جی این این سوشل

پاکستان

شہید بےنظیر بھٹو کی آج 71ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر صوبائی حکومت کے تحت تمام تر ضلعی ہیڈ کوآرٹرز میں تقریبات منعقد ہوں گی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

شہید بےنظیر بھٹو کی آج 71ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے
شہید بےنظیر بھٹو کی آج 71ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی آج 71 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر صوبائی حکومت کے تحت تمام تر ضلعی ہیڈ کوآرٹرز میں تقریبات منعقد ہوں گی۔

تقریبات میں پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا جبکہ کراچی میں جلسہ بھی منعقد کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو آج لیاری میں کارکنان کے ہمراہ والدہ کی سالگرہ منائیں گے۔

21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہونے والی بے نظیر بھٹو عالمی اور ملکی سیاست میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھنے والی شخصیت تھیں۔

بے نظیر بھٹو نے ریڈ کلف کالج اور ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات، اقتصادیات اور فلسفے میں ڈگریاں حاصل کیں۔

شہید بے نظیر بھٹو اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی لاڈلی بیٹی ہونے کی وجہ سے بچپن میں ہی اپنے والد کے ساتھ غیرملکی دوروں پر جایا کرتی تھیں۔

1982 میں بے نظیر بھٹو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں، جلاوطنی کے بعد وہ 1986 میں پہلی بار جب لاہور پہنچیں تو ان کا تاریخی استقبال ہوا اور انہوں نے ملک بھر کا دورہ کیا۔

1987 میں بے نظیر بھٹو کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی ۔ 1988 میں عام انتخابات کے دوران بے نظیر بھٹو نے تاریخی کامیابی حاصل کر کے پاکستان کی وزیراعظم کی حیثیت سے بھاگ دوڑ سنبھالی ۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو 7 اگست 1990 میں صدر اسحاق خان نے بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے برطرف کر دیا جس کے بعد 1993 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن گئیں۔

1996 میں پیپلز پارٹی کے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے بے امنی اور بد عنوانی، کرپشن کے باعث بے نظیر کی حکومت کو پھر سے برطرف کر دیا۔

بعدازاں 19 اکتوبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کراچی واپس آئیں جہاں ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تاہم حملے میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئی تھیں۔

پاکستان

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

لیاقت بلوچ نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد  میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ 26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہو گا۔
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکمران جماعتیں عوام سے جینے کا حق چھین رہی ہیں۔

سیاناسی جماعتیں پاور پالیٹکس میں لگی ہیں، جبکہ عوام کو مہنگائی کے سامنے مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام سیاست جمہوریت اور پارلیمان سے مایوس ہو گئے، بجلی،گیس اور پٹرول ٹیکسز کے انبار نے عوام کو برباد کر دیا ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کسی صورت بھی دیوالیہ نہیں ہونا چاہیے، موجودہ حکومت نے دیوالیہ سے بھی آگے ملک کو پہنچا دیا ہے، آئی پی پیز سے معاہدوں سے قومی معیشت کو پھندہ ڈال دیا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں فارم 47 طرز کی حکمرانی مسلط کی گئی، طلبا سڑکوں پر نکل کر اپنا حق حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان کےعوام بھی حکومتی خاندانوں کے خلاف نکلنے کو تیار ہیں، عوام ان حکمران خاندانوں سے نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا۔

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بات کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، ملک احمد بھچر

آرٹیکل 6 لگا کر دیکھیں، حکومت کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، ملک احمد بھچر

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، آرٹیکل 6 لگا کر دیکھیں، حکومت کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔

لاہور پریس کلب میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما سنی اتحاد کونسل ملک احمد بھچر نے کہا کہ سپیکر صاحب اپنے ناجائز اختیارات کا بھرپور استعمال کررہے ہیں۔ آپ ہمارے بندوں اور لیڈر کو ناجائز مقدمات میں گرفتار کرتے ہیں، آپ خود 18کروڑ کی گاڑیاں لے رہے ہیں،اسپیکر پنجاب اسمبلی نے 28 جون کو اپوزیشن کے چیمبر کو تالہ لگا دیا۔

ملک احمد بھچر نے کہا کہ سپیکر صاحب آپ اپنے ناجائز اختیارات کا بھرپور استعمال کررہے ہیں، آپ کسی کی خوشی کیلئے اپنی شخصیت کو کیوں داغدار کررہے ہیں، انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیکا ایکٹ ک تحت سائبر عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی ایم پی اے ٹی اے ڈی اے لینے نہیں گیا، آپ پچھلی تمام حاضریاں نکلوائیں، ہمارے 11اراکین اسمبلی کو بغیر نوٹس معطل کردیا گیا، ہماری جمہوری جماعت ہے اپنی ٹیم کے بغیر نہیں چل سکتا۔ آمریت جیسی حکومت چل رہی ہے۔ یہ جتنے بھی مقدمات بنا رہے ہیں ان کے تابوت میں آخری کیل ہو گا۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنی اور ایم پی ایز کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا اختیار رکھتے ہیں، ہم عدالتوں کے دروازے پر دستک دیں گے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، سپریم کورٹ جج

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا

نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا نام لینا نہیں چاہ رہاجس نے عدم اعتماد کے وقت ایسا ماحول بنایا جیسے مارشل لاء لگنے والا ہے، میں چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر1999  کوکھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیراعظم کوباہرپھینکا،اسلام آباد ہائی کورٹ بھی رات کو کھولی گئی کیونکہ ٹی وی چینل نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ مارشل لاء لگنے والا ہے۔ کسی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانےکی کوشش کی ہوتی تویہ امتحان اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوتا کہ وہ آئین کی بالادستی کےلیےکھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔ 

جسٹس اطہر نے مزید کہا کہ جو لوگ 2022 تک میرے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے وہ اچانک تبدیل ہوگئے، آج پروپیگنڈا وہ کررہے ہیں جنہوں نے اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ سے فائدہ اٹھایا تھا، اس وقت انہیں ملک کی کوئی ہائیکورٹ ریلیف نہیں دے رہی تھی، یہ جج کا اصل امتحان ہوتا ہے جس سے جج اور عدالت پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، تنقید سے جج کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll