جی این این سوشل

پاکستان

پاکستان پر جو بھی دباؤ آئے چین سے تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے : وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے پاکستان پر جو بھی دباؤ آئے چین سے تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان پر  جو بھی دباؤ آئے  چین سے تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے : وزیر اعظم عمران خان
پاکستان پر جو بھی دباؤ آئے چین سے تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے : وزیر اعظم عمران خان

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے چین کی خصوصی اہمیت ہے اور چین نے ہمیشہ برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیاہے۔ لوگ برے وقت میں ساتھ دینے والوں کو یاد رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاک چین تعلقات صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ہموار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین میں مخاصمت بڑھ رہی ہے جبکہ امریکہ اور یورپی ملک چاہتے ہیں کہ ہم کسی ایک گروپ کا ساتھ دیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں کسی کے گروپ میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم سب کے ساتھ تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ جو بھی دباؤ آئے پاکستان اور چین کے تعلقات تبدیل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم چین کے ساتھ تجارت بڑھانا چاہتے ہیں ، پاکستان سب کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے ، ہم جانبدار کیوں بنیں اور سی پیک پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے اہم ہے۔

 

کھیل

بھارت کی منفی اسپورٹس ڈپلومیسی،کرکٹ میں سیاسی مداخلت

بھارت کا مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بھارت کی منفی اسپورٹس ڈپلومیسی،کرکٹ میں سیاسی مداخلت

پاکستان میں ایشیا کپ کھیلنے سے انکار بھارت کی طرف سے کھیل کو مستقل طور پر سیاسی رنگ دینے کا عکاس ہے، جو علاقائی ٹورنامنٹس میں منصفانہ کھیل اور اتحاد کے جذبے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایونٹس کا بائیکاٹ کرکے بھارت کرکٹ ڈپلومیسی کی اصل روح کو متاثر کرتا ہے، جو اکثر اقوام کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کا ذریعہ رہا ہے ،  بھارت کا پاکستان میں ایشیا کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کی پالیسی کو نظر انداز کرتا ہے۔


یہ اقدام پاکستان کے اس جائز حق کو متاثر کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کرے، حالانکہ پاکستان نے سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر کو یقینی بنانے میں کامیاب کوششیں کی ہیں،  یہ اقدام پاکستان کے اس جائز حق کو متاثر کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کرے، حالانکہ پاکستان نے سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر کو یقینی بنانے میں کامیاب کوششیں کی ہیں۔


بھارت کا مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور ایشیائی کرکٹ برادری کے ایک اہم رکن کو الگ تھلگ کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر رہا ہے، اس طرح کے بائیکاٹ سے خطے میں کرکٹ کی ترقی اور فروغ متاثر ہوتا ہے اور شائقین دلچسپ حریفانہ مقابلوں اور تاریخی میچوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔


بائیکاٹ سے میزبان ملک کو مالی نقصان ہوتا ہے، جس میں اسپانسر شپ، براڈکاسٹنگ رائٹس اور ایسے اہم ٹورنامنٹس سے جڑی سیاحت کی آمدنی متاثر ہوتی ہے، پاکستان میں کھیلنے سے بھارت کا انکار کھیل کے جذبے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے اور علاقائی ہم آہنگی کی بجائے سیاسی ایجنڈے کو ترجیح دیتا ہے۔


 یہ اقدام پاکستان کی مثبت کھیلوں کی تاریخ کے برعکس ہے، جس نے دو طرفہ کشیدگی کے باوجود بھارت میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں شرکت کی ہے،  پاکستان میں ایشیا کپ کے بائیکاٹ سے دیگر ممالک کو کھیل کو سیاست زدہ کرنے کی خطرناک مثال ملتی ہے، جس سے کرکٹ کی دنیا کے اتحاد کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔


 پاکستان میں ہونے والے ایونٹس میں شرکت نہ کرکے بھارت اپنے کھلاڑیوں کو مختلف کھیل کے حالات میں کھیلنے کے تجربے سے محروم کر رہا ہے، جو ان کی ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے،  یہ فیصلہ بھارت کی دوغلی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جو بظاہر کرکٹ کے عالمی فروغ کی بات کرتا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں اس کی رسائی کو محدود کرتا ہے۔


 ایسے بائیکاٹس دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین کو ایک دوسرے سے دور کر دیتے ہیں، جو دونوں قوموں کے درمیان بڑے میچوں کا بے تابی سے انتظار کرتے ہیں ،  پاکستان میں ایشیا کپ کے بائیکاٹ سے اس خطے میں کھیل کو امن کے فروغ کے ایک ذریعہ بنانے کی برسوں کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔


واضح رہے کہ  یہ حکمت عملی بھارت کی عدم تحفظ کا اظہار کرتی ہے، جو پی ایس ایل اور ورلڈ کپ کوالیفائرز جیسے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی میں پاکستان کی کامیابی کو ماند کرنے کے لیے کرکٹ کو استعمال کر رہا ہے

