ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ
آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، گوہر اعجاز


سابق نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں ںے کہا ہے کہ چیمبرز آف کامرس نے آئی پی پیز کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ ہے، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) پاکستان کی کاروباری برادری کی اعلیٰ نمائندہ ہے، ایف پی سی سی آئی معزز سپریم کورٹ میں باضاطہ طور پر پٹیشن دائر کرے گی کہ وہ اس ناقابل برداشت صورتحال میں مداخلت کرے جو ہر پاکستانی کے حق زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور کاروباروں کو دیوالیہ کر رہی ہے۔ بجلی پاکستان کی صنعتوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ براہ راست 240 ملین لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔
— Dr Gohar Ejaz (@Gohar_Ejaz1) July 23, 2024
ہمارے تھنک ٹینک نے آئی…
گوہر اعجاز نے کہا کہ آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے, بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور کاروباروں کو دیوالیہ کر رہی ہے.
ان کا کہنا تھا کہ 2020ء میں سابقہ عبوری توانائی کے وزیر محمد علی نے ایک تفصیلی رپورٹ لکھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومتی نااہلی اور آئی پی پی کی غلط بیانیوں کی وجہ سے سینکڑوں اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، وہ رپورٹ آج تک مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئی، کیوں؟ حکومت نے اس رپورٹ میں مطالبہ کردہ فرانزک آڈٹ کا حکم کیوں نہیں دیا؟،
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ 240 ملین پاکستانیوں کی بقا زیادہ اہم ہے یا 40 خاندانوں کے لیے یقینی منافع، ہمارا ملک تمام وسائل سے مالا مال ہے ہمیں خوشحالی کے لیے صرف بدانتظامی کا خاتمہ چاہیے، بجلی پاکستان کی صنعتوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ براہ راست 240 ملین لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔
سابق وزیر تجارت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چند برس میں ایک ہی غلطیاں دوبارہ نہیں برداشت کر سکتا صرف اس لیے کہ نئے ’’سرمایہ کاروں‘‘ کا ایک گروپ کچھ نہ کرنے کے عوض پیسہ کمانا چاہتا ہے۔
شہریوں کیلئے خوشخبری: حکومت کا گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان
- 10 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
لیجنڈری آف سپنر سعید اجمل کی والدہ انتقال کر گئیں
- 12 گھنٹے قبل

مہنگا سونا آج پھر ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 9 گھنٹے قبل

ماڈل و اداکارہ ثنا خان کی لاہور میں سالگرہ پارٹی،شوبز شخصیات کی بھرپور شرکت
- 12 گھنٹے قبل

سابق ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد گھر میں گرنے کے باعث فریکچر کا شکار، اسپتال منتقل
- 11 گھنٹے قبل

ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے مختلف ادویات کی فروخت روک دی
- 9 گھنٹے قبل

آپریشن سیندور میں بھارت کا منہ کالا کیا تو وہ خطے میں دہشت گردی کو ہوا دینے لگ گیا، آئی ایس پی آر
- 11 گھنٹے قبل

گلگت بلتستان کی نگران کابینہ نے حلف اٹھالیا
- 8 گھنٹے قبل

پاکستان نے وینزویلا میں امریکی کارروائیوں کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیا
- 12 گھنٹے قبل

کسی کی سیاست پاکستان سےبڑھ کرنہیں،ماضی میں ایک لیڈراپنی جماعت کو آمرکی طرح چلاتا رہا،ترجمان پاک فوج
- 12 گھنٹے قبل

خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر اعظم
- 6 گھنٹے قبل

زرعی شعبے کی اصلاحات ، کسانوں کو عالمی سطح پر رائج اطوار سے متعارف کرانا اولین ترجیح ہے،وزیر اعظم
- 12 گھنٹے قبل










