الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے، بیرسٹر علی ظفر
اگر ہماری سیٹیں چھین کر بانٹ دی گئیں تو صدر اور وزیر اعظم سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے،رہنما پی ٹی آئی


پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اگر ہماری سیٹیں چھین کر بانٹ دی گئیں تو صدر اور وزیر اعظم سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے، اُمیدہے آئین اور قانو ن کے مطابق فیصلہ ہوگا،اگر الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے۔
مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کی سماعت ہوئی، ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہےلیکن عمل نہیں کرتی، آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، آئین میں جو حصہ دوسری جماعتوں کا ہے آپ وہ انہیں دے چکے ہیں اور پی ٹی آئی ارکان کو آئین کے مطابق حصہ دینا ہی دینا ہے۔
علی ظفر نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ ہماری مخصوص نشستیں خود میں تسلیم کرلیں، مخصوص نشستیں کوئی خیرات نہیں آئینی حق ہے، ہم نے کہا الیکشن کمیشن یہ معاملہ خالی بھی نہیں چھوڑسکتا، جنہیں نشستیں مل گئی انہیں دوبارہ نہیں مل سکتیں، دوران سماعت کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت تو ہے لیکن انہوں نے پارلیمنٹ میں کوئی سیٹ نہیں جیتی ، اس لئے آزاد ارکان کی اس جماعت میں شمولیت کے بعد بھی کوئی مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتی،ہم نے آرٹیکل 51 دکھایا کہ ارکان کسی بھی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں،آئین میں کہیں یہ قدغن نہیں لگائی کہ اسی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں جو پارلیمنٹ میں ہو۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ دوسری بحث یہ کی کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی لسٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرائی جس کے جواب میں ہم نے کہا کہ قانون میں کہا لکھا ہے کہ لسٹ بعد میں جمع نہیں کرائی جا سکتی۔اگر مخصوص نشستیں چھین کر دوسری جماعتوں میں بانٹی گئیں تو وہ سپریم کورٹ جائیں گے لیکن اگر ایسی بانٹ ہوئی تو صدر کا الیکشن، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کے الیکشن سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے۔
پی ٹی آئی رہنما علی ظفر کا مزید کہنا تھا کہ خط میں کہیں نہیں لکھا کہ ہمیں مخصوص سیٹیں نہیں چاہیئے، اس خط کا مخصوص نشستوں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کا خط انہیں دکھایا نہیں گیا لیکن انہیں معلوم ہوا ہے کہ وہ خط رول 206 کے تحت لکھا گیا تھا، جب الیکشن کمیشن نے رسمی کارروائی کے لیے سنی اتحاد کونسل سے پوچھا کہ انہوں نے مخصوص نشستوں کے لیے ترجیحی فہرست فراہم نہیں کی تو جواب میں سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ انہوں نے الیکشن نہیں لڑا اور اس فہرست کی ضرورت نہیں۔
اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئین کے مطابق پی ٹی آئی کے 293 اراکین نے سنی اتحاد جوائن کیا، قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے 86 اراکین نے سنی اتحاد جوائن کیا، پنجاب سے 107، خیبرپختونخوا سے 91 جبکہ سندھ اسمبلی سے 9 ایم پی ایز نے جوائن کیا۔
اس سے قبل سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے سے متعلق درخواستوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سرگودھا ریجن پولیس کے 8 شہداء کے ورثاء میں پلاٹوں کے کاغذات تقسیم
- a day ago

ہانگ کانگ سپر سکسز: پاکستان نے بھارت کو 4 وکٹوں سے شکست دیدی
- 2 days ago

ملک میں سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
- 16 hours ago

اداکار معمر رانا کی بیوی نے لاہور کی فیملی عدالت سے خلع لے لیا
- 14 hours ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 2 days ago

پاکستان، سنگاپور کا مختلف شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار
- 2 days ago

پاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 12 hours ago

اسپین: دو تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم، 68 افراد ہلاک
- 3 days ago
نوشہرہ میں فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنرمانسہرہ زخمی
- 16 hours ago

کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری
- 2 days ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 2 days ago

پاکستانی نژاد امریکی اداکار فاران طاہر کی اٹھارہ سال بعد ہالی وڈ واپسی
- 14 hours ago






