جی این این سوشل

پاکستان

یوم تکبیر آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، ملک بھر میں عام تعطیل

26 برس قبل 28 مئی کو پاکستان نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اپنی جوہری طاقت کا مظاہرہ کیا تھا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

یوم تکبیر آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، ملک بھر میں عام تعطیل
یوم تکبیر آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، ملک بھر میں عام تعطیل

 ملک بھر میں آج یوم تکبیر منایا جارہا ہے۔ 26 برس قبل 28 مئی کو پاکستان نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اپنی جوہری طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔ 28 مئی کی مناسبت سے شہر شہر تقریبات اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔

پڑوسی ملک کی دھمکیوں کے بعد پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکوں کے تجربات کا فیصلہ کیا اور 28 مئی 1998 کو پاکستان کے سائنسدانوں نے بھارت کے 43 کلوٹن کے مقابلہ میں کلو ٹن قوت سے یکے بعد دیگرے 5 دھماکے کیے۔

28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں دھماکوں کے ذریعے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دیا تھا۔

ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور اسی دن کو’’یوم تکبیر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنسدانوں نے 1984 میں جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے آج یوم تکبیر پر عام تعطیل کا اعلان کر دیا، تعطیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا جس کے تحت تمام سرکاری و نجی ادارے بند رہیں گے جبکہ تعلیمی اداروں اور بینکوں میں بھی چھٹی ہو گی، تعلیمی بورڈز میں آج شیڈول پرچے ملتوی کر دیئے گئے۔

شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم تکبیر ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے اتحاد کی یاد دلاتا ہے، آج کے دن پوری قوم نے ملکی سالمیت کیلئے فیصلہ کیا، ملکی دفاع پر کسی قسم کا بیرونی دباؤ قبول کر کے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان

لوڈ شیڈنگ پر عوامی در عمل کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے، علی امین گنڈا پور

وفاقی حکومت اپنے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کر رہی، وزیر اعلیٰ کے پی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لوڈ شیڈنگ پر عوامی در عمل کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے، علی امین گنڈا پور

وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے لوڈشیڈنگ سے متعلق اجلاس کے دوران کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کا نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوامی رد عمل قابو سے باہر ہو جائے، وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

علی امین گنڈا پور کے زیر صدارت اجلاس میں چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریزاوردیگر نے شرکت کی اور اجلاس میں بجلی لوڈشیڈنگ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کے پی کو بتایا گیا کہ گزشتہ مہینےلاسزوالےعلاقوں سے1ارب روپےکی ریکوری ہوئی، صوبے میں پیسکوکی تنصیبات اور عملے کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ عیدالاضحیٰ میں زیرولوڈشیڈنگ وعدے پر عملدرآمد نہ ہوسکا، یکم مئی 2024 سےاب تک لوڈ شیڈنگ کےخلاف 81 مظاہرے ہوئے، اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی توسنگین مسائل جنم لینے کا خدشہ ہے۔

اس موقع پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کر رہی، ناروا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صوبے میں لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہےغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سےعوامی رد عمل سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے، صوبے میں لاسز کو ختم کرنے کے لئے بھر پور تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں 12 گھنٹوں سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قبول نہیں ہوگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

منشیات کی ترویج کا الزام، سعودی عرب میں 2 پاکستانی گرفتار

ملزمان کے قبضے سے 26 کلو گرام منشیات برآمد کر لی گئی، قانونی کارروائی کا آغاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

منشیات کی ترویج کا الزام، سعودی عرب میں 2 پاکستانی گرفتار

سعودی عرب میں انسداد منشیات حکام نے دارالحکومت ریاض سے 2پاکستانی باشندوں کو منشیات کی ترویج کےالزام میں گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 26 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی ہیں۔

جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول نے ریاض کے علاقے میں پاکستانی شہریت کے حامل دو باشندوں کو 26 کلو گرام منشیات میتھم فیٹامائن (شبو) کی ترویج پر گرفتار کیا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی اور انہیں پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔

سعودی عرب کے ادارہ برائے انسداد منشیات نے شہریوں پر غیرملکی تارکین وطن پر زور دیا ہے کہ وہ منشیات کے دھندے میں ملوث عناصر یا کسی غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی پر مکہ مکرمہ، ریاض، اور الشرقیہ کے علاقوں میں 911ہیلپ لائن اور ملک کے دیگر علاقوں میں 999 اور 996 پر مجاز حکام کو اطلاع دیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

عالمی بینک کی 2 پاکستانی منصوبوں کی معاونت کیلئے فنڈز کی منظوری

دونوں منصوبوں کیلئے 53 کڑور 50 لاکھ ڈالر کی فنانسنگ فراہم کی جائے گی،اعلامیہ جاری

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عالمی بینک کی 2 پاکستانی منصوبوں کی معاونت کیلئے فنڈز کی منظوری

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پاکستان میں سماجی تحفظ اورلائیوسٹاک کے دومنصوبوں کیلئے 535 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دیدی ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کرائسزریزلئنٹ سوشل پروٹیکشن (سی آر آئی ایس پی) پروگرام کے لیے اضافی مالی معاونت کا مقصد ملک کے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط کرنا اور غریب اور معاشی طورپرکمزور گھرانوں کو مستحکم بناناہے۔

اسی طرح سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایکوا کلچر سیکٹرز ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ جدید موسمیاتی اور مسابقتی نظام کو فروغ دے گا جس سے سندھ میں مویشیوں اور آبی زراعت کے شعبوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے پروڈیوسرز کو فائدہ پہنچے گا۔

پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرناجی بن حساین نے بتایاکہ آفات سے نمٹنے کے لیے لچک وموزونیت پیدا کرنا اہمیت کاحامل ہے جس کے تحت سماجی تحفظ،معاشی ترقی اور بحالی میں معاونت کرنے والے شعبوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ جدید موسمیاتی سمارٹ ٹیکنالوجی اور ہنگامی منصوبہ بندی کے ذریعے موسمیاتی موزونیت کو یقینی بنانابھی ضروری ہے۔ سی آر آئی ایس پی کے لیے 400ملین ڈالرکی اضافی فنانسنگ کی جائیگی جس سے پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام کو پالیسی اور ترسیل کے نظام کی بنیادوں سے آراستہ کرنے کی جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔

یہ پروگرام قومی کیش ٹرانسفر پروگرام کی تاثیر، کوریج اور وفاقی وصوبائی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے کے لیے طویل مدتی پالیسی اقدامات پر توجہ مرکوز کرے گا۔

پراجیکٹ کے ٹاسک ٹیم لیڈر امجد ظفر خان نے کہا کہ اپنے آغاز سے لے کر اب تک سی آر آئی ایس پی نے 9 ملین سے زائد خاندانوں کو باقاعدہ حفاظتی نیٹ سپورٹ کے ساتھ اہم نتائج حاصل کیے ہیں اور حالیہ سیلاب کے دوران 2.8 ملین خاندانوں تک فوری طور پر پہنچنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسی طرح سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایکوا کلچر سیکٹرز ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ کے تحت 135ملین ڈالر کی معالی معاونت فراہم کی جائیگی جس سے موسمیاتی لحاظ سے موزوں پیداوار، قدر میں اضافے، اور منڈیوں تک جامع رسائی کو فروغ دینے میں مددملے گی ۔

اس پروگرام کااطلاق مرحلہ وار طریقہ استعمال کرتے ہوئے سندھ کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گا۔پروگرام سے 940,000کاشت کار خاندانوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جن میں 930,000 مویشی پالنے والے گھرانے اور 10,000 آبی زراعت کے پیداوارکنندگان شامل ہیں۔

منصوبے میں خواتین کسانوں کی شرکت کو یقینی بنانے اور صنفی فرق کو کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll