Advertisement
پاکستان

سویلینز کے ٹرائل کا کیس، انسانوں کیساتھ غیرانسانی برتائو نہ کریں، جسٹس عرفان

وفاق یہاں عدالت کے سامنے ایک قانون کا دفاع کرنے کھڑا ہے، عدالت کو اس بات کو سراہنا چاہیے،اٹارنی جنرل

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jul 11th 2024, 6:56 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سویلینز کے ٹرائل کا کیس، انسانوں کیساتھ غیرانسانی برتائو نہ کریں، جسٹس عرفان


سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ ملزمان کے ساتھ میٹنگ فکس ہیں، صرف لاہور میں ملاقات کا مسئلہ بنا تھا، حسان نیازی لاہور میں ہیں، میں نے متعلقہ حکام کو تجویز دے دی ہیں۔

اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر تفتیش مکمل ہوگئی تو جوڈیشل کسٹڈی میں کیوں ہیں؟ پھر تو معاملہ ہی ختم ہوگیا، انسانوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں، ، جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں۔

اس موقع پر وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ میاں عباد فاروق فوجی تحویل میں ہیں، ان کے 5 سال کے بیٹے کی وفات ہوئی ہے مگر اس کے باوجود بھی میاں عباد فاروق کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کروائی کہ آج ان کی ملاقات ہو جائے گی، آج حفیظ اللہ نیازی صاحب کی بھی اپنے بیٹے سے ملاقات ہونی ہے۔

بعد ازاں جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا ہر سماعت پر ہمارا آرڈر درکار ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا ہے تو وہ جیل میں کیوں نہیں ہیں ؟ اٹرانی جنرل نے بتایا کہ ملٹری کورٹس میں جوڈیشل ریمانڈ نہیں دیا جاتا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ اہل خانہ سے ملاقاتیں کرانے کے لیے فوکل پرسن کون ہے؟

اس موقع پر ڈائریکٹر لا بریگیڈیئر عمران عدالت میں پیش ہوئے۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایک نمبر ملزمان کے اہلخانہ کو دیا گیا ہے جس پر وہ رابطہ کرسکتے ہیں، وہ نمبر ہر وقت رابطے کے لیے میسر رہتا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے دریافت کیا کہ آپ کے پاس کوئی تفصیلات ہیں ملزمان کے اہلخانہ سے متعلق؟ ڈائریکٹر لا نے جواب دیا کہ میرے پاس اس وقت تفصیلات نہیں ہیں، جسٹس حسن اظہر علی نے مزید کہا کہ جن کے بچے کی وفات ہوئی ہے انہیں اہلخانہ سے فوری طور پر ملوایا جائے۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا۔

جسٹس امین الدین خان نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ زیر حراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی؟ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ متعلقہ حکام کو بتایا تھا کہ ملاقات کرانے کا حکم عدالت کا ہے، تسلیم کرتا ہوں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے تھا، آج 2 بجے زیرحراست افراد کو اہلخانہ سے ملوایا جائے گا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ جن سے تفتیش مکمل ہوچکی وہ جیلوں میں کیوں نہیں بھیجے گئے؟ تفتیش کے لیے متعلقہ اداروں کے پاس ملزم رہے تو سمجھ آتی ہے، تفتیش مکمل ہوچکی تو ملزمان کو جیلوں میں منتقل کریں۔

اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جیلوں میں منتقلی میں کچھ قانونی مسائل بھی ہیں، جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیے کہ انسانوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

اس موقع پر جسٹس شاہد وحید اور جسٹس محمد علی مظہر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ ہمیں غلط دکھائے بغیر ہم سے نیا اور الگ فیصلہ چاہتے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا کہ اپیل میں اگر کیس آیا ہے، تو پھر سب کچھ کھل گیا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ یہ نکتہ نظر میرے ساتھی کا ہوسکتا ہے میرا نہیں،ہمیں اس اپیل کا اسکوپ دیکھنا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت اپیل کا اسکوپ وسیع ہے، جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ہم اپیل میں اس کیس کو ریمانڈ بھی کرسکتے ہیں ؟ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ آپ کے پاس ریمانڈ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اپیل میں فیصلہ کالعدم برقرار یا ریمانڈ کیا جاسکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کا اسکوپ وسیع ہے تو آگے بڑھیے ، جسٹس عرفان سعادت خان نے بتایا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اپیل ہے، ریویو نہیں۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ وفاق یہاں عدالت کے سامنے ایک قانون کا دفاع کرنے کھڑا ہے، عدالت کو اس بات کو سراہنا چاہیے، جس قانون کو کالعدم کیا گیا وہ ایسا تنگ نظر قانون نہیں تھا جیسا کیا گیا۔

