Advertisement
پاکستان

پی ٹی آئی نےمتنازع ٹویٹ پر ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کا نوٹس چیلنج کر دیا

چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان اور سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jun 4th 2024, 8:59 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پی ٹی آئی نےمتنازع ٹویٹ پر ایف آئی اے کی جانب سے  طلبی کا نوٹس چیلنج کر دیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے متنازع ٹویٹ کے معاملے پر شکایت اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے ان کی طلبی کا نوٹس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان اور سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخواست میں سیکرٹری داخلہ، شکایت کنندہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران کان کے ٹوئٹر اکاؤنٹس سے ہونے والے ٹوئٹ کا مقصد پاکستان کے لیے یکجا ہونے کا درس دینا تھا، ٹویٹ کا مقصد ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کے اہتمام کی ترغیب دینا تھا۔

درخواستگزار کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہونے والے ٹویٹ کو سیاسی مخالفین نے توڑ مروڑ کر پیش کیا، سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے، ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے شکایت درج کر دی جاتی ہے، شکایت میں کہا جاتا ہے کہ ٹوئٹ سے مسلح افواج کے جوانوں کو بغاوت پر اکسایا گیا ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر کی کمپلینٹ ایک کمپلینٹ نہیں بلکہ ٹرائل کے بغیر فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔

درخواست میں بتایا گیا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے 31 مئی کو درخواست گزاران کو طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے، اس کمپلینٹ اور طلبی کے نوٹسز کا مقصد درخواست گزران کو ہراساں کرنا ہے۔

انہوں نے استدعا کی کہ عدالت شکایت اور طلبی کے نوٹسز کو کالعدم قرار دے، درخواست کے زیر سماعت ہونے تک فریقین کو درخواست گزاران کو گرفتار کرنے یا ہراساں کرنے سے روکا جائے۔

واضح رہے کہ یکم جون کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی و سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے متنازع ویڈیو اپلوڈ کرنے کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پی ٹی آئی کے مزید 3 رہنماؤں کو نوٹس جاری کئے تھے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ اشتعال انگیزی سے عوام کو قانون ہاتھ میں لینے پر بھی اکسایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایف آئی اے نے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے شیخ مجیب الرحمٰن کی ویڈیو شیئر کرنے کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی تھی کہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ سے ویڈیو کس نے، کیوں اور کیسے شیئر کی جب کہ سابق وزیر اعظم نے معاملے پر ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔

Advertisement