا نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی بڑی طرح سے پھنس گئے ہیں، نیب قانون کے مطابق 7 دن میں اپیل کرنا پڑے گی۔ سزا زیادہ سے زیادہ کی گئی ہے اس کی سکروٹنی اور دلائل کے لئے سال ہہ سال لگے گے۔

Advertisement