Advertisement

سعودی عرب کا 1967ء والی پوزیشن پر فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ

فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرق وسطیٰ اور خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی، سعودی وزارت خارجہ

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 سال قبل پر مارچ 7 2024، 9:32 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
سعودی عرب کا 1967ء والی پوزیشن پر فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ

سعودی عرب نے ایک بار پھر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگ روکنے پر زور دیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم فلسطینی عوام کے مصائب کو ختم کرنے کا پر زور مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ 1967ء کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر عرب علاقوں میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرق وسطیٰ اور خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔

سعودی پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کی طرف سے شائع ہونے والے ایک بیان میں وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ مملکت مغربی کنارے میں تقریباً 3 ہزار 500 نئی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دینے کے اسرائیلی قابض ریاست کے فیصلے شدید مذمت کرتی ہے۔ یروشلم میں غیرقانونی آباد کاری تمام بین الاقوامی قراردادوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ آباد کاری اقوام متحدہ کے کنونشنز اور خطے میں امن اور استحکام کے مواقع کے حصول کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

وزارت خارجہ کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے مصائب کا خاتمہ کیا جائے، فلسطینی عوام کے لیے امید کے راستے کھولے جائیں، انہیں محفوظ زندگی گزارنے کے حقوق حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے اور 1967ء کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست قائم کی جائے یہ نہ صرف فلسطینیوں کا مطالبہ ہے بلکہ عرب ممالک، عالم اسلام اور عالمی برادری کا بھی پر زور مطالبہ ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب غزہ نے رفح کے خلاف کسی بھی جارحیت کے خطرناک نتائج سے خبردار کرتا ہے اور غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرنے پر زور دیتا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے خصوصی اجلاس کے دوران کہا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ پر بحث کرنے والے ممالک میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا جائے اور دو ریاستی حل کو قبول کیا جائے۔

Advertisement
Advertisement