Advertisement
پاکستان

26 ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے، اس کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ ہی ختم کر سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر

ترمیم اس وقت آئین کا حصہ ہے، ترمیم میں سب کچھ کھلی کتاب کی طرح واضح ہے، ہم اس ترمیم پر آنکھیں اور کان بند نہیں کرسکتے،جسٹس محمد علی

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Feb 9th 2025, 7:27 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
26 ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے، اس کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ ہی ختم کر سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر

اسلام آباد:سپریم کورٹ کے  جسٹس محمد علی مظہرنے کہا ہے کہ 26 ویںآئینی ترمیم آئین کا حصہ ہے اس کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ فیصلہ ہی ختم کر سکتا ہے۔ 
بنچز اختیارات کیس میں جسٹس محمد علی مظہر نے آئینی بنچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے 20 صفحات پر مشتمل نوٹ جاری کر دیا۔
اپنے نوٹ میں جسٹس محمد علی مظہر نے لکھا کہ قوانین کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ صرف آئینی بنچ لے سکتا ہے، کسی ریگولر بنچ کے پاس آئینی تشریح کا اختیار نہیں، آئینی بنچ نے درست طور پر دو رکنی بنچ کے حکمنامے واپس لئے۔
انہوں نے اپنے نوٹ میں مزید کہا کہ، 26ویں ترمیم اس وقت آئین کا حصہ ہے، ترمیم میں سب کچھ کھلی کتاب کی طرح واضح ہے، ہم اس ترمیم پر آنکھیں اور کان بند نہیں کرسکتے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے نوٹ میں یہ بھی لکھا کہ یہ درست ہے کہ ترمیم چیلنج ہو چکی اور فریقین کو نوٹس بھی جاری ہو چکے، تاہم کیس فل کورٹ میں بھیجنے کی درخواست کا میرٹ پر فیصلہ ہو گا، 26 ویں ترمیم کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ختم کر سکتا ہے، جب تک ایسا ہو نہیں جاتا، معاملات اس ترمیم کے تحت ہی چلیں گے۔
جسٹس مظہر علی نے مزید کہا کہ آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی آئینی بنچ ہی کر سکتا ہے، کسی ریگولر بنچ کو اپنے اختیارات سےتجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے نوٹ میں مزید لکھا کہ دو رکنی بنچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکمنامے واپس ہو چکے، بنیادی حکمناموں کے بعد کی ساری کارروائی بے وقعت ہے۔
 واضح رہے کہ آئینی بنچ نے جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی کے حکمنامے واپس لئے تھے۔

Advertisement
مسلح افواج ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،فیلڈمارشل

مسلح افواج ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،فیلڈمارشل

  • ایک گھنٹہ قبل
پاکستان اوردیگرنوممالک کی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت

پاکستان اوردیگرنوممالک کی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت

  • ایک گھنٹہ قبل
سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا،عید 27 مئی کو ہو گی

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا،عید 27 مئی کو ہو گی

  • 2 دن قبل
کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا مزید مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا مزید مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • ایک دن قبل
پاکستان میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا،عید 27 مئی کو ہو گی

پاکستان میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا،عید 27 مئی کو ہو گی

  • 2 دن قبل
سلہٹ ٹیسٹ: دوسرے روز کے اختتام تک بنگلادیش نے دوسری اننگز میں 3 وکٹوں پر 110 رنز بنالیے

سلہٹ ٹیسٹ: دوسرے روز کے اختتام تک بنگلادیش نے دوسری اننگز میں 3 وکٹوں پر 110 رنز بنالیے

  • 2 دن قبل
دوسرا ٹیسٹ: بنگلا دیش دوسری اننگز میں 390 رنز بنا کر آؤٹ، پاکستان کو جیت کیلئے437 رنز کا ہدف

دوسرا ٹیسٹ: بنگلا دیش دوسری اننگز میں 390 رنز بنا کر آؤٹ، پاکستان کو جیت کیلئے437 رنز کا ہدف

  • ایک دن قبل
ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے نئے ادارے کے قیام کا اعلان کر دیا

ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے نئے ادارے کے قیام کا اعلان کر دیا

  • ایک دن قبل
ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی

ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی

  • ایک گھنٹہ قبل
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی منصوبوں پر جائزہ اجلاس

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ترقیاتی بجٹ اور پی ایس ڈی پی منصوبوں پر جائزہ اجلاس

  • ایک دن قبل
امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی کے ذریعےبات چیت کا عمل جاری ہے،اسماعیل بقائی

امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی کے ذریعےبات چیت کا عمل جاری ہے،اسماعیل بقائی

  • ایک دن قبل
ملک میں عیدالاضحیٰ کب ہو گی؟چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری

ملک میں عیدالاضحیٰ کب ہو گی؟چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری

  • 2 دن قبل
Advertisement