جی این این سوشل

تجارت

عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 1 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی

عالمی بینک نے قرض کی منظوری داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے دی ہے، اعلامیہ

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 1 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی
عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 1 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی

عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 1 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔

اعلامیے کے مطابق عالمی بینک نے قرض کی منظوری داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے دی ہے، رقم داسو ہائیڈرو منصوبے کے فیز ون پر خرچ کی جائے گی۔

ورلڈ بینک کے مطابق منصوبے سے بجلی کی سپلائی میں بہتری اور توسیع ہوگی۔

عالمی بینک کے اعلامیے میں کہا گیا کہ منصوبے سے عوام کو سماجی و معاشی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی، منصوبہ مکمل ہونے پر 4320 سے 5400 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔

یاد رہے کہ داسو ہائیڈرو منصوبہ دنیا کی بہترین سائٹس میں سےایک ہے، داسو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں واقع ہے۔

علاقائی

مریم نواز کا بند روڈ پراجیکٹ کی جلد تکمیل کا حکم، جولائی کی ڈیڈ لائن

کنٹرولڈ ایکسیس کوریڈور بند روڈ کے ساتھ ساتھ سروس روڈز کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل کا فوری تدارک بھی ضروری ہے، مریم نواز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مریم نواز کا بند روڈ پراجیکٹ کی جلد تکمیل کا حکم، جولائی کی ڈیڈ لائن

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بند روڈ پراجیکٹ کی جلد تکمیل کا حکم دیتے ہوئے جولائی کی ڈیڈ لائن دیدی۔

وزیراعلی مریم نواز نے کنٹرولڈ ایکسیس کوریڈور بند روڈ منصوبے کا دورہ کیا اور سگیاں انٹرچینج سے بابو صابو تک سروس روڈز کا خود جائزہ لیا، انہوں نے ایلیویٹڈ بند روڈ کا بھی معائنہ کیا۔

ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق اور چیف انجینئر اسرار سعید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پراجیکٹ کے پیکیج ٹو کے ہائی رائزڈ ایریا کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھولا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ کنٹرولڈ ایکسیس کوریڈور بند روڈ کے ساتھ ساتھ سروس روڈز کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل کا فوری تدارک بھی ضروری ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے چلڈرن لائبریری کمپلیکس کا اچانک دورہ کیا ۔

وزیراعلیٰ مریم نواز چلڈرن لائبریری کمپلیکس اچانک پہنچیں جہاں خالی کمرے لائبری آڈیٹوریم کی لائٹ اور اے سی چل رہے تھے ۔ مریم نواز نے سرکاری وسائل کا ضیاع پر شدید برہمی کا اظہار کیا چلڈرن لائبری کمپلیکس کے بارے میں رپورٹ مانگ لی ۔

مریم نواز نے چلڈرن لائبریری کمپلیکس کو باقاعدہ فعال کرنے کے لئے فوری پلان تیار کرنے کا حکم دیا، انہوں نے لائبریری کمپلیکس کی مرکزی عمارت کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر مریم اونگریب،صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری،صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات،نوشین عدنان، سیکرٹری ایجوکیشن ڈاکٹر احتشام انورودیگر حکام بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے 1988 میں چلڈرن لائبریری کا افتتاح کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، بلاول بھٹو

حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے دوستوں کو بھی بات کرنا پڑے گی، چیئرمین پیپلز پارٹی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے دوستوں کو بھی بات کرنا پڑے گی۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ میثاق معیشت کے بغیر ملک کے بنیادی معاشی مسائل حل نہیں ہوسکتے، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کی فکر ہے، ان کو روٹی کپڑا مکان، غربت اور مہنگائی میں دلچسپی ہے۔عوام چاہتے ہیں ان کے مسائل کا حل پیش کریں، شہبازشریف نے وزیراعظم بنتے ہی چارٹرآف اکانومی کی بات کی، چارٹرآف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہو سکتا، ازخود فیصلہ نہیں ہوسکتا، چارٹرآف اکانومی پرسب سےمشورہ، اتفاق رائے کرنا پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ اپوزیشن کو بھی دعوت دی جانی چاہیے تھی، ہم مشاورت کرتے تو ہماری سیاسی طور پر بھی جیت ہوتی اور معاشی طور پر بھی بہتر فیصلے لیتے، پاکستان کے معاشی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ دعا ہے وزیراعظم کی ٹیم اور ہم مل کر ملک کو ان حالات سے نکالیں، الیکشن میں معاشی لحاظ سے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی کا تھا، ہم جب الیکشن لڑرہے تھے تو کہا جاتا 5سال پہلے معاشی حالات کیا تھے اور اب کیا ہیں؟، وزیراعظم نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی، چارٹر آف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوسکتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت بننے پر پی پی، ن لیگ کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا، حکومت کوپی ایس ڈی پی بجٹ ہمارے ساتھ مل بیٹھ کربنانا چاہئے تھا۔ حکومت پالیسیوں کےنتیجےمیں مہنگائی میں کمی آرہی ہے، امید کرتے ہیں حکومت مہنگائی میں کمی کیلئے پالیسیاں جاری رکھےگی، بجٹ میں بی آئی ایس پی میں27 فیصد اضافے پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

بلاول نے کہا کہ ہم ٹیکس بیس میں اضافے،غریبوں پرٹیکس نہ ڈالنےکاکہتےہیں، بجٹ میں بڑے لوگوں کو پکڑنے،عام آدمی کوریلیف پہنچانےکا کہتے ہیں، ہم ابھی تک عوام کو ریلیف پہنچانےمیں ناکام رہے، ہربجٹ ان ڈائریکٹ ٹیکس پرزور دیتا ہےاورنقصان عام آدمی اٹھاتا ہے۔ ہم نے تجویز کیا تھا کمپنیوں سے لے کر کسانوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دی جائے، فرٹیلائزڈ کمپنیوں کو حکومت اربوں کی سبسڈی دلواتی ہے، وزیراعظم کو مشورہ ہے آگے قدم بڑھائیں ان بڑی بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئے ، پیپلز پارٹی لابیز کا مقابلہ کرنے کیلئے وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک اپنے کسانوں کو اربوں روپے کی سپورٹ کرتا ہے، ہم اگر اپنے کسانوں کو آدھی سپورٹ بھی دیتے ہیں تو ہمسایوں سے مقابلہ کرسکتے ہیں، ہم کسانوں کی سپورٹ سے دنیا میں فوڈ سکیورٹی کے بحران کی بھی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ اس بجٹ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کس طرح کسانوں پر مزید بوجھ ڈال سکتے ہیں، نگران حکومت کی وجہ سے کسانوں کو نقصان ہوا ہے، امکان ہے اب بھی کسانوں کو نقصان ہوگا، ہم زرعی شعبے کی مدد کرکے اچھے نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ آج اور آنے والے وقت کا اہم مسئلہ موسمی تبدیلی ہے، پاکستان کے عوام کو ہیٹ ویو اور سیلاب کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، پوری دنیا موسمی تبدیلی سے پریشان ہے، نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے بعد سب سے بڑی برف کی تعداد ہمارے ناردرن ایریاز میں موجود ہے،  پاکستان تھرڈ پول کے طور پرجانا جاتا ہے، دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہمارا کیا ہوگا جب ہمارے پہاڑوں کی برف پگھلے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کووفاق کیلئےسیلز ٹیکس آن گڈزاکٹھا کرنے کا اختیار دیاجائے، پیپلزپارٹی نےعوامی معاشی معاہدےکےاتحت الیکشن لڑا، وزیر اعظم کی ابتدائی تقریرمیں پیپلزپارٹی کےچندنکات شامل تھے، وزیراعظم سےاپیل ہےبڑےلابیزکامقابلہ کرنےکیلئےقدم بڑھائیں، وزیراعظم قدم بڑھائیں پیپلزپارٹی آپ کےساتھ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

موسم

مون سون کےپہلے اسپیل کا جلد پاکستان میں داخل ہونے کا امکان

آئندہ 24 گھنٹوں میں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کے راستے مون سون کا اسپیل پاکستان کے مشرقی علاقوں میں داخل ہو گا، محکمہ موسمیات

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مون سون کےپہلے  اسپیل کا جلد پاکستان میں داخل ہونے کا امکان

مون سون کے اسپیل کا آئندہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں داخل ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کے راستے مون سون کا اسپیل پاکستان کے مشرقی علاقوں میں داخل ہو گا۔ مون سون کے ممکنہ اسپیل کی بدولت 26 جون تا یکم جولائی تک ملک کے بیشتر حصوں میں بارشوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 26 جون سے یکم جولائی تک کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے اندرونی علاقوں، جبکہ 27 جون تا 30 جون پنجاب کے بالائی اور زیریں علاقوں میں بارشوں کے واضح امکانات ہیں۔ 

محکمہ موسمیات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین روز سے گرمی کی شدت جاری تھی، لیکن کل سے درجہ حرارت  42 ڈگری پر پہنچا ہے، ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی 4 ڈگری  زیادہ محسوس کی گئی۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ درجہ حرارت تربت میں  49 ڈگری جبکہ سبی، نواب شاہ اور دادو میں 47ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ 

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ مون سون کے اسپیل سے قبل  پنجاب بھر کے میدانی علاقوں میں مزید  تین سے چار روز تک زیادہ  گرمی پڑنے کا امکان ہے۔ بھکر، ڈی جی خان اور رحیم یار خان  سمیت جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48 سے 50 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll