Advertisement
پاکستان

دہشت گردی کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کےلئے پر عزم ہے، آرمی چیف

پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارون کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے، جنرل عاصم منیر

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Apr 16th 2024, 11:56 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
دہشت گردی کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کےلئے پر عزم ہے، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اعلیٰ عسکری حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک میں کسی بھی جگہ سے دہشتگردوں کو فعال ہونے نہ دیں، مسلح افواج پاکستان سے دہشت گردی کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کےلئے پر عزم ہے۔

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 264ویں کور کمانڈر ز کانفرنس میں شرکاء نے مسلح افواج کے افسران، جوانوں اور شہریوں سمیت شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کے دوران متعدد دہشت گرد حملوں کو کامیابی سے ناکام بنانے اور اہم دہشت گرد کمانڈروں کو بے اثر کرنے میں پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ دہشت گردوں کو کسی بھی جگہ فعال نہ ہونے دیں،

پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارون کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے، پاکستان سے اس خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

فورم نے بشام میں چینی شہریوں پر بزدلانہ دہشت گرد حملے اور بلوچستان میں معصوم شہریوں کے بہیمانہ قتل کی مذمت کی، ساتھ ہی مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی جارحیت پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے فلسطینی عوام سے بھی یکجہتی کا اظہار کیا اور غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جنگی جرائم اور نسل کشی کی مذمت کی۔

کانفرنس میں بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ افغانستان سے سرگرم دہشتگرد گروہ علاقائی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر فریقین نے کشیدگی کم نہ کی تو ایک وسیع علاقائی تنازع جنم لے سکتا ہے۔

فورم نے مسلح افواج کے خلاف مبنی پروپیگنڈا مہم پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اداروں اور سیکیورٹی فورسز پر بے بنیاد الزامات ایک وطیرہ بن چکا ہے، ان الزامات کا مقصد عوام اور مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش ہے۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ ہم ایسی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، سازشی عناصرکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

Advertisement