Advertisement
پاکستان

حکومت کا مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے عبوری حکم پر تحفظات کا اظہار

آئین کی تشریح کا معاملہ ہے، مناسب ہوتا لارجر بنچ کوئی حکم نامہ جاری کرتا، وفاقی وزیر قانون

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر May 7th 2024, 1:15 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
حکومت کا  مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے   عبوری حکم پر تحفظات کا اظہار

وفاقی حکومت نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے عبوری حکم پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کے خلاف عبوری حکم اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے پر وزیر قانون نے کہا کہ یہ آئین کی تشریح کا معاملہ ہے، مناسب ہوتا لارجر بنچ کوئی حکم نامہ جاری کرتا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار کے معاملے میں حکمِ امتناع احتراز برتا جانا چاہیے تھا، حتمی فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کے تحت پانچ رکنی لارجر بینچ کا معاملے کی سماعت کرنا موزوں ہوتا اور بہت مناسب ہوتا کہ اگر لارجر بینچ ہی عبوری حکم نامہ جاری کرتا۔

اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ منتخب رکن کے قانون سازی کے اختیار پر زد پڑتی ہو تو زیادہ احتیاط برتی جاتی ہے، آرٹیکل 67 واضح ہے کہ رکن کی طرف سے کی گئی قانون سازی قانونی نااہلیت کے باوجود برقرار رہتی ہے۔

انہوں نے ایک اور حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 67 کے مطابق رکن کی قانون سازی کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا جاتا، امید ہے حتمی فیصلےمیں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

Advertisement
Advertisement