جی این این سوشل

پاکستان

سویلینز کے ٹرائل کا کیس، انسانوں کیساتھ غیرانسانی برتائو نہ کریں، جسٹس عرفان

وفاق یہاں عدالت کے سامنے ایک قانون کا دفاع کرنے کھڑا ہے، عدالت کو اس بات کو سراہنا چاہیے،اٹارنی جنرل

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سویلینز کے ٹرائل کا کیس، انسانوں کیساتھ غیرانسانی برتائو نہ کریں، جسٹس عرفان
سویلینز کے ٹرائل کا کیس، انسانوں کیساتھ غیرانسانی برتائو نہ کریں، جسٹس عرفان


سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینزکے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ ملزمان کے ساتھ میٹنگ فکس ہیں، صرف لاہور میں ملاقات کا مسئلہ بنا تھا، حسان نیازی لاہور میں ہیں، میں نے متعلقہ حکام کو تجویز دے دی ہیں۔

اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر تفتیش مکمل ہوگئی تو جوڈیشل کسٹڈی میں کیوں ہیں؟ پھر تو معاملہ ہی ختم ہوگیا، انسانوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں، ، جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں۔

اس موقع پر وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ میاں عباد فاروق فوجی تحویل میں ہیں، ان کے 5 سال کے بیٹے کی وفات ہوئی ہے مگر اس کے باوجود بھی میاں عباد فاروق کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کروائی کہ آج ان کی ملاقات ہو جائے گی، آج حفیظ اللہ نیازی صاحب کی بھی اپنے بیٹے سے ملاقات ہونی ہے۔

بعد ازاں جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا ہر سماعت پر ہمارا آرڈر درکار ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا ہے تو وہ جیل میں کیوں نہیں ہیں ؟ اٹرانی جنرل نے بتایا کہ ملٹری کورٹس میں جوڈیشل ریمانڈ نہیں دیا جاتا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ اہل خانہ سے ملاقاتیں کرانے کے لیے فوکل پرسن کون ہے؟

اس موقع پر ڈائریکٹر لا بریگیڈیئر عمران عدالت میں پیش ہوئے۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایک نمبر ملزمان کے اہلخانہ کو دیا گیا ہے جس پر وہ رابطہ کرسکتے ہیں، وہ نمبر ہر وقت رابطے کے لیے میسر رہتا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے دریافت کیا کہ آپ کے پاس کوئی تفصیلات ہیں ملزمان کے اہلخانہ سے متعلق؟ ڈائریکٹر لا نے جواب دیا کہ میرے پاس اس وقت تفصیلات نہیں ہیں، جسٹس حسن اظہر علی نے مزید کہا کہ جن کے بچے کی وفات ہوئی ہے انہیں اہلخانہ سے فوری طور پر ملوایا جائے۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا۔

جسٹس امین الدین خان نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ زیر حراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی؟ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ متعلقہ حکام کو بتایا تھا کہ ملاقات کرانے کا حکم عدالت کا ہے، تسلیم کرتا ہوں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے تھا، آج 2 بجے زیرحراست افراد کو اہلخانہ سے ملوایا جائے گا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ جن سے تفتیش مکمل ہوچکی وہ جیلوں میں کیوں نہیں بھیجے گئے؟ تفتیش کے لیے متعلقہ اداروں کے پاس ملزم رہے تو سمجھ آتی ہے، تفتیش مکمل ہوچکی تو ملزمان کو جیلوں میں منتقل کریں۔

اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جیلوں میں منتقلی میں کچھ قانونی مسائل بھی ہیں، جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیے کہ انسانوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

اس موقع پر جسٹس شاہد وحید اور جسٹس محمد علی مظہر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ ہمیں غلط دکھائے بغیر ہم سے نیا اور الگ فیصلہ چاہتے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا کہ اپیل میں اگر کیس آیا ہے، تو پھر سب کچھ کھل گیا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ یہ نکتہ نظر میرے ساتھی کا ہوسکتا ہے میرا نہیں،ہمیں اس اپیل کا اسکوپ دیکھنا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت اپیل کا اسکوپ وسیع ہے، جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ہم اپیل میں اس کیس کو ریمانڈ بھی کرسکتے ہیں ؟ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ آپ کے پاس ریمانڈ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اپیل میں فیصلہ کالعدم برقرار یا ریمانڈ کیا جاسکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کا اسکوپ وسیع ہے تو آگے بڑھیے ، جسٹس عرفان سعادت خان نے بتایا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اپیل ہے، ریویو نہیں۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ وفاق یہاں عدالت کے سامنے ایک قانون کا دفاع کرنے کھڑا ہے، عدالت کو اس بات کو سراہنا چاہیے، جس قانون کو کالعدم کیا گیا وہ ایسا تنگ نظر قانون نہیں تھا جیسا کیا گیا۔

اس پر اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ کی کالعدم شقوں سے متعلق دلائل دیے۔

جسٹس شاہد وحید نے دریافت کیا کہ کیا اپیل کا حق ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے؟ ہر کسی کو اپیل کا حق دیا گیا تو یہ کیس کبھی ختم نہیں ہوگا، کل کو عوام میں سے لوگ اٹھ کر آجائیں گے کہ ہمیں بھی سنیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک قانون سارے عوام سے متعلق ہوتا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ متاثرہ فریق ہونا ضروری ہے اپیل دائر کرنے کے لیے۔

بعد ازاںسویلینز کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔

پاکستان

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

ہمارا احتجاج ملک میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال،ناجائز طورپر جیلوں میں قید ہمارے رہنما اور مہنگائی کے خلاف ہے، اسد قیصر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ویڈیو پیغام میں پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان آئندہ جمعہ کو ملک گیراحتجاج کرے گی، ہمارے احتجاج کے تین اراض و مقاصد ہیں۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہمارا احتجاج ملک میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال اور حکومت کی ناکامی، دوسرا ناجائز طور پر عمران خان ، بشری بی بی اور ہمارے دیگر اسیران جیلوں میں ہیں اور ہمارے سوشل ورکر اور خاص طور پر سوشل میڈیا سے متعلقہ لوگوں کو ناجائز طور پر اٹھانے اور غائب کرنے کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا ہمارا احتجاج مہنگائی کے خلاف ہے جو انہوں نے بجٹ کے ذریعے غریب عوام پر قیامت برپا کی ہے۔ بجلی کی بلوں میں اضافہ کیا گیا ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے،بہت زیادہ ٹیکسز لگاے گئے ہیں جو ناقابل برداشت ہیں ۔تمام طبقے خواہ وہ کسان ہو ، طلباء ہو ، تاجر ہو یا مزدور ہم سب نے اس ملک کو بچانا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور یہ ایک سیاسی جماعت کے خلاف کریک ڈاون کر رہے ہیں ایم این ایز کو خریدنے کیلئے بڑی بڑی آفرز کر رہے ہیں ، لوگوں کو دبایا جا رہا ہے کہ اپنی وفاداری تبدیل کریں۔

اسد قیصر نے مزید کہا کہ انکو کوئی شرم و حیا نہیں ہے انہوں نے ہر صورت اقتدار سے چمٹنا ہے۔آپ لوگوں نے نکلنا ہے جمعہ کو تاریحی احتجاج کریں گے۔تمام سیاسی جماعتوں بلخصوص جی ڈی اے کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دیں گے۔

واضح رہے کہ 26 جولائی جمعہ کے روز ہی جماعت اسلامی پاکستان نے بھی مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج و دھرنے کی کال دے رکھی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

فارغ بیٹھے گورنر توجہ حاصل کرنے کے لیے ہمارے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں ، بیرسٹر سیف

صوبے میں لاقانونیت اس وقت عروج پر تھی جب وفاق اور یہاں آپ کی پارٹی کی حکومت تھی، مشیر اطلاعات

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فارغ بیٹھے گورنر  توجہ حاصل کرنے کے لیے ہمارے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں ، بیرسٹر سیف

مشیر اطلاعات  خیبر پختونخواہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ فارغ بیٹھا گورنر میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں۔  

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں بیرسٹر سیف کا گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبے میں لاقانونیت اس وقت عروج پر تھی جب وفاق اور یہاں آپ کی پارٹی کی حکومت تھی، آپ کے دور حکومت میں پشاور ٹو ڈی آئی خان سفر کرنا ممکن نہیں تھا۔