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

بھارتی پولیس منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت میں ملوث

 2017 سے 2021 کے دوران متعدد کیسز میں بھارتی فوجی افسران کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بھارتی پولیس منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت میں ملوث


 حالیہ واقعے میں جموں میں منشیات کے گروہ میں ملوث بھارتی پولیس کانسٹیبل کو ہیروئن فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔  
 منشیات کا یہ گروہ جموں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال سے آپریٹ کر رہا تھا۔  
 منشیات کے انسداد کے ادارے کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتار پولیس اہلکار ایک ایسے گروہ کا حصہ تھے جو نوجوانوں کو نشے کا عادی بنا کر فائدہ اٹھا رہا ہے، جس سے علاقے میں زیادہ مقدار لینے کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔  


 یہ بھی پتا چلا ہے کہ یہ منشیات کا گروہ بھارت کے اندر سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ ایس پی سٹی نارتھ برجیش شرما اس کیس کی تفتیش کر رہے ہیں۔  


 تحقیقات جاری ہیں تاکہ منشیات کے کاروبار سے حاصل شدہ جائیدادوں کی نشاندہی کی جا سکے اور ان اثاثوں کو ضبط کیا جائے۔  
 ایک اور کیس میں 7 نومبر 2024 کو کانسٹیبل پرویز خان کو دو بیویوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا، جس میں گھر سے ہیروئن اور 2.5 لاکھ روپے سے زائد نقدی برآمد ہوئی۔   دہائیوں سے الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے، مگر بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت اپنے ان اقدامات پر حیران کن طور پر شرم محسوس نہیں کرتی ، تاکہ بھارتی فوج دہشت گردی کے جعلی واقعات گھڑتی ہے تاکہ اپنے اختیار کو برقرار رکھ سکے۔  

 
 2017 سے 2021 کے دوران متعدد کیسز میں بھارتی فوجی افسران کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔  
 بھارتی فوج کے اہلکار مقامی منشیات کے گروہوں کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہیں اور ایل او سی کے پار منشیات کی نقل و حمل میں فوجی وسائل استعمال کرتے ہیں۔  
 دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے اندر منشیات کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کا ذریعہ بھارتی منشیات کی منڈی ہے۔  
 2021-22 میں گجرات اور مندرہ پورٹ پر لاکھوں ڈالر مالیت کی منشیات کی برآمدگی نے بھارتی ریاست کی ہیروئن اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا پردہ فاش کیا۔  


 بغیر کسی تحقیقات یا ٹھوس شواہد کے پاکستان پر الزام لگانا بھارتی سیکیورٹی ایجنسیز کا پرانا طریقہ ہے۔  
 بھارت کو اپنے ملک کے اندرونی مسائل کو حل کرنا چاہیے قبل اس کے کہ وہ ہمسایہ ممالک پر انگلی اٹھائے۔ بھارت 9/11 کے بعد دنیا کی سب سے بڑی منشیات کی منڈی بن چکا ہے۔  
 اندرونی اختلافات اور علاقائی جانب داریوں سے مفلوج بھارتی فوج ایک غیر منظم قوت ہے، جو اپنے مفادات کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھا کر پیسہ بنانے میں مصروف ہے۔  


واضح رہے کہ  2021 میں پہلی بار سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ایک کراس بارڈر منشیات-دہشت گردی نیٹ ورک میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا جب نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے ہندواڑا ضلع کپواڑہ میں تعینات ایک بی ایس ایف افسر کو گرفتار کیا گیا تھا ۔  

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

ہرنائی : جام شہادت نوش کرنے والے میجر اور حوالدار آبائی علاقوں میں سپردخاک

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ شہداء کی نماز جنازہ اور تدفین میں اعلیٰ عسکری وسول حکام سمیت فوجی جوانوں، شہداء کے رشتہ داروں اور اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہرنائی : جام شہادت نوش کرنے والے میجر اور حوالدار  آبائی علاقوں میں سپردخاک

راولپنڈی: ہرنائی میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجر اور حوالدار کو آبائی علاقوں میں سپردخاک کردیا گیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 28 سالہ میجر محمد حسیب شہید کو راولپنڈی میں سپرد خاک کیا گیا جب کہ شہید حوالدار نور احمد کو بھی مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ اپنے آبائی علاقے برکھان میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔

پاک فوک کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 14 نومبر 2024 کو بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف بہاردی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو سپردخاک کردیا گیا ہے۔a

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ شہداء کی نماز جنازہ اور تدفین میں اعلیٰ عسکری وسول حکام سمیت فوجی جوانوں، شہداء کے رشتہ داروں اور اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ شہداء کی عظیم قربانیاں ہمارے جذبے و ایمان کو تقویت دیتی ہیں، مسلح افواج قوم کی غیرمتزلزل حمایت سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll