28 مئی 1998 کو پاکستان نے انڈیا کے مقابلے ایٹمی دھماکے کئے یہ یقینا ایک قاابل فخر دن ہے


28مئی یوم تسخیر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔
28 مئی 1998 کو پاکستان نے انڈیا کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کئے یہ یقینا ایک قاابل فخر دن ہے۔ یہ ایک قومی دن ہے۔ نواز شریف اس وقت وزیر اعظم تھے اور ان سے ان کے حصے کا کریڈٹ چھینا نہیں جا سکتا، لیکن کیا دوسروں سے ان کے حصے کا کریڈٹ چھینا جا سکتا ہے، بھٹو سے، ضیا الحق سے، ڈاکٹر اے کیو خان اور ان کے رفقا سے؟ کئی ہیرو تو وہ ہوں گے جو گم نام ہوں گے اور کیا عجب کہ حقیقی ہیرو وہی ہوں۔
عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی تھی۔کراچی میں ابتدائی تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ یورپ گئے اور 15 برس قیام کے دوران انہوں نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوین سے تعلیم حاصل کی۔
1974 میں پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر رابطوں کے بعد 1976 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان واپس پاکستان آئے اور 31 مئی 1976 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی۔
اس ادارے کا نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاء الحق نے تبدیل کرکے ان کے نام پر " ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز" رکھ دیا تھا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
انہوں نے ایک کتابچے میں خود لکھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک اس پروگرام کے سربراہ رہے۔
ڈاکٹر اے کیو خان کے انسٹی ٹیوٹ نے ان کی سربراہی میں نا صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مار کرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ محسن پاکستان نے ہالینڈ میں رہائش کے دوران ہنی خان نامی خاتون سے شادی کی تھی جن سے ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں جو شادی شدہ ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو 13 طلائی تمغوں سے نوازا گیا جب کہ آپ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عبدالقدیر نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی تحریر کیے۔ 1996 میں جامعہ کراچی نے عبدالقدیر کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند عطا کی جبکہ 14 اگست 1996 میں صدر فاروق لغاری نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا اور پھر 1989 میں انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔
پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیچٹ sachet نامی ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہے

صدرمملکت آصف علی زرداری کی روس کی قیادت کو یومِ فتح پر مبارکباد
- 19 hours ago

ماضی میں صرف پروپیگنڈا کیا جاتا رہا لیکن عملی طور پر ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی،وزیر دفاع
- 14 hours ago

ڈھاکا ٹیسٹ:دوسرے دن کے اختتام تک پاکستان نے بنگلا دیش کیخلاف 1 وکٹ پر 179 رنز بنا لیے
- 16 hours ago
اسکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کب ہونگی؟ وزیر تعلیم کا اہم بیان آ گیا
- 14 hours ago

معرکہ حق کی فتح کا ایک سال،مرکزی تقریب کل جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہو گی
- 14 hours ago

محسن نقوی کی بنگلہ دیشی وزیر داخلہ سے ملاقات، منشیات کی روک تھام کیلئے معاہدے پر دستخط
- 19 hours ago

پاک افواج کا افغان بارڈر پر تاریخی آپریشن، فتح کی داستان، جرات کے نشان کا ٹیزر ریلیز
- 19 hours ago

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس کل ہوگا
- 14 hours ago

مسلسل دوسرے روز بھی سونا سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 20 hours ago

ایک بے گناہ کو سزا دینے کی بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کرنا بہتر ہے،سپریم کورٹ
- 16 hours ago

وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 تا 25 مئی چین کا دورہ کریں گے
- 19 hours ago

روس ہمیشہ اپنے قومی مفادات، تاریخی اقدار اور مادرِ وطن کے دفاع کے لیے متحد رہے گا، پیوٹن
- 18 hours ago