میشر اطلاعات نے مزید کہا کہ فارغ گورنر وہ دن بھول گئے جب وہ خود ڈی آئی خان سے پشاور کا سفربراستہ اسلام آباد کرتے تھے، فارغ گورنر عہدہ سنبھالنے کے بعد خیبر پختونخوا میں انوکھے بن بلائے مہمان بن چکے ہیں، گورنر بغیر دعوت تقریبات میں شرکت کرنے سے پہلے اپنا نا صحیح عہدے کا لحاظ تو رکھیں۔ 

انہوں نے مزید کہا گورنر 12 سال تک مسلسل مسترد اور بے روزگار بیٹھنے کے بعد اب مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں والا جن بن چکے ہیں، فارغ بیٹھے گورنر کے پاس کرنے کو کام نہیں اس لیے الٹے سیدھے بیانات سے کام ڈھونڈ رہے ہیں، گورنر 3بار علی امین گنڈاپور سمیت تینوں بھائیوں سے شکست خوردہ شخص ہے۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جعلی سرکار نے فیصل کریم کنڈی کو صرف اور صرف خیبر پختونخوا میں ترقی کی راہ میں رخنہ ڈالنے کے لئے گورنر کا عہدہ دیا ہے، علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، وزیر اعلی علی امین گنڈاپور انکے فضول باتوں پر کان نہیں دھرتے ہیں۔    

واضح رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کو پی ٹی آئی حکومت کی 10 سالہ کارکردگی پر مناظرے کا چیلنج دیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

خلیل الرحمن قمر ہنی ٹریپ کا شکار، مقدمہ درج، خاتون سمیت 4 ملزمان گرفتار

ڈرامہ نگاراورمعروف رائٹرخلیل الرحمان قمرکوآمنہ عروج نامی خاتون نے ڈرامہ بنانے کا جھانسہ دیکراپنے گھربلایا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

خلیل الرحمن قمر ہنی ٹریپ کا شکار، مقدمہ درج، خاتون سمیت 4 ملزمان گرفتار

معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر کو اغوا کے بعد تاوان وصول کرکے چھوڑ دیا گیا ہے۔ جبکہ ڈرامہ نگار نے اپنے ساتھ پیش آئے واقعے پر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کی مدد سے خاتون سمیت 4 ملزمان کو دھرلیا ہے۔

معروف رائٹر خلیل الرحمان قمر بھی ہنی ٹریپ ہوگئے، آمنہ عروج نامی خاتون نےخلیل الرحمان کوگھربلا کرساتھیوں کےہمراہ تشدد کا نشانہ بنایا اورلوٹ لیا، آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے خاتون سمیت چارملزم گرفتارکر کےواقعہ کی تفتیش شروع کردی۔

ڈرامہ نگاراورمعروف رائٹرخلیل الرحمان قمرکوآمنہ عروج نامی خاتون نے ڈرامہ بنانے کا جھانسہ دیکراپنے گھربلایا۔خلیل الرحمان کمرے میں بیٹھے ہی تھے کہ 7 سے 8 مسلح افراد داخل ہوئے۔ خلیل الرحمان کی آنکھوں پرپٹی باندھی اورتشدد کا نشانہ بنایا۔

ملزمان نے خلیل الرحمان کوگاڑی میں بٹھایا اورایک کروڑ روپےکا مطالبہ کیا۔ گن پوائنٹ پران سے اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے 2 لاکھ 60 ہزاربھی نکلوالیے۔ نقدی، پرس، موبائل اور قیمتی گھڑی بھی چھین لی۔

ایف آئی آرکےمطابق خلیل الرحمان کوکہا گیا تمھیں مارنےکا حکم ہے۔ کلمہ پڑھ لو اورایک فائرپاؤں کےقریب مارا گیا۔آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے ہنی ٹریپ کرنےوالی خاتون سمیت چار ملزمان کو پکڑ لیا جبکہ استعمال کی گئی گاڑی بھی برآمد کرلی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ سے متعلق مزید چھان بین کی جارہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll