ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کسی قسم کے آپریشن کا ذکر نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ کے پی
اپیکس کمیٹی اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر اور ملک میں امن و امان پر بات ہوئی، علی امین گنڈا پور


وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں ایک پالیسی بتائی گئی، پالیسی تھی کہ امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہئے، میٹنگ میں عزم پاکستان کا نام آیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اپیکس کمیٹی اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر اور ملک میں امن و امان پر بات ہوئی، دہشتگردی کا خاتمہ ہونا چاہیے، اس حوالے سے سارے پاکستان بشمول کشمیر و گلگت میں ایک پالیسی ہونی چاہیے جس کو عزم پاکستان کا نام دیا گیا، اس میں آپریشن کا لفظ نہ پہلے ڈسکس ہوا نہ کبھی بعد میں اس کا ذکر ہوا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ میری آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، میں عسکری قیادت سے ملنا چاہتا ہوں آپریشن پر بات کرنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کا لفظ نہ پہلے تھا نہ بعد میں، بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں دہشتگردی میں کمی آئی، ہم نے سی ٹی ڈی کو بہتر کیا، ہماری پالیسی ہے عوام کو پہلے اعتماد میں لیا جائے، دہشت گردی کا مقابلہ عوام کے بغیر نہیں کر سکتے، صوبوں اور پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو پالیسی آئی ہی نہیں کہ انہوں نے کرنا کیا ہے، بلاول بھٹو نے پوری دنیا کا چکر لگایا مگر افغانستان نہیں گئے، ان کو ہمارے افواج پاکستان کے جوانوں اور سویلین جوانوں کی پرواہ نہیں، مقابلہ کرنے کیلئے ایک بہترین پالیسی اور بات چیت ہونی چاہئے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا ہے آپ افغانستان سے بات چیت کی پالیسی بنانا چاہتے ہیں تو کردار ادا کرسکتے ہیں، ہم پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس کے لیے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہیں۔
اعلی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پہلے بھی کہہ رہے تھے پاکستان کی خاطر مذاکرات کیلئے تیار ہوں، ہم بات کرنے کو تیار ہیں لیکن ٹرم اینڈ کنڈیشنڈ وہی ہوں گی، تحقیقات ہونی چاہئیں 9 مئی کیسے ہوا کس نے کیا؟، ہماری پہلی شرط ہے مینڈیٹ چوری، فارم 45 پر بات ہوگی۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہمارا صوبہ بجلی بنانے والا ہے، آئین میں ہمارے حقوق ہیں، بجلی نہیں دی جا رہی، لوڈشیڈنگ کی ایک حد ہے، کہتے 12 گھنٹے تھے لیکن لوڈشیڈنگ 16 گھنٹے کی ہو رہی تھی، میں یہ چیزیں نہیں چاہتا لیکن عوام کی تکلیف دیکھنی پڑے گی۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میرے بجلی کی مد میں آپ نے 510 ارب روپے دینے ہیں، ہم نے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، ملک کے حالات کو بھی دیکھ رہے ہیں، ہم نے ایک ماہ میں 1 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر گورنر کا صوبے میں کوئی کام نہیں، گورنر خیبرپختونخوا مجھ پر 50 الزام لگا چکے ہیں، گورنر خیبرپختونخوا کا سیاسی باتیں کرنے کا کام نہیں، گورنر خیبرپختونخوا گھومتے پھر رہے ہیں، میں برداشت کر رہا ہوں، میرے لوگوں کو اٹھایا گیا، توڑا گیا، لوگ بے وقوف نہیں۔

سلہٹ ٹیسٹ: دوسرے روز کے اختتام تک بنگلادیش نے دوسری اننگز میں 3 وکٹوں پر 110 رنز بنالیے
- 2 دن قبل

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا،عید 27 مئی کو ہو گی
- 2 دن قبل
ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی
- 2 گھنٹے قبل
مسلح افواج ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،فیلڈمارشل
- 2 گھنٹے قبل

دوسرا ٹیسٹ: بنگلا دیش دوسری اننگز میں 390 رنز بنا کر آؤٹ، پاکستان کو جیت کیلئے437 رنز کا ہدف
- ایک دن قبل

ملک میں عیدالاضحیٰ کب ہو گی؟چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری
- 2 دن قبل

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی منصوبوں پر جائزہ اجلاس
- ایک دن قبل

ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے نئے ادارے کے قیام کا اعلان کر دیا
- ایک دن قبل

امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی کے ذریعےبات چیت کا عمل جاری ہے،اسماعیل بقائی
- ایک دن قبل

پاکستان میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا،عید 27 مئی کو ہو گی
- 2 دن قبل
پاکستان اوردیگرنوممالک کی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت
- 2 گھنٹے قبل

کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا مزید مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- ایک دن قبل







