اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو، ریاض المالکی


فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بڑے کھلے الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انہیں ماسکو میں فلسطینی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کسی معجزے کا امکان نہیں ہے، جس کے تحت اگلی حکومت میں حماس بھی شامل ہو سکتی ہو۔ کیونکہ اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا حماس کو بھی اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ وہ اگلی حکومت کا حصہ نہیں بن سکے گی۔ اب ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی ضرورت ہے۔ ٹیکنو کریٹس کی ایسی حکومت جو کسی ایسے گروپ کے بغیر ہو جو اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی تلخ جنگ لڑ رہا ہو، یہ وقت ایک مخلوط حکومت قائم کرنے کا نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں حماس کی شمولیت کی وجہ سے بہت سے ملک ہماری حکومت کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔
ریاض المالکی نے مزید کہا ہم نہیں چاہتے کہ دوبارہ وہی صورت حال بن جائے ، ہم دنیا کے لیے قابل قبول بننا چاہتے ہیں تاکہ ہم دنیا کے ساتھ مل کر کام کر سکیں ۔ ہم کسی معجزے کی توقع نہیں کر رہے کہ ماسکو میں کوئی معجزہ ہو جائے گا۔
واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم نے پیر کے روز اپنی حکومت سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر صدر محمود عباس نے اگلی حکومت کی تشکیل تک انہیں اور ان کی حکومت کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی دنیا کی بڑی طاقتوں اور اسرائیل کے انداز میں سوچتی ہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کی نئی حکومت بننی چاہیے جو غزہ اور رام اللہ دونوں کا کنٹرول رکھتی ہو۔
تاہم ریاض المالکی نے کہا ہماری اس وقت ترجیح یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمارے ساتھ جڑی رہے تاکہ فلسطینیوں کو ہنگامی طور پر ریلیف ملتا رہا اور پھر دیکھا جا سکے کہ غزہ کی تعمیر نو کیسے کرنی ہے۔ ہاں بعد ازاں جب صورت حال بہتر ہو گی تو ہم اور طرح سوچ سکتے ہیں۔ مگر ابھی ہمیں درپیش مسئلے سے نکلنا ہے۔ کہ اس پاگل جنگ کو کیسے روکیں فلسطینی عوام کا تحفظ کیسے کریں۔'
انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ حماس سمجھتی ہو گی کہ اسے حکومت کا حصہ کیوں نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے تصور کی حماس بھی حمایت کرے گی۔ ایک ایسی حکومت جو ماہرین پر مشتمل ہو۔ جس میں ایسے افراد شامل ہوں جو ان حالات میں باگ دوڑ سنبھالنے اور ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں کہ یہ ایک مشکل ترین وقت ہے۔ ہمیں اس میں قابل قبول عبوری حکومت بنا کر انتخابات کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 9 گھنٹے قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- ایک دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 7 گھنٹے قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- ایک دن قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
- 9 گھنٹے قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 7 گھنٹے قبل
امریکی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ
- 10 گھنٹے قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 7 گھنٹے قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- ایک دن قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- ایک دن قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- 2 دن قبل



