حکومت پی ٹی آئی کو احتجاج کیلئے کوئی مناسب جگہ فراہم کرے ، اسلام آباد ہائیکورٹ
عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 16 اور 17 عوام کو اجتماع اور نقل و حرکت کے بنیادی حقوق فراہم کرتے ہیں


اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کیلئے جگہ مختص کرنے اور انہیں سہولت فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
جیونیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر راجہ حسن اختر کی درخواست پر سماعت کی۔ سیکرٹری داخلہ خرم آغا اور چیف کمشنر اسلام آباد مختصر عدالتی نوٹس پر پیش ہوئے۔
عدالت نے پوچھاکہ سیکرٹری صاحب آپ نے پورا شہر کیوں بند کیا ہوا ہے؟ موبائل سروس بند ہے کوئی ایمرجنسی میں کسی سے رابطہ نہیں کر سکتا، آپ مناسب اقدامات کریں اور اسلام آباد کو کلیئر کریں۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیےکہ اس وقت شہر ایسا لگ رہا ہے حالت جنگ میں ہے، وفود پاکستان آ رہے ہیں کوئی نامناسب واقعہ ہوتا ہے تو وزارتِ داخلہ ذمہ دار ہوگی، آپ نے فوج بھی طلب کی ہوئی ہے؟ آرمڈ فورسز سول حکام کی معاونت کرتی ہیں؟ دفعہ 144 نافذ ہے تو یقینی بنائیں کہ اس پر مکمل عملدرآمد ہو، سرکار کا کام ہے کہ شہریوں کے برابر کے حقوق کو یقینی بنایا جائے، کسی کویہ حق نہیں وہ سڑک کے درمیان اکٹھے ہو جائیں اور راستہ بند کر دیں۔
سیکرٹری داخلہ نے بتایا ملائیشیا کے وزیراعظم گزشتہ روز اسلام آباد میں تھے، تین چار دن میں اہم سعودی وفد بھی پاکستان پہنچ رہا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہونا پاکستان کیلئے باعث فخر ہے، وزیرِداخلہ نے بڑی نرمی سے درخواست کی لیکن وزیراعلیٰ کے پی بضد ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ وزیراعلیٰ کے پی بھاری حکومتی مشینری کے ساتھ آ رہے ہیں، بہت سی سرکاری مشینری کو نقصان پہنچایا گیا، جلا دیا گیا ہے۔
عدالت نے حکم دیاکہ مظاہرین کو مناسب جگہ دیں جہاں احتجاج کریں یا جو مرضی کرنا ہو کر لیں، احتجاج بنیادی حق ہے جو احتجاج کر رہے ہیں وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں آپ نے ان کی جانوں کا بھی تحفظ کرنا ہے، اگر ان کے اقدامات سے کسی اور کی جان کو خطرہ ہوتا ہے تو وہ غیرقانونی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے احتجاج کرنے والوں کو بھی اُن کے اپنے آپ سے محفوظ کرنا ہے، وزیرداخلہ کو بتا دیں کہ آپ نے یہ بیلنس رکھ کر چلنا ہے، شہر میں کرفیو کی صورتحال ہے، آپ نے حالات معمول پر لانے کیلئے اقدامات کرنے ہیں، یقینی بنانا ہے کہ اسلام آباد ایک پرامن شہر ہو جو غیرملکی وفود آ رہے ہیں ہم اُن کو کیا دکھانے جا رہے ہیں؟ پاکستان کا کیا امیج جائے گا اگر ہم کنٹینرز سے بھرا اسلام آباد انہیں دکھائیں گے، اس عدالت کی ڈائریکشن کی ضرورت بھی نہیں یہ آپ کا کام ہے۔
عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 16 اور 17 عوام کو اجتماع اور نقل و حرکت کے بنیادی حقوق فراہم کرتے ہیں تاہم یہ بنیادی حقوق قانون کے مطابق لگائی گئی مناسب قدغن پر منحصر ہیں، اسلام آباد انتظامیہ اور حکومت احتجاج کیلئے مناسب جگہ مختص کرے اور مظاہرین مختص کردہ جگہ پر جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- ایک گھنٹہ قبل
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- 5 گھنٹے قبل

سینئرجج جبری ریٹائر
- ایک گھنٹہ قبل
کپتان کا لاپتا پالتو کتا آخرمل ہی گیا
- ایک دن قبل

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- ایک دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 5 گھنٹے قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 5 گھنٹے قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 5 گھنٹے قبل

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- ایک دن قبل
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 5 گھنٹے قبل

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- ایک دن قبل
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- ایک دن قبل

