Advertisement
پاکستان

بلوچستان سے گرفتار خودکش بمبار خاتون عدیلہ بلوچ کی دہشت گردوں بارے اہم انکشافات

دہشت گرد بلیک میلنگ سے خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، عدیلہ بلوچ

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Sep 25th 2024, 5:08 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بلوچستان سے گرفتار خودکش بمبار خاتون عدیلہ بلوچ کی  دہشت گردوں بارے اہم انکشافات

بلوچستان سے گرفتار خودکش بمبار خاتون عدیلہ بلوچ نے دہشت گردوں کی حقیقت بتاتے ہوئے عوام سے دہشت گردوں کی باتوں میں نہ آنے کی اپیل کردی۔

تربت سے گرفتار خودکش بمبار خاتون عدیلہ بلوچ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے لوگوں نے بہکایا، پہاڑوں میں جا کر غلطی کا احساس ہوا اور بڑے گناہ سے بچ گئی، دہشت گرد بلیک میلنگ سے خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ میں لوگوں کی جان بچانے کے شعبے سے منسلک تھی، میں نے اپنی ابتدائی تعلیم تربت سے حاصل کی، میں نے نرسنگ کا کورس کوئٹہ سے کیا ہے، مجھے کچھ لوگوں نے ورغلایا کہ میں خودکش حملے کروں۔

عدیلہ بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان میں دہشت گرد خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہ لوگ بلیک میلنگ کرکےلےجاتے ہیں، بلوچستان حکومت کی وجہ سے میں یہ گناہ کرنے سے بچ گئی، میں دہشت گردوں کے ناپاک ارادوں سے بچ گئی۔ عوام کو کہوں گی کہ ان دہشت گردوں کی باتوں میں مت آو، بازیابی پر میں حکومت بلوچستان کی شکر گزار ہوں۔

عدیلہ بلوچ نے کہا کہ بدقسمتی سے ایسے لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہی جنہوں نے مجھے بہکایا، بہکاوے میں آکرخودکش حملے کرنے کیلئے خود ہی راضی ہوگئی، غلطی کا احساس تب ہوا جب پہاڑوں پر گئی، مجھے بتایا گیا پہاڑوں پر جاکر آپ کو نئی زندگی مل جائے گی، یہ لوگ غلط باتوں کے بہکاوے میں آکر نوجوانوں کو بھی وہاں لے گئے، مجھے ایسے بہکایا گیا کہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا، آج میں بچ گئی ہوں۔

اس موقع پر عدیلہ بلوچ کی والدہ نے کہا کہ دہشت گرد ہماری مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں، خواتین کو دہشت گرد اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، اللہ جانتا ہے کہ ہم نے کن مشکل حالات میں وقت گزارا ہے، بیٹی کے لاپتہ ہونے کے بعد ایک ایک دن کرب اور مصیبت میں گزارا۔

عدیلہ بلوچ کے والد نے کہا کہ میں بینک ملازم ہوں، کراچی میں نوکری کرتا ہوں، اپنی تنخواہ سے گھر کا خرچ اور بچوں کو تعلیم دلا رہا ہوں، پہاڑوں پر بیٹھےلوگوں سے کہتا ہوں آپ کیسے بلوچ ہیں، ایک بلوچ کی بیٹی کو ورغلا کر لے گئے۔ میری بیٹی لاپتہ ہوئی میں ہی جانتا ہوں کہ مجھ پر اور اہلخانہ پر کیا گزری، جو پہاڑوں میں جاتے ہیں ان کا واپس آنا مشکل ہوتا ہے، پہاڑوں پر لے جانے والے آزادی کے نام پر نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بلوچستان حکومت سے رابطہ کیا کہ میری بیٹی لاپتہ ہے، بلوچستان حکومت سے درخواست کی کہ میری بیٹی کو بازیاب کرائیں، حکومت پاکستان اور بلوچستان کی وجہ سے میری بیٹی بازیاب ہوئی، ہم یہاں پر اپنی مرضی سے آئے ہیں، سوشل میڈیا پر جو دیکھتے ہیں وہ پروپیگنڈا ہے۔

 

Advertisement