جی این این سوشل

پاکستان

عمران خان سیاسی انداز اپنائیں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت پر رضامند ہوں، رانا ثناءاللہ

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور ان کی سیاسی جماعت پی ایم ایل (این) کا واضح موقف ہے کہ سیاسی مذاکرات ہی واحد راستہ ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عمران خان سیاسی انداز اپنائیں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت پر رضامند ہوں، رانا ثناءاللہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہےکہ اگر ہم ایک بہتر اور جمہوری پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں تعطل کو ختم کرنا ہوگا،سیاسی بات چیت ہی جمہوری معاشرے میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ہفتہ کوایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تعطل کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں، خاص طور پر جب ملک کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور ان کی سیاسی جماعت پی ایم ایل (این) کا واضح موقف ہے کہ سیاسی مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان سیاسی انداز اپنائیں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت پر رضامند ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر سیاسی اور غیر آئینی انداز کے ساتھ عمران خان خود کو، اپنی پارٹی کو اور ملک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ زور دیا کہ سیاسی بات چیت ہی جمہوری معاشرے میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ( ن )سمجھتی ہے کہ اداروں کے درمیان تصادم کا ماحول قومی مفاد میں نہیں ہے۔ اداروں کے درمیان اچھے کام کرنے والے تعلقات بہترین قومی مفاد میں ہیں۔

پاکستان

علی امین گنڈا پور بھی خیبر پختونخوا میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر پھٹ پڑے

اگر نیشنل گرڈ سے بجلی کم کی گئی تو بجلی بند کردوں گا، وزیر اعلیٰ کے پی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

علی امین گنڈا پور بھی خیبر پختونخوا میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر پھٹ پڑے

خیبر پختونخوا میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی پھٹ پڑے.

ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اگر نیشنل گرڈ سے بجلی کم کی گئی تو بجلی بند کردوں گا، آپ کس طرح بیٹھے ہیں اور کس طرح آپ کو نکالنا ہے مجھے پتہ ہے، واپڈا ہمارے صوبے کے ساتھ زیادتی کررہا ہے، یہ لوگ مینڈیٹ چوری کرکے حکومت میں بیٹھے ہیں، وفاقی حکومت اپنی ذمے داری پوری نہیں کررہی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کی صرف بات نہیں کرتے ہم اس پر عمل بھی کرتے ہیں، جتنا وفاق نے بجٹ پیش کیا اس سے زیادہ ہمارے صوبے کے واجبات رہتے ہیں جو نہیں ادا کیے جا رہے، سی سی آئی سے منظور شدہ صوبے کے 1600 ارب واجبات ہمیں نہیں مل رہے۔ وفاق کے ذمے ہمارے صوبے کے 16ارب روپے واجب الا ادا ہیں، وزیراعظم سے آخری بار کہتا ہوں ہمارے پیسے واپس دو، ہمیں اپنے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے واپڈا کے ساتھ پلان بنایا کہ لاسس والے علاقوں میں سولر لگائیں گے، سولر سسٹم کے لیے 10 ارب روپے مختض کیے جس کے لیے ڈیڑھ مہینے کا وقت مختض کیا،وفاقی منسٹر سے ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد رابطہ کیا لیکن کوئی جواب نہ مل سکا، عوام سے التماس ہے کہ واپڈا کے کسی بھی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچانا کیونکہ یہ ہمارا اثاثہ ہے، تمام ایم پی ایز بھی گرڈ اسٹیشن پر جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں 12 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیئے، لوڈشیڈنگ ختم کرنا وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے، وفاق اپنی ذمے داری پوری نہیں کررہا، یہ لوگ چوری کا مینڈیٹ لے کر حکومت میں بیٹھے ہیں، اگر نیشنل گرڈ سے بجلی کم کی گئی تو بجلی بند کردوں گا۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں 12 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی بھی فیڈر پر نہیں ہوگی، عوام نے خود بیٹھ کر چوکیداری کرنی ہے کہ 12 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ کہیں نہ ہو، خیبر پختونخوا کی پولیس واپڈ کے کہنے پر کسی بھی شخص پر ایف آئی آر درج نہیں کرے گی، خیبرپختونخوا کی پولیس واپڈا کی ما تحت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ واپڈ جو زیادتیاں کر رہا ہے تو عوام کو حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، ذمہ داران اور پارلیمنٹیرینز عوام کی نمائندگی کریں گے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے، میینڈیٹ چور حکومت میں چوری کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ویراعظم مجھے مجبور کر رہا ہے کہ ان کی حکومت کو دھکے دے کر نکالا جائے، صوبے کا حق بھی لینا ہے اور حق لینے سے کوئی روک نہیں سکتا، میں نے اویس لغاری کو کل کی پیغام بھیجا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا، حکومت سے دوبارہ بات کریں گے مسائل سے آگاہ کریں گے، دوسرے مرحلے میں صوبوں سے نیشنل گرڈ کو بند کروں گا۔

پڑھنا جاری رکھیں

موسم

کہیں بارش اور کہیں شدید گرمی، محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی

آج بھی موسم شدید گرم اور خشک رہے گاجبکہ شام اور رات میں اسلام آباد، پنجاب کے بعض علاقوں، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں بارش کا امکان ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کہیں بارش اور کہیں شدید گرمی، محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی

محکمہ موسمیات نے آج بھی ملک کے بیشتر علاقے شدید گرم اور خشک رہنے کی پیشگوئی کر دی، تاہم شام اور رات میں اسلام آباد، پنجاب کے بعض علاقوں، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں بارش کا امکان ہے۔

گزشتہ روز ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گوجرانولہ میں 47، منڈی بہاءالدین اور دادو میں 46، لاہور، سرگودھا، تربت اور بنوں میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

منگل کے روز ملتان، ساہیوال اور فیصل آباد میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ مظفر آباد میں 42، اسلام آباد میں 41، پشاور میں 38، کراچی میں 36 اور کوئٹہ میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔ گلگت میں بھی گزشتہ روز درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی شہر میں میں اس وقت مطلع جزوی ابر آلود ہے، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ کراچی میں 15 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں اور شہر قائد میں بوندا باندی کا بھی امکان ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

روس کے صدر کا 24 سال بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ

صدر پوٹن کا شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ پہنچنے پر سربراہ کم جونگ ان نے استقبال کیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

روس کے صدر کا 24 سال بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن شمالی کوریا کے دورے پر پہنچ گئے۔

روسی  میڈیا کے مطابق روس کے صدر کا 24 سال بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ ہے۔ صدر پوٹن کا شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ پہنچنے پر سربراہ کم جونگ ان نے استقبال کیا۔ روسی صدر کو سلامی بھی پیش کی گئی۔

صدر پوٹن  شمالی کوریا کے ساتھ سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں معاہدے کریں گے جبکہ مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔  روسی صدر کے وفد میں نئے وزیر دفاع آندرے بیلوسوف، وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اور ڈپٹی پرائم منسٹر الیگزینڈرنوواک بھی شامل ہیں۔

 امریکا کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ روس نے صدر پوٹن کے  دورے کو دوستانہ دورہ قرار دیا  ہے۔صدر پوٹن  کا شمالی کوریا کے دورے کے بعد ویتنام کے دورے کا امکان ہے جہاں مخلتف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

روسی صدر پیونگ یانگ کے اسی کُم سوسان گیسٹ ہاؤس میں قیام کریں جہاں 2019 میں شمالی کوریا کے دورے کے موقع پر چینی صدر نے قیام کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں روس کے انتہائی مشرقی علاقے ووسٹوکن کوسموڈروم میں ملاقات ہوئی تھی جبکہ روسی صدر پیوٹن نے اپنی صدارت کے شروعاتی دور میں 2000 میں شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا جب کم جونگ اُن کے والد کم جونگ اِل شمالی کوریا کا سربراہ تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll