یورپی ممالک کا یوکرین کو مزید جنگی سازوسامان کی فراہمی کے لئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق

.jpg&w=3840&q=75)
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے یورپی ممالک کی طرف سے یوکرین میں فوجی دستے بھیجنے کا عندیہ دیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر اس معاملے پر اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق یوکرین کو اسلحہ کی فراہمی میں تاخیر کے مسئلہ پر غور کے لئے بلائے گئے اجلاس میں یورپی ممالک نے یوکرین کو مزید جنگی سازوسامان کی فراہمی کے لئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اجلاس میں شریک 20 کے قریب یورپی رہنماؤں نے روس کو یوکرین جنگ میں فتح سے روکنے کے لئے سب کچھ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
فرانسیسی صدر نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یوکرین کے خلاف روسی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے اور روسی فوج کو پیچھے دھکیلنے میں ابتدائی کامیابیوں کے بعد، یوکرین کو مشرقی میدان جنگ میں دھچکا لگا ہے اور یوکرینی جرنیلوں نے ہتھیاروں اور فوجیوں کی کمی کی شکایت کی ہے۔
سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو نے یوکرین کو فوجی امداد دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ نیٹو اور یورپی یونین کے کئی رکن ممالک کی طرف سے یوکرین میں فوجی دستے بھیجنے پر غور انتہائی خطرناک ہے۔
اجلاس سے یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے بھی وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا ۔ انہوں نے روس کے خلاف جنگ کو جیتنے کے لئے یوکرین کو اسلحہ کی فراہمی تیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل تک کئی یورپی ممالک یوکرین کو ٹینک، لڑاکا طیارے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل راہم کرنے کے حق میں نہیں تھے لیکن آج ان کا نقطہ نظر تبدیل ہو چکا ہے۔
انہوں نے یوکرین کو اسلحہ کی فراہمی میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں لڑنے کے لیے یورپ کو امریکا پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔اجلاس میں یوکرین کے لیے تازہ ترین فوجی امدادی پیکج کی امریکی کانگریس سے منظوری میں تعطل کے باعث امریکا پر تنقید بھی کی گئی۔
پرتگال کے وزیر اعظم انتونیو کوسٹا نے کہا کہ یوکرین کو اسلحہ و گولہ بارود کی فراہم کے لئے وزرائے دفاع کو اگلے 10 دنوں کے اندر ایک منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس موقع پر نیدر لینڈز کی طرف سے یوکرین کے لئے بیرون ملک سے اسلحہ کی خریداری کے لیے 100 ملین یورو فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

ایران پر ابھی سخت حملے شروع نہیں کیے، میزائل پروگرام کو ختم کرنا پہلی ترجیح ہے ،ٹرمپ
- 20 گھنٹے قبل

اسرائیلی فورسزکی جارحیت جاری ، لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی، 52 افراد جاں بحق
- 3 گھنٹے قبل

فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ
- 3 گھنٹے قبل

ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی
- 3 گھنٹے قبل

174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام
- 34 منٹ قبل

کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی
- 2 گھنٹے قبل

افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق پوری شدت سے جاری،مزید 67 خارجی جہنم واصل
- 4 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع
- 23 منٹ قبل

پیپلز پارٹی کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات،حکومتی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار
- 3 گھنٹے قبل

امریکی میرینز نے کراچی میں قونصل خانے پر دھاوا بولنے والے مظاہرین پر فائرنگ کی ،رائٹرز
- 4 گھنٹے قبل

وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات،علاقائی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال
- 20 گھنٹے قبل

مودی سرکار نے اسرائیل کی حمایت کر کے بھارت کی سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا ہے،سونیا گاندھی
- 3 گھنٹے قبل













