جی این این سوشل

پاکستان

حکومت کی بشکیک واقعہ میں کسی بھی پاکستانی طالبعلم کے جاں بحق ہونے کی تردید

سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

پر شائع ہوا

کی طرف سے

حکومت کی بشکیک واقعہ میں کسی بھی پاکستانی طالبعلم کے جاں بحق ہونے کی تردید
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم خود معاملے کو دیکھ رہے ہیں، ہمارے بچے تعلیم حاصل کرنے گئے، آزاد تحقیقات کیلئے وفد کرغزستان بھیجیں گے۔ واقعہ میں کوئی بھی پاکستانی طالب علم جاں بحق نہیں ہوا۔

لاہور میں وفاقی وزیر عطا تارڑ اور امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ طالبعلموں کے درمیان تصادم کے بعد حالات کشیدہ ہوئے، ہوئے، تشدد تمام غیر ملکی طالبعلموں پر کیا گیا، واقعہ صرف پاکستانیوں سے متعلق نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ 4 سے 5 پاکستانی طالبعلم زخمی ہوئے ہیں، مجموطی طور پر 15 سے 16 طالبعلم زخمی ہوئے، گزشتہ روز 130 پاکستانی طالبعلم واپس وطن پہنچے، آج مزید 540 طالبعلم پاکستان پہنچیں گے، ایئرفورس ایئربس کے ذریعے طلبہ کو پاکستان لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 50 طلبا نے سفارتخانے میں اندراج کروایا ہے، کرغز حکومت مسلسل معاملات کی مانیٹرنگ کر رہی ہے، جمعہ کے بعد کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، معاملہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے، کرغزستان کے سکیورٹی ادارے مکمل طور پر فعال ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وزارت خارجہ میں ایمرجنسی یونٹ کو فعال کیا گیا ہے، کرغزستان کے وزیر خارجہ سے تفصیلی بات ہوئی ہے اور رابطےمیں ہیں، کسی ایک بھی پاکستانی طالبعلم کی ہلاکت نہیں ہوئی، سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔2 دن سےامن ہے، کچھ طالبعلم وطن واپس آنا نہیں چاہتے۔

کرغزستان کا آج کا دورہ منسوخ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ کرغز حکومت نے آج دورہ نہ کرنےکی درخواست کی، جس پر دورہ منسوخ ہوا۔

بعدازاں وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ واقعہ کی خبر ملتے ہی وزیراعظم اور وزارت خارجہ نے فوری طور پر ایکشن لیا، وزیراعظم اور وزیر خارجہ پچھلے دو دنوں سے مسلسل صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام واقعات پاکستان کے خلاف کوئی ٹارگٹڈ چیز نہیں تھی، جب کوئی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو کافی لوگ زد میں آتے ہیں، ہمارے کرغزستان سے بہت اچھے سفارتی تعلقات ہیں، کرغزستان میں حالات معمول کے مطابق چل رہے ہیں، ہلاکتوں کی جعلی تصاویر پھیلانے والے اللہ سے ڈریں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میرا خود طلباء  سے رابطہ ہوا ہے، وہاں حالات بہتر ہیں، ایک مخصوص سیاسی جماعت والدین کے ذہنوں میں منفی باتیں ڈال رہی ہے، نائب وزیر اعظم مسلسل کرغز حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، یہ پروپیگنڈا پھیلایا گیا کہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، ان معاملات میں نہ کوئی طالبعلم جاں بحق ہوا نہ کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ ہم کسی پاکستانی کو غیر محفوظ نہیں ہونے دیں گے، کچھ لوگ کمرشل فلائٹ سے آ رہے ہیں، جو ہماری سپیشل فلائٹ کیلئے رابطہ کرسکتے ہیں وہ ضرور کریں، خواتین طالبات کی ریپ والی خبریں بالکل جھوٹ کی بنیاد پر پھیلائی گئیں۔

اس موقع پر وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس واقعے کے بعد سمجھا کہ اسحاق ڈار خود وہاں جائیں، ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ جو وہاں پڑھ رہے ہیں ان کے کافی پیسے خرچ ہوئے ہیں۔

امیر مقام نے مزید کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہمارے طلبا وہاں سے پڑھیں اور ڈگری لے کر آئیں، وزارت خارجہ کے دفتر میں ہیلپ لائن موجود ہے، جو طلبہ واپس آنا چاہتے ہیں وہ ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔

جرم

لاہور بورڈ کے مارکنگ سینٹر سے امتحانی پرچوں کا بنڈل مبینہ طور پر غائب

میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکنگ سینٹر سے سوشیالوجی پارٹ ون کے پیپرز کا بنڈل غائب ہوگیا جس میں 52 طلبہ کے پیپرز تھے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لاہور بورڈ  کے مارکنگ سینٹر سے امتحانی پرچوں کا بنڈل مبینہ طور پر غائب

لاہور: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) لاہور کے مارکنگ سینٹر سے امتحانی پرچوں کا بنڈل مبینہ طور پر غائب کردیا گیا ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکنگ سینٹر سے سوشیالوجی پارٹ ون کے پیپرز کا بنڈل غائب ہوگیا جس میں 52 طلبہ کے پیپرز تھے۔


یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دو روز قبل امتحانی پرچے غائب ہونے کی شکایت سامنے آئی تھی، جس کی انکوائری کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بنڈل کی چوری نے محکمہ امتحانات کی رازداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


دوسری جانب پنجاب ٹیچرز یونین کا کہنا ہے کہ اساتذہ نے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تحقیقات کے لیے محکمہ تعلیم کے باہر سے انکوائری افسر تعینات کیا جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

پاکستان بزنس کونسل کے  وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ٹیکس بیس کو بڑھانے او رریٹیلز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ایف بی آر کی کوششوں پر روشنی ڈالی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان بزنس کونسل کے  وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات

پاکستان بزنس کونسل کے  وفد نے آج اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔

وفد نے حکومت کی کوششوں کو سراہا اور وزیر خزانہ کے ساتھ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر گفتگو کی۔ انہوں نے مخصوص تجاویز اور ٹیکس کے حوالے سے مشورے بھی زیر غور لانے کیلئے پیش کئے۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ٹیکس بیس کو بڑھانے او رریٹیلز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ایف بی آر کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوام اور تاجر برادری کے مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے باہمی مشاورت سے فیصلے کئے جائیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے، مولانا فضل الرحمان

ملک میں مسلح تنظیمیں کھلے عام گھوم رہی ہیں، سربراہ  جمیعت علماء اسلام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے، مولانا فضل الرحمان

 جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ  اسٹیملشمنٹ کو ہر شعبے میں اپنی بالادستی ختم کرنا ہو گی۔ ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ، اصغر اچکزئی ، خوشحال خان کاکڑ، عبد الخالق ہزارہ سے ملاقات کے بعد کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عزم استحکام آپریشن ملک میں عدم استحکام پیدا کرے گا۔ ملک میں مسلح تنظیمیں کھلے عام گھوم رہی ہیں۔جمہوریت اور پارلیمنٹ اپنا مقدمہ ہار چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  ہم کسی اتحاد کی مخالفت نہیں کر رہے، سیاسی لوگوں کی باہمی مشاورت کا سلسلہ چلنا چاہیے، بات چیت اور مشاورت کے بہتر نتائج آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سورج غروب ہونے کے بعد پولیس تھانوں میں چھپ جاتی ہے۔ آپریشن عزم استحکام درحقیقت آپریشن عدم استحکام ثابت ہوگا، ہ عدم استحکام آپریشن ہے جو ملک کو کمزور کرےگا، مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ ملک کو اور کمزور کیوں کیا جارہا ہے؟

مولانا نے مزید کہا کہ جس شناختی کارڈ کی بنیاد  پر آرمی چیف پاکستانی ہے اسی بنیاد پر میں بھی پاکستانی ہوں، ہم سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، لیکن ایک طبقہ سمجھے کہ اس نے حاکم اور باقی سب نے غلام رہنا ہے، واضح کرنا چاہتے ہیں ہمارے قبیلوں کی یہ قسم نہیں، ہماری 300 سالہ تاریخ غلامی کے خلاف جنگ لڑنے کی ہے، انگریزوں کیخلاف 50 ہزار سے زائد مجاہدین کو شہید کیا گیا، ہم نے ملک غلامی کرنے کےلئے حاصل نہیں کیا تھا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملک میں ریاستی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے، خیبرپختونخوا میں سورج غروب ہوتے ہی پولیس تھانوں میں بند ہوجاتی ہے، ملک کے چپے چپے پر فوج اور پولیس موجود ہے، کیوں بے بس ہے، شہبازشریف وزیراعظم نہیں بس کرسی پر بیٹھے ہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll