سویلینز کا ملٹری ٹرائل:آئینی بینچ کا آئندہ دو سماعتوں پر کیس مکمل کرنیکا عندیہ
یہ کوئی جذباتی ہونے کا نہیں ملکی سیکیورٹی کا معاملہ ہے، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس آئندہ دو سماعتوں پر مکمل کرنے کا عندیہ دے دیا۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس محمد علی مظہر بنچ میں شامل تھے،جبکہ جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال بھی بنچ کا حصہ ہیں۔
دوران سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ایک سازش جو ابھی ہوئی نہیں اس پر قانون کا اطلاق کیسے ہو گا؟ وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا سازش کرنے پر بھی نفاذ ہوتا ہے جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ ضابطہ فوجداری میں بھی قتل اور اقدام قتل کی الگ الگ شقیں ہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ کرمنل جسٹس سسٹم کو آرٹیکل 175 کی شق تین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔
دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ ایک کنفیوژن ہے جس پر ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں، پریس والے بیٹھے ہیں، ناں جانے میری آبزرویشن کو کیا سے کیا بنا دیں، اپیل کا حق بھی نہیں ہے،انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ کیا عام قانون سازی کر کے شہریوں سے بنیادی حقوق لیے جا سکتے ہیں؟
جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا آئینی ترمیم کر کے سویلین کا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہیے تھا؟ بھارت میں ملٹری ٹرائل کے خلاف آزادانہ فورم موجود ہے،جس پرجسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ویسے اپیل کی حد تک تو اٹارنی جنرل نے عدالت میں گزارشات پیش کی تھیں، اٹارنی جنرل کی گزارشات عدالتی کارروائی کے حکم ناموں میں موجود ہیں۔
دوران سماعت جسٹس امین الدین خان نے ہدایت کی کہ وزارت دفاع کے وکیل کے دلائل مکمل کرنے کے بعد اٹارنی جنرل خود پیش ہوں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی حقوق ملنے یا نہ ملنے کا معاملہ یا اپیل کا معاملہ ہمارے سامنے ہے ہی نہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ جب آرٹیکل 8 کی شق تین اے کے تحت معاملہ عدالت آ ہی نہیں سکتا تو پھر بات ختم، پھر کیسی اپیل؟
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میں کسی کو اپیل کا حق نہیں دے رہا، بین الاقوامی طور اپیل کا حق دینے کی دلیل دی گئی۔
دوران سماعت سانحہ جعفر ایکسپریس کا تذکرہ بھی ہوا، جس پر وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ 9 مئی کے جرائم ریاستی مفاد کے خلاف تھے۔
جسٹس جمال نے ریمارکس دیے کہ کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی ریاستی مفاد کی خلاف ہوتی ہے، تمام جرائم ریاستی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں،انہوںنے مزید کہا کہ کیا بولان میں ہونے والا ٹرین کا واقعہ ریاستی مفاد کے خلاف نہیں تھا؟ آرمڈ فورسز کا بنیادی کام دفاع پاکستان کا ہے ، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ پھر ہم دفاع کیسے کریں گے جب پیچھے سے ہماری ٹانگیں کھینچی جائیں؟
جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ یہ کوئی جذباتی ہونے کا نہیں ملکی سکیورٹی کا معاملہ ہے، ایک پولیس والے کی ڈیوٹی ہماری عدالت کے دروازے کے باہر ہو، اس پولیس والے کی ڈیوٹی ہو گی کہ کوئی اسلحہ سے لیس شخص عدالت داخل نہ ہو، مگر وہ پولیس والا پانچ منٹ کے لیے ادھر ادھر ہو جائے تو اس نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی، کیا یہ سکیورٹی آف سٹیٹ نہیں ہے؟
دلائل کے بعد عدالت نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- 3 دن قبل
ہیلی کاپٹرحادثے کا شکار، ہلاکتیں
- 11 گھنٹے قبل

نصرت فتح علی خان کی آخری آرام گاہ پر ایسا کیا ہوا؟ نئی ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی
- 10 گھنٹے قبل
سپریم کورٹ نےعمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا
- 13 گھنٹے قبل

ایک ہی دن دو نابالغ لڑکیاں لاپتا، علاقے میں خوف کی فضا
- 7 گھنٹے قبل

ہم اپنے سپر اسٹار کو عزت نہیں دیتے، اظہر محمود کا بابر اعظم پر بڑا بیان
- 8 گھنٹے قبل

عوام پر بجلی بم گرانے کی تیاری،کتنی مہنگی ہونے کا امکان؟
- 10 گھنٹے قبل

گال ٹیسٹ میں بڑا حادثہ، سری لنکن اسٹار خطرناک انجری کے بعد اسپتال منتقل
- 8 گھنٹے قبل

اداکارہ میرا مشکل میں؟ سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
- 10 گھنٹے قبل
نوجوانوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری سے جوڑنے کا عملی قدم
- 2 دن قبل

بیوی کو لینے سسرال پہنچا، چند لمحوں بعد 5 لاشیں ملیں
- 8 گھنٹے قبل

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- 3 دن قبل


