نظر بندیوں کے احکامات قانون اور آئین کے منافی ہیں، درخواست


جلسے سے پہلے پی ٹی آئی رہنماؤں کی نظر بندی کے احکامات جاری کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنما زینب عمیر نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی، درخواست میں پنجاب حکومت اور ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی آج لاہور میں جلسہ کرنے جا رہی ہے، انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو جلسے کا این او سی جاری کررکھا ہے، این او سی کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے ہیں، نظر بندیوں کے احکامات قانون اور آئین کے منافی ہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کیا ہے، ڈپٹی کمشنر کے احکامات عوام میں خوف پھیلانے کے مترادف ہیں، عدالت فوری طور پر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے نظر بندی کے احکامات کالعدم قرار دے، اور نظر بند تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا جائے

لاہورکے نیشنل ہسپتال میں ریزوم تھراپی کا کامیاب آپریشن
- 4 hours ago

معاشی بچت، جنگ بندی کی کوششیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- 3 hours ago

اگردشمن کوئی زمینی آپریشن کی کوشش کرے تو دشمن کے کسی بھی فوجی کو زندہ نہیں بچنا چاہیے،ایرانی آرمی چیف
- 2 hours ago

مہنگا سونا اچانک ہزاروں روپے سستا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 4 hours ago

برطانیہ کسی بھی صورت ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،کئیر اسٹارمر
- 3 hours ago

لبنان: حزب اللہ کے سینئر کمانڈر یوسف ہاشم اسرائیلی فورسز کے حملے میں شہید
- 5 hours ago

شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز نے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی،8خارجی جہنم واصل
- 5 hours ago

امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے،جارحیت کا مقابلہ کرنے ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں،ایران
- 5 hours ago

ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، ایرانی قوم اور افواج ملک پر حملہ کرنے والوں کے پاؤں کاٹ دیں گے،ترجمان
- 4 hours ago

ایران امریکا جنگ: پاکستان کی سفارتکاری کیخلاف بھارت پروپیگنڈا کر رہاہے، دفتر خارجہ
- 5 hours ago

خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات کے طلباء کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام جاری
- 3 hours ago
وزیراعظم کی معاشی ، مالی اثرات سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت
- 21 hours ago