اس پر اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ کی کالعدم شقوں سے متعلق دلائل دیے۔

جسٹس شاہد وحید نے دریافت کیا کہ کیا اپیل کا حق ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے؟ ہر کسی کو اپیل کا حق دیا گیا تو یہ کیس کبھی ختم نہیں ہوگا، کل کو عوام میں سے لوگ اٹھ کر آجائیں گے کہ ہمیں بھی سنیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک قانون سارے عوام سے متعلق ہوتا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ متاثرہ فریق ہونا ضروری ہے اپیل دائر کرنے کے لیے۔

بعد ازاںسویلینز کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔

Advertisement
دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکا کے ایران پر دوبارہ حملے

دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکا کے ایران پر دوبارہ حملے

  • a day ago
بجلی کی خرید و فروخت میں اربوں کی مبینہ کرپشن، فیسکو کے دو سابق چیف ایگزيکٹو گرفتار

بجلی کی خرید و فروخت میں اربوں کی مبینہ کرپشن، فیسکو کے دو سابق چیف ایگزيکٹو گرفتار

  • a day ago
سعودی عرب نے ایک سالہ نیا ویزا متعارف کرا دیا

سعودی عرب نے ایک سالہ نیا ویزا متعارف کرا دیا

  • an hour ago
تھانیدار نے اپنے ہی ایس پی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا

تھانیدار نے اپنے ہی ایس پی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا

  • 4 hours ago
11ویں کلر اینڈ کیم ایکسپو 2026 کا انعقاد، پنجاب نے صنعتی ترقی کے نئے وژن کے تحت مقامی و بین القوامی سرمایہ کاروں کو آفر دے دی

11ویں کلر اینڈ کیم ایکسپو 2026 کا انعقاد، پنجاب نے صنعتی ترقی کے نئے وژن کے تحت مقامی و بین القوامی سرمایہ کاروں کو آفر دے دی

  • 2 days ago
11ویں کلر اینڈ کیم ایکسپو 2026 کامیابی سے اختتام پذیر، صنعتی تعاون کو نئی تقویت

11ویں کلر اینڈ کیم ایکسپو 2026 کامیابی سے اختتام پذیر، صنعتی تعاون کو نئی تقویت

  • a day ago
امریکا ایران حملوں میں شدت، خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ

امریکا ایران حملوں میں شدت، خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ

  • 6 hours ago
حکومت نے آج سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا فارمولہ پیش کر دیا

حکومت نے آج سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا فارمولہ پیش کر دیا

  • 3 days ago
شیخوپورہ: اسٹیج اداکارہ پر دوران ڈرامہ مسلح شخص کا ساتھیوں سمیت تشدد

شیخوپورہ: اسٹیج اداکارہ پر دوران ڈرامہ مسلح شخص کا ساتھیوں سمیت تشدد

  • a day ago
حماس کے نئے سربراہ مقرر، خاص شخصیت کون ہیں؟

حماس کے نئے سربراہ مقرر، خاص شخصیت کون ہیں؟

  • 5 hours ago
ہدایتکارہ سنگیتا کا  فلم مکھو 25 دسمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان، شوٹنگ آخری مراحل میں

ہدایتکارہ سنگیتا کا فلم مکھو 25 دسمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان، شوٹنگ آخری مراحل میں

  • 2 days ago
ڈالر ہی ڈالر: فیفا ورلڈکپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین کو تاریخی انعامی رقم ملی

ڈالر ہی ڈالر: فیفا ورلڈکپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین کو تاریخی انعامی رقم ملی

  • 5 hours ago
Advertisement