حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے سے متعلق ابھی ارادہ ظاہر کیا ہے، فیصلہ کابینہ میں ہو گا، رانا ثناء اللہ
حکومت آرٹیکل 17 کے تحت کسی بھی پارٹی پر پابندی کے لیے ڈکلیئریشن دے سکتی ، رہنما مسلم لیگ ن


وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت آرٹیکل 17 کے تحت کسی بھی پارٹی پر پابندی کے لیے ڈکلیئریشن دے سکتی ہے، حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے سے متعلق ابھی صرف اپنے ارادے کو ظاہر کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت آرٹیکل 17 کے تحت کسی بھی پارٹی پر پابندی کے لیے ڈکلیئریشن دے سکتی ہے۔ کابینہ منظوری دے گی تو ڈکلیئریشن سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ڈکلیئریشن کو 15 دن میں سپریم کورٹ میں پیش کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ بھی ڈکلیئریشن سے متفق ہو جائے تو اس پارٹی پر پابندی عائد ہو جاتی ہے۔ آئین میں دیے گئے طریقے کار کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک کیس دائر کرے گی۔ عمران خان اور سابق صدر عارف علوی کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

ملتان میں یتیم بچےکو کار سے کچلنے والا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
- ایک دن قبل

آیوڈین کی کمی کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے
- ایک دن قبل

پاکستان اوریورپی یونین کا دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
- 4 گھنٹے قبل
اوپن اے آئی نے اے آئی ماڈلز کی جانب سے اپنی مانیٹرنگ خود ڈس ایبل کرنیکا انکشاف کیا ہے
- ایک دن قبل

معروف اداکاروپروڈیوسر صمد عارض پاکستان پہنچ گئے، شان شاہد اور امر خان سے ملاقات
- 2 دن قبل

پاکستان میں مہنگائی: آئی ایم ایف کے بعد ورلڈ بینک نے بھی مہنگائی بڑھنے سے خبردار کردیا
- 4 گھنٹے قبل

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
- 2 دن قبل

پاکستان کسٹمز نے سکھر بیراج پر اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی
- 2 دن قبل

سہ ملکی ون ڈے سیریز: پاکستان نے انگلینڈکو 87 رنز سے شکست دیدی
- 2 دن قبل

پاکستان، ترکیے،قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیے
- ایک دن قبل

بالی وڈ سپر اسٹار امیتابھ بچن نے سوشل میڈیا سے دور ہونے کی وجہ بتادی
- 5 گھنٹے قبل

پاکستان اورمالدیپ کا دوطرفہ تجارت کا حجم ایک کروڑ تیس لاکھ ڈالر سے بڑھا کر بیس کروڑ ڈالرتک لے جانے پراتفاق
- ایک دن قبل






.jpeg&w=3840&q=75)