جی این این سوشل

پاکستان

ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے، مولانا فضل الرحمان

ملک میں مسلح تنظیمیں کھلے عام گھوم رہی ہیں، سربراہ  جمیعت علماء اسلام

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے، مولانا فضل الرحمان
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ  اسٹیملشمنٹ کو ہر شعبے میں اپنی بالادستی ختم کرنا ہو گی۔ ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ، اصغر اچکزئی ، خوشحال خان کاکڑ، عبد الخالق ہزارہ سے ملاقات کے بعد کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عزم استحکام آپریشن ملک میں عدم استحکام پیدا کرے گا۔ ملک میں مسلح تنظیمیں کھلے عام گھوم رہی ہیں۔جمہوریت اور پارلیمنٹ اپنا مقدمہ ہار چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  ہم کسی اتحاد کی مخالفت نہیں کر رہے، سیاسی لوگوں کی باہمی مشاورت کا سلسلہ چلنا چاہیے، بات چیت اور مشاورت کے بہتر نتائج آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سورج غروب ہونے کے بعد پولیس تھانوں میں چھپ جاتی ہے۔ آپریشن عزم استحکام درحقیقت آپریشن عدم استحکام ثابت ہوگا، ہ عدم استحکام آپریشن ہے جو ملک کو کمزور کرےگا، مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ ملک کو اور کمزور کیوں کیا جارہا ہے؟

مولانا نے مزید کہا کہ جس شناختی کارڈ کی بنیاد  پر آرمی چیف پاکستانی ہے اسی بنیاد پر میں بھی پاکستانی ہوں، ہم سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، لیکن ایک طبقہ سمجھے کہ اس نے حاکم اور باقی سب نے غلام رہنا ہے، واضح کرنا چاہتے ہیں ہمارے قبیلوں کی یہ قسم نہیں، ہماری 300 سالہ تاریخ غلامی کے خلاف جنگ لڑنے کی ہے، انگریزوں کیخلاف 50 ہزار سے زائد مجاہدین کو شہید کیا گیا، ہم نے ملک غلامی کرنے کےلئے حاصل نہیں کیا تھا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملک میں ریاستی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے، خیبرپختونخوا میں سورج غروب ہوتے ہی پولیس تھانوں میں بند ہوجاتی ہے، ملک کے چپے چپے پر فوج اور پولیس موجود ہے، کیوں بے بس ہے، شہبازشریف وزیراعظم نہیں بس کرسی پر بیٹھے ہیں۔

 

پاکستان

فارغ بیٹھے گورنر توجہ حاصل کرنے کے لیے ہمارے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں ، بیرسٹر سیف

صوبے میں لاقانونیت اس وقت عروج پر تھی جب وفاق اور یہاں آپ کی پارٹی کی حکومت تھی، مشیر اطلاعات

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فارغ بیٹھے گورنر  توجہ حاصل کرنے کے لیے ہمارے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں ، بیرسٹر سیف

مشیر اطلاعات  خیبر پختونخواہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ فارغ بیٹھا گورنر میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں۔  

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں بیرسٹر سیف کا گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبے میں لاقانونیت اس وقت عروج پر تھی جب وفاق اور یہاں آپ کی پارٹی کی حکومت تھی، آپ کے دور حکومت میں پشاور ٹو ڈی آئی خان سفر کرنا ممکن نہیں تھا۔

میشر اطلاعات نے مزید کہا کہ فارغ گورنر وہ دن بھول گئے جب وہ خود ڈی آئی خان سے پشاور کا سفربراستہ اسلام آباد کرتے تھے، فارغ گورنر عہدہ سنبھالنے کے بعد خیبر پختونخوا میں انوکھے بن بلائے مہمان بن چکے ہیں، گورنر بغیر دعوت تقریبات میں شرکت کرنے سے پہلے اپنا نا صحیح عہدے کا لحاظ تو رکھیں۔ 

انہوں نے مزید کہا گورنر 12 سال تک مسلسل مسترد اور بے روزگار بیٹھنے کے بعد اب مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں والا جن بن چکے ہیں، فارغ بیٹھے گورنر کے پاس کرنے کو کام نہیں اس لیے الٹے سیدھے بیانات سے کام ڈھونڈ رہے ہیں، گورنر 3بار علی امین گنڈاپور سمیت تینوں بھائیوں سے شکست خوردہ شخص ہے۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جعلی سرکار نے فیصل کریم کنڈی کو صرف اور صرف خیبر پختونخوا میں ترقی کی راہ میں رخنہ ڈالنے کے لئے گورنر کا عہدہ دیا ہے، علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، وزیر اعلی علی امین گنڈاپور انکے فضول باتوں پر کان نہیں دھرتے ہیں۔    

واضح رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کو پی ٹی آئی حکومت کی 10 سالہ کارکردگی پر مناظرے کا چیلنج دیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

ہمارا احتجاج ملک میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال،ناجائز طورپر جیلوں میں قید ہمارے رہنما اور مہنگائی کے خلاف ہے، اسد قیصر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ویڈیو پیغام میں پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان آئندہ جمعہ کو ملک گیراحتجاج کرے گی، ہمارے احتجاج کے تین اراض و مقاصد ہیں۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہمارا احتجاج ملک میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال اور حکومت کی ناکامی، دوسرا ناجائز طور پر عمران خان ، بشری بی بی اور ہمارے دیگر اسیران جیلوں میں ہیں اور ہمارے سوشل ورکر اور خاص طور پر سوشل میڈیا سے متعلقہ لوگوں کو ناجائز طور پر اٹھانے اور غائب کرنے کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا ہمارا احتجاج مہنگائی کے خلاف ہے جو انہوں نے بجٹ کے ذریعے غریب عوام پر قیامت برپا کی ہے۔ بجلی کی بلوں میں اضافہ کیا گیا ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے،بہت زیادہ ٹیکسز لگاے گئے ہیں جو ناقابل برداشت ہیں ۔تمام طبقے خواہ وہ کسان ہو ، طلباء ہو ، تاجر ہو یا مزدور ہم سب نے اس ملک کو بچانا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور یہ ایک سیاسی جماعت کے خلاف کریک ڈاون کر رہے ہیں ایم این ایز کو خریدنے کیلئے بڑی بڑی آفرز کر رہے ہیں ، لوگوں کو دبایا جا رہا ہے کہ اپنی وفاداری تبدیل کریں۔

اسد قیصر نے مزید کہا کہ انکو کوئی شرم و حیا نہیں ہے انہوں نے ہر صورت اقتدار سے چمٹنا ہے۔آپ لوگوں نے نکلنا ہے جمعہ کو تاریحی احتجاج کریں گے۔تمام سیاسی جماعتوں بلخصوص جی ڈی اے کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دیں گے۔

واضح رہے کہ 26 جولائی جمعہ کے روز ہی جماعت اسلامی پاکستان نے بھی مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج و دھرنے کی کال دے رکھی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بنوں میں فائرنگ پی ٹی آئی کے لوگوں نے کی، جس سے بھگڈر مچی، وفاقی وزیر اطلاعات

کے پی حکومت کا انکوائری کا حکم سمجھ سے بالاتر ہے، عطاء تارڑ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بنوں میں فائرنگ پی ٹی آئی کے لوگوں نے کی، جس سے بھگڈر مچی، وفاقی  وزیر اطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بنوں میں فائرنگ پی ٹی آئی کے لوگوں نے کی، جس سے بھگڈر مچی، مارچ میں تحریک انصاف کے مسلح افراد شامل تھے، واقعے میں سکیورٹی ادارے اور عوام کو لڑانے کی کوشش کی گئی، بنوں حملے کو پی ٹی آئی نے غلط رنگ دیا، کے پی حکومت کا انکوائری کا حکم سمجھ سے بالاتر ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ کچھ حقائق عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ، پی ٹی آئی نے ہمیشہ انتشار اور تشدد کی سیاست کی، ملک میں عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا ہی پی ٹی آئی کا منشور اور مشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنوں میں تاجروں کا امن مارچ تھا اس میں سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہوئے، تاجروں کے احتجاج میں تحریک انصاف بھی شامل ہوئی، پی ٹی آئی نے لوگوں کو تشدد پر اکسایا، کیا امن مارچ میں لوگ مسلح ہو کر آتے ہیں، جہاں دہشتگردی ہوئی وہاں جا کر فائرنگ کی گئی، بنوں میں دنگا فساد کرانے کی کوشش کی گئی، بنوں واقعہ تحریک انصاف نے خود کیا ہے، بنوں واقعہ میں آپ کے لوگ ملوث ہیں،آپ خود ہی کیسے انکوائری کراسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں دھرنے کے دوران پی ٹی وی پر حملے اور توڑ پھوڑ کے بعد مبارکبادیں دی گئیں، یہ لوگ ہمیشہ لاشوں کی تلاش میں رہتے ہیں، کسی جلسے میں لوگ بےہوش ہوئے تو بانی پی ٹی آئی خوش ہوئے، ان کی کوشش رہی کہ اپنے لوگوں کو مروا کرالزام حکومت پر لگایا جائے، یہ لوگ شہداء کی قربانیوں کا بھی پاس نہیں رکھتے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں جدید سہولیات میسر ہیں، حکومت نے انھیں جیل میں اذیت پہنچانے کا کوئی حکم نہیں دیا۔

جرمنی میں پاکستانی سفارتی مشن پر افغان شہریوں کے دھاوا بولنے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ فرینکفرٹ جرمنی میں پاکستانی قونصلیٹ پر حملے کے واقعہ پر دفترخارجہ نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، دفترخارجہ نے جرمن حکام سے کہا ہے کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll