Advertisement
پاکستان

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

وادی کشمیر میں جاری پکڑ دھکڑکی کارروائیوں کے دوران بھارتی فوجیوں نے مزید دو نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Mar 29th 2024, 1:42 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے حریت رہنماؤں اورشہریوں کو ہراساں کرنے سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے ۔

سری نگرمیں ایک بیان میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے جنوبی ایشیاء کے استحکام اور خوشحالی کیلئے تنازعہ کشمیر کے فوری حل پرزوردیا ۔

مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کے جاری مظالم کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زوردیا۔

جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کریں ، پارٹی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیرکے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

کشمیری مورخ حفصہ کنجوال نے بھارت پر الزام لگایا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے کی تاریخ و ثقافت کو مٹانے کی کوشش کررہا ہے ، انہوں نے ایک میڈیا انٹرویو میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے مودی حکومت کے ہتھکنڈوں کو اجاگر کیاجن میں بلاجوازگرفتاریاں اور آبادی کے تناسب کو بگاڑنا شامل ہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں جاری جرائم پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے میں عالمی برادری کی ناکامی پر اس کوتنقید کا نشانہ بنایا۔

وادی کشمیر میں جاری پکڑ دھکڑکی کارروائیوں کے دوران بھارتی فوجیوں نے مزید دو نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ادھر لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی قیادت میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جو بنیادی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے خطے کی جدوجہد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی تنازعات کے دوران وانگچک کی بھوک ہڑتال لداخ کے مسائل کو حل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کوخبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے سے باز رہیں۔

ایک تازہ سرکلر میں سرکاری ملازمین کو تادیبی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے حکومتی اقدامات پر آن لائن بحث یا تنقید کرنے سے روکاگیا ہے۔

انہیں بی جے پی کے دور حکومت میں جمہوری اقدار کی تباہی کا باعث بننے والی حکومتی پالیسیوں کا دفاع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Advertisement