افغانستان سے امریکی انخلا : سی آئی اے کارروائیوں کیلئے پاکستان کی مدد کی منتظر
افغانستان سے امریکی فوج کی فوری واپسی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (C.I.A) پر شدید دباؤ پیدا کر رہی ہے اور نئے طریقے تلاش کرر ہی ہے تاکہ ملک میں انٹیلی جنس کو جمع اور دہشت گردی کے خلاف حملے کرسکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ، امریکی عہدے دار مستقبل کی کارروائیوں کے لئے افغانستان کے قریب اڈوں کو محفوظ بنانے کے لئے آخری لمحے کی کوششوں میں ہیں۔
افغانستان میں 20 سال کی امریکی موجودگی کے بعد ، امریکہ جلد ہی اس ملک میں فوجی اڈے کھو دے گا جہاں سے اس نے جنگی مشن اور ڈرون حملےکیے اور طالبان سمیت دیگر گروپس کی کڑی نگرانی کی تھی۔
سی آئی اے کی توجہ پاکستان پر ہے کیونکہ پاکستان کے اڈے سالوں سے ملک کے مغربی پہاڑوں پر عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے شروع کرنے کے لئے استعمال کیے جاتے تھے ، لیکن 2011 میں اس وقت اس سہولت سے ختم کردیا گیا تھا جب امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے تھے۔
اس رپورٹ کے مطابق ، "کچھ امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات ابھی تعطل کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ کچھ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آپشن ابھی بھی ٹیبل پر باقی ہے اور معاہدہ ممکن ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کی تیزی سے انخلا نے سی آئی اے کو ملک میں انٹیلیجنس جمع کرنے ، جنگ لڑنے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو برقرار رکھنے کے طریقے تلاش کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ رات ایک مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان مستحکم افغانستان چاہتا ہے ، لیکن کچھ عناصر خطے میں امن نہیں چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا ، "ہم فوجی دستوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ امن عمل کو آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ دنیا پاکستان کو اب اس مسئلے کا حصہ نہیں مانتی ہے۔"
وزیر خارجہ نے سختی سے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کو فوجی اڈے دینے سے انکار کردیا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ ان کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ، "اڈوں کی تلاش کرنا ان کی خواہش ہوسکتی ہے۔ انہیں اڈے دینے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، ہمیں اپنے مفادات کو دھیان میں رکھنا ہوگا۔"
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ ماہ قانون سازوں سے کہا تھا کہ حکومت امریکی فوج کو ملک کے ہوائی اڈوں پر واپس جانے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا ، "ماضی کو بھول جاؤ ، لیکن میں پاکستانیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار میں رہنے تک کسی بھی امریکی اڈے کی اجازت نہیں ہوگی۔"

ایک دن کے اضافے کے بعد سوناپھر سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 9 گھنٹے قبل

ایران کیساتھ مذاکرات کیلئے اچھی ٹیم پاکستان بھیجی ہے، امید کرتے ہیں اسکے مثبت نتائج نکلیں گے،ٹرمپ
- 9 گھنٹے قبل

امریکہ سے مذاکرات میں شرکت کیلئے محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
- 9 گھنٹے قبل

ایران سے مذاکرات میں شرکت کیلئے جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
- 10 گھنٹے قبل

جے ڈی وینس کی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم سےملاقات،دو طرفہ تعلقات اورعلاقائی امور پر تبادلہ خیال
- 7 گھنٹے قبل

پاکستانی کسان اور موسمیاتی تبدیلی:سیلاب اور بے موسمی بارشوں کے اثرات
- 4 گھنٹے قبل

وزیر اعظم شہباز شریف کا جون میں دورہ روس کا امکان، پیوٹن سے ملاقات متوقع
- 6 گھنٹے قبل

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات جاری
- 2 گھنٹے قبل

مذاکرات میں شرکت کیلئے آنے والے ایرانی وفد کی پرواز ’میناب 168‘ شہید بچوں سے منسوب
- 9 گھنٹے قبل

وزیر اعظم سے ایرانی وفد کی ملاقات،عالمی و علاقائی امن کی صورتحال اور مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 5 گھنٹے قبل

مذاکرات میں اگر ہمارا سامنا اسرائیل فرسٹ کے نمائندوں سے ہوا تو کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ایرانی نائب صدر
- 8 گھنٹے قبل

حکومت سستی اور وافر مقدار میں کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ، رانا تنویر
- ایک دن قبل




.jpg&w=3840&q=75)


