جی این این سوشل

پاکستان

پہلے پانامہ لیکس کا کیا ہوا تھا جو اب پراپرٹی لیکس کا رولا پڑ گیا ہے، خواجہ آصف

پرویز مشرف، شوکت عزیز، فیصل واوڈا اور بہت سے نام جو سامنے آ رہے ہیں وہ پہلے بھی تھے اور وہ انکاری بھی نہیں تھے، وزیر دفاع

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پہلے پانامہ لیکس کا کیا ہوا تھا جو اب پراپرٹی لیکس کا رولا پڑ گیا ہے، خواجہ آصف
پہلے پانامہ لیکس کا کیا ہوا تھا جو اب پراپرٹی لیکس کا رولا پڑ گیا ہے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے پہلے پانامہ لیکس کا کیا ہوا تھا جو اب پراپرٹی لیکس کا رولا پڑ گیا ہے۔ نواز شریف جس کا پانامہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اس کو ٹارگٹ کر لیا گیا، اب پراپرٹی لیکس میں کیا نیا انکشاف ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک ٹوئیٹ میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف، شوکت عزیز، فیصل واوڈا اور بہت سے نام جو سامنے آ رہے ہیں وہ پہلے بھی تھے اور وہ انکاری بھی نہیں تھے۔

 

پراپرٹی لیکس کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واردات کیا ہوئی ہے کوئی بتائے، یہ پرانی ڈبہ فلم کا چربہ ہے، یہ ڈبہ فلم پہلے بھی چلی ہوئی ہے، وہی کہانی، وہی کردار، وہی نام، اس میں نئی بات کیا ہے؟

خواجہ آصف نے کہا کہ لگتا ہے یہ دو نمبر فلم صرف اصل وارداتیوں سے توجہ ہٹانے کا منصوبہ ہے اور اس کی فنڈنگ بھی وہی واردتیے کر رہے ہیں۔

دنیا

آرمینیا نے بھی فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا

غزہ کی تباہ کن انسانی صورتحال بین الاقوامی سیاسی ایجنڈے کے اہم مسائل میں سے ایک ہے اور اس کے فوری حل کی ضرورت ہے، وزارت خارجہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آرمینیا نے بھی فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا

3 یورپی ممالک اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ کے بعد آرمینیا نے بھی یکم جون سے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

آرمینیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی تباہ کن انسانی صورتحال بین الاقوامی سیاسی ایجنڈے کے اہم مسائل میں سے ایک ہے اور اس کے فوری حل کی ضرورت ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جمہوریہ آرمینیا شہروں کو نشانہ بنانے، شہریوں کے خلاف تشدد کی سختی سے مذمت اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

وزارت نے حماس کی جانب سے سویلین افراد کی قید پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے بین الاقوامی برادری کے مطالبات کے ساتھ، فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینئر اہلکار حسین الشیخ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حقائق، بین الاقوامی قوانین، اقوام کی خودمختاری اور پرامن بقائے باہمی سے وابستگی کی تصدیق کرتے ہوئے جمہوریہ آرمینیا فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 3 یورپی ممالک اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ بھی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

عالمی بینک کی 2 پاکستانی منصوبوں کی معاونت کیلئے فنڈز کی منظوری

دونوں منصوبوں کیلئے 53 کڑور 50 لاکھ ڈالر کی فنانسنگ فراہم کی جائے گی،اعلامیہ جاری

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عالمی بینک کی 2 پاکستانی منصوبوں کی معاونت کیلئے فنڈز کی منظوری

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پاکستان میں سماجی تحفظ اورلائیوسٹاک کے دومنصوبوں کیلئے 535 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دیدی ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کرائسزریزلئنٹ سوشل پروٹیکشن (سی آر آئی ایس پی) پروگرام کے لیے اضافی مالی معاونت کا مقصد ملک کے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنا اور غریب اور معاشی طورپرکمزور گھرانوں کو مستحکم بناناہے۔

اسی طرح سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایکوا کلچر سیکٹرز ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ جدید موسمیاتی اور مسابقتی نظام کو فروغ دے گا جس سے سندھ میں مویشیوں اور آبی زراعت کے شعبوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے پروڈیوسرز کو فائدہ پہنچے گا۔

پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرناجی بن حساین نے بتایاکہ آفات سے نمٹنے کے لیے لچک وموزونیت پیدا کرنا اہمیت کاحامل ہے جس کے تحت سماجی تحفظ،معاشی ترقی اور بحالی میں معاونت کرنے والے شعبوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ جدید موسمیاتی سمارٹ ٹیکنالوجی اور ہنگامی منصوبہ بندی کے ذریعے موسمیاتی موزونیت کو یقینی بنانابھی ضروری ہے۔ سی آر آئی ایس پی کے لیے 400ملین ڈالرکی اضافی فنانسنگ کی جائیگی جس سے پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام کو پالیسی اور ترسیل کے نظام کی بنیادوں سے آراستہ کرنے کی جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔

یہ پروگرام قومی کیش ٹرانسفر پروگرام کی تاثیر، کوریج اور وفاقی وصوبائی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے کے لیے طویل مدتی پالیسی اقدامات پر توجہ مرکوز کرے گا۔

پراجیکٹ کے ٹاسک ٹیم لیڈر امجد ظفر خان نے کہا کہ اپنے آغاز سے لے کر اب تک سی آر آئی ایس پی نے 9 ملین سے زائد خاندانوں کو باقاعدہ حفاظتی نیٹ سپورٹ کے ساتھ اہم نتائج حاصل کیے ہیں اور حالیہ سیلاب کے دوران 2.8 ملین خاندانوں تک فوری طور پر پہنچنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسی طرح سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایکوا کلچر سیکٹرز ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ کے تحت 135ملین ڈالر کی معالی معاونت فراہم کی جائیگی جس سے موسمیاتی لحاظ سے موزوں پیداوار، قدر میں اضافے، اور منڈیوں تک جامع رسائی کو فروغ دینے میں مددملے گی ۔

اس پروگرام کااطلاق مرحلہ وار طریقہ استعمال کرتے ہوئے سندھ کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گا۔پروگرام سے 940,000کاشت کار خاندانوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جن میں 930,000 مویشی پالنے والے گھرانے اور 10,000 آبی زراعت کے پیداوارکنندگان شامل ہیں۔

منصوبے میں خواتین کسانوں کی شرکت کو یقینی بنانے اور صنفی فرق کو کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار

بلوچستان ہائیکورٹ نے گندم خریداری کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے گندم کی خریداری سے متعلق بلوچستان کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس سردار شوکت رخشانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا جبکہ فیصلے میں 5 ارب کی لاگت سے گندم خریداری کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کو متعدد وجوہات کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا،ا یک وجہ یہ بھی تھی کہ محکمہ خوراک کے پاس مزید 500 بوری گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں، محکمہ خوراک کے ڈی جی کے مطابق محکمے کے پاس پہلے ہی 8 لاکھ 15 ہزار بوری گندم پڑا ہوا ہے، صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے مزید خریداری سے گندم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

فیصلے کے مطابق سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب گوداموں میں گندم رکھنے کی صلاحیت نہیں تو مزید پانچ لاکھ بوری گندم کیوں خریدی جارہی ہے؟ جب اوپن مارکیٹ میں قیمتیں کم ہیں تو حکومت بلوچستان کیوں بڑے پیمانے پر گندم خرید رہی ہے؟

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی علم میں یہ بھی ہے کہ ماضی میں گندم کی خریداری کے حوالے سے بڑے اسکینڈلز ہوئے، ان ہی وجوہات کی بنیاد پر کابینہ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، وزیر اعلیٰ کے تجویز کے مطابق 5ارب روپے کی رقم قرضوں کی واپسی کے علاوہ نصیر آباد میں ٹیکنیکل سینٹر کے قیام اور فراہمی آب کے لیے خرچ کیا جائے، بلوچستان کی کمزور مالی حالت کے پیش نظر حکومت غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ غیرضروری اخراجات کی کمی کے لیے حکومت نقصان کا باعث بننے والے محکموں کے خاتمے کے لیے سفارشات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ گندم خریداری کےفیصلےکےخلاف شہری نے دائر کی تھی، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی میں عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll