انتخابی عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی گئی، نگران وزیر اعظم
اگر لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں تھی تو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بڑی تعداد کیسے کامیاب ہوئی ہے، انوار الحق کاکڑ


نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوئے ہیں، انتخابی عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی گئی ، انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں ہوتا، پاکستان کو دہشت گردی کے چیلنجز درپیش ہیں، موبائل فون سروس عوام کے تحفظ کیلئے بند کی گئی،
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد میں سکیورٹی اداروں نے اہم کردار ادا کیا، دہشت گردی کے خطرات کے باوجود پرامن انتخابات کا انعقاد ہوا، انتخابات کے دوران بین الاقوامی مبصرین موجود رہے۔ انتخابی نتائج پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد 36 گھنٹے میں مرتب ہوئے جبکہ 2018ء میں یہ عمل 66 گھنٹے میں مکمل کیا گیا تھا، 92 ہزار پولنگ سٹیشنز کو محفوظ بنانے کیلئے جامع انتظامات کئے گئے تھے، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر انتخابی نتائج کے حوالے سے بڑھا چڑھا کرتجزیے پیش کئے گئے، الیکشن کمیشن کی جو ذمہ داری تھی وہ اس نے پوری کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیاں کسی بھی معاملہ پر کی جا سکتی ہیں، سکیورٹی معاملات سے آگاہی رکھنے والے افراد موبائل سمز کے آئی ای ڈیز کیلئے استعمال کئے جانے کے بارے میں جانتے ہیں۔ پشین اور قلعہ سیف اﷲ میں یہ طریقہ کار اختیار کیا گیا، یہ اطلاعات تھیں کہ غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد ملک بھر میں پورے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، پھر حکومت کے پاس کیا راستہ رہ جاتا تھا، کیا اسے اپنے عوام کی حفاظت کیلئے اقدامات نہیں کرنے چاہئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر کا مطلب دھاندلی نہیں ہے، انتخابی نتائج میں تاخیر تو ہم برداشت کر سکتے ہیں لیکن دہشت گردی نہیں، ملک بھر میں 92 ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنز بنائے گئے تھے جنہیں آر او آفس اور الیکشن کمیشن کے دفاتر سے منسلک کیا گیا تھا، اس تمام عمل کیلئے کچھ وقت تو درکار تھا، ہر الیکشن کے بعد باتیں کی جاتی ہیں، 35 پنکچرز اور بعد میں اسے ایک سیاسی بیان کس نے قرار دیا تھا؟ تب ایک عدالتی کمیشن بھی بنا تھا پھر اس کا کیا ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین ہمارے دوست ممالک ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کا ابتدائی تجزیہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر دی جانے والی معلومات پر مبنی ہوتا ہے، ذمہ دار حکومتیں انتظار کے بعد اپنا مؤقف اختیار کریں تو یہ بہتر ہوتا ہے، اگر ہمیں تحقیقات کرانا ہوں گی تو ہم ایسا امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے مطالبہ پر نہیں کریں گے بلکہ اپنے طریقہ کار کے مطابق کریں گے کیونکہ ہم ایک خودمختار ملک ہیں، ایسے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ہمارے اپنے قوانین موجود ہیں، ایسے چیلنجز تو کیپٹل ہل میں بھی موجود تھے، کیا ہم نے کہا کہ امریکہ عدالتی کمیشن بنائے کہ امریکہ کا آئندہ صدر کون ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ حکومت کیلئے سنجیدہ اقتصادی چیلنجز موجود ہیں، وہ ان چیلنجز پر قابو پانے کیلئے اقدامات کرے گی، اقتصادی استحکام اور قانون سازی کیلئے سیاسی اختلافات پر قابو پانے کی ضرورت ہے، اس کیلئے سیاسی مکالمے کی بھی ضرورت ہے، آئی ایم ایف پروگرام پر بھی بات کرنا ہو گی، انتخابات اب ہو گئے ہیں، جو جو بھی کسی کے سیاسی یا معاشی اہداف ہیں ان کو سامنے رکھ کر آگے چلیں گے تو سب کے حق میں بہتر ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام کا فیصلہ منتخب حکومت ہی کرے گی، پی آئی اے کی نجکاری کیلئے مکمل پلان تیار کیا گیا ہے، آئندہ حکومت ہی اس پر عملدرآمد کیلئے کوئی پیشرفت کرے گی۔ سب کو اپنے رویوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے، نفرت کو ختم کرکے ایک دوسرے کا احترام کرنا ہو گا، ہمیں اب صحت مند تبدیلی اور صحت مند پاکستان کی طرف قدم بڑھانے چاہئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات لگانا آسان ہیں ،ان کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے، انتخابی عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دی گئی ، اگر لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں تھی تو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بڑی تعداد کیسے کامیاب ہوئی ہے، حیرت ہے کہ قومی اسمبلی میں سب بڑا کامیاب گروپ ہونے کے باوجود دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ قومی اسمبلی کے تمام کامیاب ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہو پھر اس کیلئے ہم تو کچھ نہیں کر سکتے، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے قومی اسمبلی، پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن انہوں نے بلوچستان اور سندھ میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اس لئے وہاں سے انہیں کوئی نشست نہیں ملی۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب انہوں نے منصب سنبھالا تو یہاں پر سیاسی مفرو ضے اور سیاسی تھوریاں پیش کی گئیں کہ انہیں چار، پانچ سال کیلئے لایا گیا ہے لیکن اب کوئی بھی اس پر پیشمانی کا اظہار نہیں کرے گا کہ ہمارے تجزیے اور نام نہاد ذرائع غلط ہو گئے ہیں، یہی وہ المیہ اور مسئلہ ہے جو ہمارا معاشرتی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، حقائق سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سابق رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کی صحت یابی کیلئے دعاگو ہوں، کلاشنکوفوں اور جتھہ برداروں کے ساتھ آر او آفس کے سامنے مظاہرے کرنے کے رویہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اﷲ پاکستان جیتے گا، اصولوں کے اندر رہ کر چلیں گے تو سب کو موقع ملے گا، قوم کو انتخابی نتائج قبول ہیں۔

اسٹیج کے سینئر اداکار آصف اقبال انتقال کر گئے
- a day ago

ایک دن کی کمی کے بعد ملک میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
- 2 days ago

احسن اقبال نے انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح کردیا
- a day ago

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد دھماکے میں ملوث تمام سات خوارج ہلاک
- a day ago

کسی کو اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا، محسن نقوی
- 2 days ago
وفاقی حکومت نے تین ماہ کی کفایت شعاری مہم کا اعلان کر دیا
- 3 days ago

کوہاٹ پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید، متعدد زخمی
- 2 days ago

پی ٹی آئی مارچ: آئی جی خیبر پختونخوا نے پولیس افسران کو ریلی یا جلوس میں مدد فراہم نہ کرنیکی ہدایت کر دی
- a day ago

علی ظفربالی وڈ اداکارہ کترینہ کیف کے حق میں بول پڑے
- 2 days ago

پیٹرول ریلیف اسکیم: 5 لیٹر سے کم پیٹرول ڈلوانے والوں کے لیے بھی رعایت کا اعلان
- a day ago

ساڑھے سترہ لاکھ سے زائد افراد فیول ریلیف سکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، شزہ فاطمہ
- a day ago

پاکستان سعودی عرب کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل تیار ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 2 days ago

