جی این این سوشل

پاکستان

سکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کارروائی، 11 دہشت گرد ہلاک

علاقے میں پائے جانے والے دیگر دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کارروائی، 11 دہشت گرد ہلاک
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کارروائی کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا کے شہر لکی مروت میں کیپٹن محمد فراز الیاس اور صوبے دار میجر محمد نذیر کی شہادت کے بعد سکیورٹی فورسز کا آپریشن ہوا جس میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے اور گیارہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں پائے جانے والے دیگر دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لکی مروت میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں 11 دہشت گردوں کو ہلاک کیے جانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

پاکستان

بلوچستان ، اغواء ہونیوالے مزید 3 افراد کو چھوڑ دیا

اغواکاروں نے7 روزبعد ازخود 10 میں سے 3 افرادکو چھوڑ دیا جس کے بعد تینوں افرادکوکوئٹہ پہنچادیاگیا، حکام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بلوچستان ، اغواء ہونیوالے مزید 3 افراد کو چھوڑ دیا

ہرنائی کے علاقے زرغون غزسے اغواء 10 افراد میں سے مزید 3 کو چھوڑ دیا گیا۔

حکام کے مطابق اغواکاروں نے7 روزبعد ازخود 10 میں سے 3 افرادکو چھوڑ دیا جس کے بعد تینوں افرادکوکوئٹہ پہنچادیاگیا۔

دوسری جانب زرغون غز  سےاغوا کیاگیا ایک نوجوان گھر پہنچ گیا ہے جس کی تصدیق اس کی فیملی کی جانب سے کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ہرنائی کے علاقے زرغون سے 19 جون کومسلح افراد نے 14 افراد کو اغوا کیاتھا جس میں سے 4 کو پہلے اور تین کو اب چھوڑا گیا ہے۔

لیویز ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع ہرنائی کے پہاڑی علاقے زرغون غر میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کی صبح سیر و تفریح کے لیے جانے والے 14 افراد کو اغوا کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ تمام افراد کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، جسٹس بابر ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس بابرستار نے کہا ہے کہ صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کررہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منوراقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ لائیو کال کو مانیٹر کرسکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 2013 میں نئی پالیسی آئی، وزارتِ داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ضرورت پڑنے پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارتِ داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، وزارتِ داخلہ کے ایک سیکشن افسر نے ایس او پی جاری کردیا اور سیکشن افسر کے ایس او پی کے تحت آپ ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ اُن میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کام کرنے کیا میکانزم ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، جس پر پولیس وکیل نے کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جستس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟

ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے پوچھا کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے۔

وکیل ٹیلی کام کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابتآڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، بلاول بھٹو

حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے دوستوں کو بھی بات کرنا پڑے گی، چیئرمین پیپلز پارٹی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے دوستوں کو بھی بات کرنا پڑے گی۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ میثاق معیشت کے بغیر ملک کے بنیادی معاشی مسائل حل نہیں ہوسکتے، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کی فکر ہے، ان کو روٹی کپڑا مکان، غربت اور مہنگائی میں دلچسپی ہے۔عوام چاہتے ہیں ان کے مسائل کا حل پیش کریں، شہبازشریف نے وزیراعظم بنتے ہی چارٹرآف اکانومی کی بات کی، چارٹرآف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہو سکتا، ازخود فیصلہ نہیں ہوسکتا، چارٹرآف اکانومی پرسب سےمشورہ، اتفاق رائے کرنا پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ اپوزیشن کو بھی دعوت دی جانی چاہیے تھی، ہم مشاورت کرتے تو ہماری سیاسی طور پر بھی جیت ہوتی اور معاشی طور پر بھی بہتر فیصلے لیتے، پاکستان کے معاشی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ دعا ہے وزیراعظم کی ٹیم اور ہم مل کر ملک کو ان حالات سے نکالیں، الیکشن میں معاشی لحاظ سے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی کا تھا، ہم جب الیکشن لڑرہے تھے تو کہا جاتا 5سال پہلے معاشی حالات کیا تھے اور اب کیا ہیں؟، وزیراعظم نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی، چارٹر آف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوسکتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت بننے پر پی پی، ن لیگ کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا، حکومت کوپی ایس ڈی پی بجٹ ہمارے ساتھ مل بیٹھ کربنانا چاہئے تھا۔ حکومت پالیسیوں کےنتیجےمیں مہنگائی میں کمی آرہی ہے، امید کرتے ہیں حکومت مہنگائی میں کمی کیلئے پالیسیاں جاری رکھےگی، بجٹ میں بی آئی ایس پی میں27 فیصد اضافے پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

بلاول نے کہا کہ ہم ٹیکس بیس میں اضافے،غریبوں پرٹیکس نہ ڈالنےکاکہتےہیں، بجٹ میں بڑے لوگوں کو پکڑنے،عام آدمی کوریلیف پہنچانےکا کہتے ہیں، ہم ابھی تک عوام کو ریلیف پہنچانےمیں ناکام رہے، ہربجٹ ان ڈائریکٹ ٹیکس پرزور دیتا ہےاورنقصان عام آدمی اٹھاتا ہے۔ ہم نے تجویز کیا تھا کمپنیوں سے لے کر کسانوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دی جائے، فرٹیلائزڈ کمپنیوں کو حکومت اربوں کی سبسڈی دلواتی ہے، وزیراعظم کو مشورہ ہے آگے قدم بڑھائیں ان بڑی بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئے ، پیپلز پارٹی لابیز کا مقابلہ کرنے کیلئے وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک اپنے کسانوں کو اربوں روپے کی سپورٹ کرتا ہے، ہم اگر اپنے کسانوں کو آدھی سپورٹ بھی دیتے ہیں تو ہمسایوں سے مقابلہ کرسکتے ہیں، ہم کسانوں کی سپورٹ سے دنیا میں فوڈ سکیورٹی کے بحران کی بھی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ اس بجٹ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کس طرح کسانوں پر مزید بوجھ ڈال سکتے ہیں، نگران حکومت کی وجہ سے کسانوں کو نقصان ہوا ہے، امکان ہے اب بھی کسانوں کو نقصان ہوگا، ہم زرعی شعبے کی مدد کرکے اچھے نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ آج اور آنے والے وقت کا اہم مسئلہ موسمی تبدیلی ہے، پاکستان کے عوام کو ہیٹ ویو اور سیلاب کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، پوری دنیا موسمی تبدیلی سے پریشان ہے، نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے بعد سب سے بڑی برف کی تعداد ہمارے ناردرن ایریاز میں موجود ہے،  پاکستان تھرڈ پول کے طور پرجانا جاتا ہے، دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہمارا کیا ہوگا جب ہمارے پہاڑوں کی برف پگھلے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کووفاق کیلئےسیلز ٹیکس آن گڈزاکٹھا کرنے کا اختیار دیاجائے، پیپلزپارٹی نےعوامی معاشی معاہدےکےاتحت الیکشن لڑا، وزیر اعظم کی ابتدائی تقریرمیں پیپلزپارٹی کےچندنکات شامل تھے، وزیراعظم سےاپیل ہےبڑےلابیزکامقابلہ کرنےکیلئےقدم بڑھائیں، وزیراعظم قدم بڑھائیں پیپلزپارٹی آپ کےساتھ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll