اسلام آباد:حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)نے 26 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کا اجلاس سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، پیپلز پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی ، راجا پرویز اشرف، شیریں رحمان، آفتاب شیرپاؤ ، محمود اچکزئی، اختر مینگل سمیت پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
حکومت گراؤ مشن میں پی ڈی ایم کی طویل بیٹھک ہوئی اور اپوزیشن کی جانب سے لانگ مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دینے کی تجویز زیر غور آئی جبکہ پیپلز پارٹی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اصرار کرتی رہی اور مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان بلاول کو قائل کرنے کی کوششیں کرتے رہے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے مریم نواز اور بلاول کی الگ کمرے میں ملاقات بھی ہوئی۔
اجلاس میں ن لیگی رہنماؤں نے سوال اٹھایاکہ کیا تحریک عدم اعتماد کےلئے ہمارے نمبرز پورے ہیں؟ جبکہ سینئر جیالوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے لئے پنجاب میں پی ٹی آئی کی کمزور پوزیشن سے فائدہ اٹھایا جائے ۔
تاہم پی ڈی ایم رہنماؤں کے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری شرکاء کو قائل کرنے میں ناکام رہے اور پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی کے استفسار پر مطمئن نہ کرسکے۔پی ڈی ایم اجلاس کے اختتام پرسینٹ الیکشن تک استعفوں اور تحریک عدم اعتماد کا معاملہ موخر کردیا گیا جبکہ حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)نے 26 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
خیال رہے کہ اجلاس سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن اور نواز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف نے مولانا فضل الرحمٰن کو لانگ مارچ ، استعفوں اور دھرنے کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک کا پہلا مرحلہ 13 دسمبر کو لاہور میں جلسہ عام کی شکل میں اچانک اختتام کو پہنچا تھا کیونکہ قیادت اپنی مہم کو تیز کرنے کے لیے آئندہ کے کسی بھی منصوبے کا اعلان کرنے میں ناکام رہی تھی، اگرچہ پی ڈی ایم رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اضلاع کی سطح پر مظاہروں اور پہیہ جام ہڑتالوں اور لاہور کے جلسہ عام کے دوران لانگ مارچ کے بارے میں کوئی اعلان کریں گے لیکن اس طرح کے کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ بعدازاں پی ڈی ایم رہنماؤں نے فروری میں وزیر اعظم عمران خان سے استعفی دینے یا فیصلہ کن لانگ مارچ کا سامنا کرنے کے لیے 31 جنوری کی آخری تاریخ طے کی تھی۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کےاتحاد نے9فروری کو حیدرآباد ، 13فروری کو سیالکوٹ ، 16کو پشین بلوچستان، 23فروری کو سرگودھا اور 27فروری کو حضدار میں اجتماع اور ریلی منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔
واضح رہے کہ20ستمبر 2020 کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو ’ایکشن پلان‘ کے تحت تین مراحل پرحکومت مخالف تحریک چلا کر حکومت ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔

امریکا کی پاکستان کے حقِ دفاع کی بھرپور حمایت، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی توثیق
- 2 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں پھر کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 21 گھنٹے قبل

کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر کوچ کھائی میں جا گری، 40 افراد جاں بحق، 8 زخمی
- 2 دن قبل
سنسنی خیز مقابلہ: ارجنٹائن کیپ ورڈے کو ہرا کر پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا
- 20 گھنٹے قبل

’کیری آن جٹا 4‘‘ نے لاہور میں داد سمیٹ لی
- 2 دن قبل
غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کیس میں ’باس‘ سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
- 19 گھنٹے قبل
لوک گائیکی کے شہنشاہ عالم لوہار آج بھی امر
- 2 دن قبل
کراچی ٹریفک پولیس اہلکار کی خودکشی، کیسے اور کہاں کی؟
- 19 گھنٹے قبل
عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار ٹیلر سوئفٹ، امریکی فٹ بال لیگ کے مایہ ناز کھلاڑی ٹریوس کیلسی رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے
- 20 گھنٹے قبل
وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کی تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی یاد میں تعزیتی تقریب میں شرکت
- 2 دن قبل
غیرملکی خواتین مبینہ زیادتی کیس: جوڈیشل مجسٹریٹ کی رہائش گاہ میں مبینہ دباؤ، ایس ایچ او سمیت اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج
- 2 دن قبل
قومی پیغامِ امن کمیٹی کا سکھ برادری سے اظہارِ یکجہتی
- 15 گھنٹے قبل


