مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر نئے الیکشن کا مطالبہ کردیا
مولانا فضل الرحمان کا ایک بار پھر نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جمعیت علما اسلام کو ہلکا مت لیا کرو


سربراہ جے یوآئی(ف) مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر نئے الیکشن کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پشاور میں سربراہ جےیوآئی(ف)مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی آگ پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لےسکتی ہے،اسرائیل عرب دنیا اور خلیجی ممالک تک جنگ کو وسعت دینا چاہتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا ایک بار پھر نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جمعیت علما اسلام کو ہلکا مت لیا کرو، آئینی ترامیم کے حوالے سے ہم نے اپنا موقف واضح کردیا ہے، حکمران سیاسی مقاصد کیلئے آئینی ترامیم کی طرف جارہےہیں۔
انہوں نے اسلامی ممالک میں جاری اسرائیلی جارحیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب ، مصر، انڈونیشیا اور دیگر اسلامی ریاستوں کو اکٹھا کرے، یہ آگ عرب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، اب صرف بات فلسطین نہیں رہ گئی۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ پارلیمان کے پاس اتنی بڑی ترامیم کا حق نہیں ، ہم اس پارلیمنٹ کو عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں سمجھتے، جعلی پارلیمنٹ سے آئینی ترامیم کرنا زیادتی ہے ، حکومت مسودے تیار کرکے ایک دوسرے سے شیئر کرے ۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور جے یو آئی اپنے اپنے مسودے بنا رہی ہیں، ہمیں شخصیات کے درمیان نہیں پھنسنا چاہیے، آئینی ترامیم کے ذریعے مارشل لا لگا رہے تھے ہم نے سپورٹ نہیں کیا ، یہ جتنی بھی دھاندلی کرلیں مینڈیٹ چرا لیں ہم میدان نہیں چھوڑیں گے۔
آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئینی عدالت کے حق میں ہیں، یہ حکمران جماعتوں کے درمیان میثاق جمہوریت میں طے ہوا تھا۔
سربراہ جے یو آئی (ف) کا قبائلی علاقوں میں نامساعد حالات کے بارے میں کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت آگ لگی ہوئی ہے، قبائلی علاقے کے عوام انضمام کے بعد زیادہ پریشان ہیں، میں نے جنرل باجوہ اور نوید مختار سے کہا تھا کہ یہ انصمام کیلئے مناسب وقت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جنگ لگی ہوئی ہے ، لوگ ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں، فیصلے لینے سے قبل ہمیں سوچنا چاہیے، موجودہ حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں، ہم خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حق میں نہیں ہیں ۔
پاکستان تحریک انصاف کے جلسے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت نہ دینا اور جلسے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا غیر جمہوری عمل ہے، جلسہ کرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہوتا ہے ۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی گفتگو بچگانہ ہیں، صوبوں کے اندر انقلاب لانے کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کےبیان پر ردعمل دینا بھی ہماری توہین ہے، ہمارا ایسی مخلوق سے واسطہ پڑا ہے، ہم صوبوں کوآپس میں لڑانے والی بات کی حمایت نہیں کرسکتے۔
سربراہ جے یوآئی (ف) کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں زیادہ جلسے کیے ، ہمارالاہور میں مینار پاکستان میں تاریخی اجتماع ہوا ، اسی طرح پشاور میں بھی بڑے بڑے مظاہرے کیے۔

جمائما گولڈ اسمتھ نے معروف کاروباری شخصیت سے دوسری شادی کرلی
- ایک دن قبل

لبنانی وزیر داخلہ کی علاقائی امن کیلئے پاکستان کی خدمات کی تعریف
- ایک دن قبل
پی ٹی آئی کے 24 ارکین اسمبلی بشمول سہیل آفریدی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم
- ایک دن قبل

پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی حاصل کرنے کا طریقہ جانیے
- ایک دن قبل

پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی مذمت
- 3 دن قبل

27 ستمبر کی کال سے قبل پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریاں جاری, پی ٹی آئی رہنماوں کی شدید مذمت
- 2 دن قبل

بیرونِ ملک سفر کے لیے نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازمی، تاریخ کا اعلان
- 3 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں پھر گراوٹ
- 9 گھنٹے قبل

ریڈ لائن کی شوٹنگ کا آغاز، ستارے سیٹ پر پہنچ گئے
- 4 گھنٹے قبل

ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب آج ہوگی، دلہا کون ہے؟
- 3 دن قبل

'مجھے دھمکیاں دی گئی ہیں'، میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کا انکشاف
- ایک دن قبل

پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں: وفاقی حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا 'فیصلہ'
- 5 گھنٹے قبل
