غزہ میں یامدادی سامان سی 130 طیاروں کے ذریعے پھینکی ، ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے غزہ کے لوگوں کے لیے 38 ہزار کھانے پھینکے گئے


امریکہ نے بھی ہوائی جہاز کے ذریعے غزہ میں امدادی سامان پھینک کر خود کو ان ملکوں میں شامل کر لیا ہے جنہوں نے غزہ میں زمینی راستے سے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں کے سبب ہوائی جہاز سے امداد تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے ۔
امریکہ کی طرف سے یہ فضائی امدادی کارروائی ایسے موقع پر کی گئی ہے جب اسرائیلی فوج نے کم از کم 112 فلسطینیں کو کھانے پینے کی اشیا کے حصول کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیا۔ اس بہیمانہ واقعے پر اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس کی حامی و اتحادی ممالک کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اس شدید تنقید کے ماحول میں یہ امریکی امدادی کارروائی سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے اردن، برطانیہ اور فرانس کی طرف سے ہوئی جہازوں سے غزہ میں امدادی سامان گرایا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کےغزہ میں رابطہ دفتر کا کہنا ہے کہ اس وقت کم از کم 5 لاکھ 76 ہزار فلسطینی قحط زدگی کے قریب ہیں۔
امریکہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے غزہ میں یہ امدادی سامان سی 130 طیاروں کے ذریعے پھینکی ہے۔ ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے غزہ کے لوگوں کے لیے 38 ہزار کھانے پھینکے گئے۔ وائٹ ہاؤس کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ہوائی جہازوں کے ذریعے امدادی سرگرمی جاری رہے گی ، نیز اسرائیل نے بھی اس کوشش کی حمایت کی ہے۔
امدادی سرگرمیوں سے متعلق ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ یہ ایک نہایت مہنگا طریقہ ہونے کے باوجود ایک محدود سطح کی کوشش ہو سکتی ہے۔ نیز یہ غزہ کے لوگوں کے لیے بہت ہی ناکافی ہے۔ ہوائی جہازوں سے امدادی سامان گرانے پر تنقید کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے امداد جنگجووں کے ہاتھ لگنے کو بھی نہیں روکا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کا فائدہ بہت معمولی ہو گا۔
واضح رہے غزہ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ہر روز 500 ٹرک امدادی سامان لے غزہ آتے تھے۔ ماہ جنوری کے دوران یہ تعداد 150 ٹرکوں تک رہی جبکہ ماہ فروری کے دوران غزہ کے 23 لاکھ بے گھر لوگوں کے لیے یومیہ بنیادوں پر 97 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان آتا رہا۔
اسرائیل نے اس دوران رفح کی راہداری کو بھی بند کیے رکھا ہے ، جبکہ کریم شالوم کی راہداری سی سے امدادی سامان سے بھرے ٹرکوں کو آنے کی کسی قدر اجازت دی۔ مگر کریم شالوم سے داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کو اسرائیلی احتجاجی کارکن روک دیتے ہیں۔

صومالی قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی شہریوں کی رہائی کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، دفتر خارجہ
- ایک دن قبل

اپنا گھر سکیم میں شہریوں کی بڑی تعداد کا حصہ لینا خوش آئند ہے،وزیراعظم
- 19 گھنٹے قبل

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں تیز بارش کے موشم خوشگوا ر ہو گیا،شہری خوشی سے نہال
- 19 گھنٹے قبل
.webp&w=3840&q=75)
اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال
- 19 گھنٹے قبل

امریکی صدرکی ایک دفعہ پھر ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی دھمکی، تیل تنصیبات پر قبضے کا عندیہ
- 20 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی، گزشتہ دوروز میں کئی ہزار روپے سستا
- 21 گھنٹے قبل

اقوام متحدہ نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی
- ایک دن قبل

بحری فاع کو مزید مظبوط بنانے کا عزم،پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوزکی کراچی پہنچ گئی
- 18 گھنٹے قبل

مہمند: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک خارجی افغان شہری نکلا
- 21 گھنٹے قبل

وزیر خزانہ نے قومی اقتصادی سروے پیش کر دیا، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے،معاشی ترقی3.7 فیصد رہی
- ایک دن قبل

مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ
- ایک دن قبل

وزیراعظم سے وزیر خزانہ کی ملاقات،اکنامک سروے آف پاکستان 26-2025ء پیش کر دیا
- ایک دن قبل










