سویلینز ملٹری ٹرائل کیس:کیا 9 مئی پر ادارے نے کسی کا احتساب کیا؟ جسٹس حسن اظہر رضوی
فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت 28 اپریل تک ملتوی کر دی گئی، اگلی سماعت پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان دلائل دیں گے


اسلام آباد:پاکستان سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا 9 مئی پر کسی کا ادارے نے احتساب کیا؟
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ پک اینڈ چوز کس طرح سے کیا گیا؟جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پک اینڈ چوز والی بات نہیں ہے، جو جرم ہوں اس کے مطابق دیکھا جاتا ہے، کیس نوعیت مطابق انسداد دہشت گردی عدالت یا ملٹری کورٹ میں بھیجا جاتا ہے۔
دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 8 (3) میں کیا ہے؟ کیا سویلین اس کے زمرے میں آتے ہیں؟ یہاں پر بات صرف فورسز کے ممبر کو ڈسپلن میں رکھنے کے لیے ہے،جہاں پر کلئیر ہو کہ یہ صرف ممبرز کے لیے وہاں پر مزید کیا ہونا ہے؟
دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی سویلین فوجی تنصیبات پر حملہ کرتا ہے تو اس کا اس سے کیا تعلق ہے؟
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے یہ صرف ممبرز کے لیے ہے اور اگر اس میں سویلین کو لانا ہوتا تو پھر اس میں الگ سے لکھا جاتا,73 کے آئین میں بہت سی چیزیں پہلے والے 2 آئینوں کی چیزیں ویسے کی ویسی ہی آ گئی ہیں، مارشل لا ادوار میں 1973 کے آئین میں بہت سی چیزیں شامل کی گئیں،
انہوں نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم کر کے مارشل لا ادوار کی چیزیں تبدیل کرکے آئین کو اصل شکل میں واپس لایا گیا، لیکن اس میں بھی آرمی ایکٹ کے حوالے سے چیزوں کو نہیں چھیڑا گیا۔
جس پر وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ اسلامی قانون میں حدود آرڈیننس کی سزا متعین کی جاتی ہے، جرم آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہوا یا نہیں، یہ بھی پک اینڈ چوز نہیں ہے، فیصل صدیقی نے اس کیس میں 1995 کے قانون کا حوالہ دیا تھا، ہمارا کیس 1995 میں فال ہی نہیں کرتا۔
خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ 2 (1)(ڈی) میں جرم کی نوعیت بھی بتا دی گئی ہے، آرمی ایکٹ میں جو جرائم اسپیسیفائے ہیں وہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں آتےہیں۔
جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا اگر سول جرائم بھی آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں آئیں تو سب کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو سکتا ہے؟ اغوا کی مثال لے لیں، اگر اغوا دہشت گردی کے مقصد سے کیا گیا ہو تو ٹرائل انسداد دہشت گردی قانون کے تحت چلے گا، اگر اغوا تاوان کے مقصد سے کیا گیا ہو تو وہ تعزیرات پاکستان کے تحت چلے گا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا آرمی ایکٹ میں ممبر ریلیٹیڈ ٹو آرمڈ فورسز ہے،اس کا کیا مطلب ہے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیےکہ جب کہہ دیا گیا کہ ممبر آف آرمڈ فورسز تو کیا بچ گیا؟خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ لا ریلیٹیڈ ٹو ممبر آف آرمڈ فورسز ایک مکمل قانون ہے. ممبر ریلیٹیڈ ٹو آرمڈ فورسز ایک پرویشن ہے مکمل قانون نہیں ہے، آئین ملٹری کورٹ کی کارروائی کی توثیق کرتا ہے، کورٹ مارشل آئینی طور پر تسلیم شدہ ہے، کورٹ مارشل زمانہ جنگ نہیں زمانہ امن میں بھی ہوتا ہے، جس پرجسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ خواجہ صاحب ایسا نہ ہو نمازیں بخشوانے آئے اور روزے گلے پڑ جائیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ سیکشن 2 (1) (ڈی) (ون) 1967 میں شامل کیا گیا، یہ سیکشن 1962 کے آئین کے نیچے بنایا گیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 202 کے تحت دو طرح کی عدالتیں ہیں، ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ ملٹری کا قانون آئین سے ٹکراتا ہے؟ ہمارا 1973 کا آئین بڑا مضبوط ہے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ فیئرٹرائل کورٹ مارشل کارروائی میں بھی ہوتا ہے، پریذائیڈنگ افسران قانونی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ملٹری کی 12، 13 تنصیبات پر حملے ہوئے. ملٹری تنصیبات پر وہ حملے سیکیورٹی کی ناکامی تھی،اس وقت ملٹری افسران کے خلاف کارروائی کی گئی تھی.،کیا 9 مئی پر کسی کا ادارے نے احتساب کیا؟جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا اس سوال کا جواب اٹارنی جنرل دیں گے۔
دوران سماعت خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے خواجہ حارث کا شکریہ ادا کیا۔
بعدازاں فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت 28 اپریل تک ملتوی کر دی گئی، اگلی سماعت پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان دلائل دیں گے۔

ایس او پیز کی خلاف ورزی: 7 اداکاراؤں اور ایک اداکار پر پنجاب بھر میں کام کرنے پر پابندی عائد
- 18 hours ago

مجھے سابق پولیس افسر شوہر نے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا،گرفتار پنکی کا بیان
- 15 hours ago

ایوانِ صدر میں فوجی اعزازات کی پروقار تقریب، افسران و جوانوں کو تمغوں سے نوازا گیا
- 18 hours ago

ایک دن کی کمی کے بعد سونا پھر مہنگا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 17 hours ago

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کیلئے پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا
- 19 hours ago

معروف مصنفہ، اور دانشور ڈاکٹر صائمہ شہزادی کی نئی کتاب "سلطنتِ عثمانیہ کا عروج و زوال" شائع کر دی گئی
- 21 hours ago

معروف ادیب اورمشہور کٹھ پتلی شو انکل سرگم کے خالق فاروق قیصر کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے
- 21 hours ago

پاکستان کا ایٹمی پروگرام رہتی دنیا تک اسکا دفاعی اثاثہ رہے گا،شہباز شریف
- 21 hours ago

ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں،دفتر خارجہ
- 21 hours ago

نامور شاعر ایس ایم صادق کو گراں قدر ادبی خدمات پر صدارتی اعزاز سے نواز دیا گیا
- 19 hours ago

آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
- 21 hours ago

لاہور میں ویب کون 2026 کا انعقاد:ورک پلیس پر صنفی عدم مساوات اور خواتین کی قیادت پرزور
- 16 hours ago










